ایک ہزار سے زیادہ امپورٹڈ گاڑیوں کی کلیئرنس دے دی گئی


وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت بدھ کو اقتصادی تعاون کمیٹی (ECC) کا ایک اجلاس منعقد ہوا کہ جس میں پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار پر نظر ثانی کی گئی۔ 

نظر ثانی کا مطلب ہے کہ کراچی کی بندرگاہ پر پھنسی ہوئی 1000 سے زیادہ گاڑیاں جلد ہی چھوڑ دی جائیں گی۔ 

اس وقت پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکس کی غیر ملکی زرِ مبادلہ کی صورت میں پاکستانی شہریوں یا مقامی وصول کنندگان کو بذاتِ خود ادائیگی ضروری ہے جس کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی مقامی کرنسی میں منتقلی کا ثبوت پیش کرنا پڑتا ہے۔ 

ECC نے امپورٹرز کو اجازت دے دی ہے کہ اگر زر مبادلہ کی رسید پانے کے بعد اور گاڑی کے حصول سے پہلے پاکستانی روپے کی قدر گھٹتی ہے یا حکومت امپورٹ ڈیوٹی اور/یا ٹیکس کو بڑھا دیتی ہے، جس کا نتیجہ قابلِ وصول ڈیوٹی اور ٹیکس کے لیے ادا کردہ رقم میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے تو امپورٹرز ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے لیے درکار غیر ملکی زر مبادلہ کی فراہمی میں کسی بھی کمی کو مقامی ذرائع سے پورا کر سکتے ہیں۔ 

ECC کا فیصلہ اِس وقت کراچی بندرگاہ پر پھنسی 1017 گاڑیوں کو کلیئر کر دے گا جو غیر ملکی زرِ مبادلہ کی عدم ادائیگی کے بغیر پہنچ گئیں یا ان کی ادا کردہ رقم روپے کی قدر میں کمی یا فائنانس ایکٹ 2019ء کے تحت ڈیوٹی کی شرح میں اضافے کی وجہ سے کم پڑ گئی۔ 

ECC کے مطابق نیا فیصلہ بندرگاہ پر پھنسی ہوئی گاڑیوں کو کلیئر کردے گا اور مزید گاڑیوں کے لیے جگہ بھی بن جائے گی۔ اس فیصلے کا بڑے عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا اور یہ بہت اچھا فیصلہ ہے گو کہ ایسا لگتا ہے کہ پھنسی ہوئی گاڑیوں  کو ایک مرتبہ چھوٹ کے لیے دی گئی اجازت بہتری کے بجائے الٹا نقصان دے رہی ہے۔ 

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Google App Store App Store
Awais Yousaf

I'm a crazy car guy. I want an aeroplane hangar full of cars. Is that too much to ask for?

Top