ایچ۔آئی۔ڈی“سے متعلق پانچ اہم طرین حقائق جانئیے

hid

مکمل ”ایچ۔آئی۔ڈی“یونٹس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ نہائیت ہی اعلیٰ اور سہولت کار ہیں بشر طیکہ مکمل طریقے سے لگائے گئے ہوں نہ کہ الگ سے۔وجہ یہ کہ، کیوں لوگوں کی ایک بڑی تعداد آگے اور پیچھے دونوں اطراف سے آنے والی گاڑیوں کی بدولت ’وقتی اندھے پن‘کا شکار کیوں ہوجاتی ہے۔ اس لئیے کہ ان گاڑیوں نے روائیتی ”ایچ۔آئی۔ڈی“بلب لگائے ہوتے ہیں نہ کہ مکمل ”ایچ۔آئی۔ڈی“یونٹس۔ یہاں میں ”ایچ۔آئی۔ڈی“سے متعلق اپنی تحقیق کوسوالات وجوابات کی صورت میں مرتب کرنے کی پوری آزادی رکھتا ہوں، جو شائد ”ایچ۔آئی۔ڈی“کے صحیح استعمال سے متعلق آگاہی میں مددگار ثابت ہو۔

کیا ”ایچ۔آئی۔ڈی“کی روشنی کی کوئی حد مقرر ہے؟

اس بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے،جیسا کہ میرے پاس اس پر تبصرہ کرنے کے لئیے کوئی ٹھوس چیزنہیں البتہ،   تک(سفید روشنی) ”بی۔ایم۔ڈبلیو“اور ”آڈی“میں استعمال ہوتی ہیں 4300 k روشن ترین ”ایچ۔آئی۔ڈی4100سے

  5000k-6000k پِھر ”انفینیٹی

فیکٹری فٹڈ”ایچ۔آئی۔ڈیز“کے ساتھ آتی ہے،  جو کہ  نیلے رنگ کا شائبہ دیتی ہیں مگر درحقیقت زیادہ روشن نہیں ہوتی۔  یہ بہت مشکل امر ہے کہ کوئی ایسی گاڑی بنانے والی کمپنی ہو جو6000سے تیزروشنی لگاتی ہو،  کیونکہ یہ حفاظتی مقاصدکو ضائع کرنے کے مترادف ہےاگرچہ کچھ لوگ بازار سے 8000یا اس سے بھی روشن ”ایچ۔آئی۔ڈیز“ لگواتے ہیں جس کی میرے نزدیک دو وجوہات  ہو سکتی ہیں

بناؤ سنگھار یا دِکھاوے کی غرض سے۔(یعنی اِسکی زیادہ نیلی ہیں /  یا اِسکی پرپل ہیں)۔  1

 غلط فہمی ہونا کہ تیز ترین روشنی ہی بہتر ہے۔  2

وہ گاڑیاں جو”ایچ۔آئی۔ڈیز“ رکھتی ہیں انکے ہیڈلیمپ روشنی کی شدت کو مدنظر رکھ کر مرتب کئے جاتے ہیں،جن کا اصل نام ”کیلیبریٹڈ پروجیکٹر لینز“ ہے۔

  تو، بازار سے لی گئی ”ایچ۔آئی۔ڈیز“ میں مسئلہ کیا ہے؟  وہ گاڑیاں جو بازار سے ”ایچ۔آئی۔ڈیز“لگواتی ہیں وہ بہت  زیادہ چمک پیدا کرتی ہیں، کیونکہ انکے ہیڈلیمپس ”ایچ۔آئی۔ڈیز“کے لئے موزوں نہیں ہوتے اس لئے وہ رواں دواں ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کے لئیے ’وقتی اندھے پن‘ کی وجہ بنتے ہیں۔یہاں آپ سوچ سکتے ہیں کہ پھر ان ”ایس۔یو۔وی گاڑیوں“کا کیا جو فیکٹری فٹڈ  ”ایچ۔آئی۔ڈیز“رکھتی ہیں؟وہ بھی تو بالکل ایسے ہی’وقتی اندھے پن‘ کا باعث بنتی ہیں۔درست جواب یہ ہے کہ انکی  بناوٹ اوراونچائی رکاوٹ بنتی ہے، یعنی روشنی کی شعاعیں اونچی جگہ سے پڑ تی ہیں اور کاروں کی اونچائی نہایت کم ہوتی ہے تو ”ایس۔یو۔ویز“سے نکلنے والی روشنی آپ کو اندھا کر دے گی۔ لیکن میں نے اس پر غور کیا ہے کہ اگر آپ مخالف سمت سے گزر جائیں تو یہ آپ کی آنکھوں پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوں گی۔

اگر آپ کسی تذ بذب کا شکار ہیں تو کوئی درآمد شدہ”ایس۔یو۔وی“ دیکھیں، جس میں فیکٹری فٹڈ  ”ایچ۔آئی۔ڈیز“نصب ہوں اس کے ہیڈلیمپ کو ایک طرف ہو کر دیکھیں آپکو روشنی میں اندھے پن کے اثرات دکھائی نہیں دیں گے۔ لیکن جب آپ چل کر اس رکی ہوئی گاڑی کے سامنے آکر جھک کر ہیڈلائٹ میں دیکھیں گے تو آپ یقینی طور پر’وقتی اندھے‘ ہوں گے۔ وہ گاڑیاں جو عام ہیڈلائیٹس یا بازاری ”ایچ۔آئی۔ڈیز“رکھتی ہوں ان کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا بلکہ آپ جس طرح سامنے سے’وقتی طور پر اندھے‘ ہوتے ہیں اطراف سے بھی ویسے ہی ہوں گے۔اس کی وجہ شیلڈز کی کمی ہے جو روشنی کے ہر طرف پھیلنے کا سبب بنتی ہیں۔

  کیا روشنی کی شدت اور رنگ کی حرارت  ”ایچ۔آئی۔ڈیز“کی بعض وجوہات میں شامل ہیں؟

تعلیمی اعتبار سے رنگ کی حرارت اور روشنی کی شدت دومختلف چیزیں ہیں۔ آپ2900کے کا بلب لے سکتے ہیں جو کہ 6000کے سے زیادہ روشن ہو گا۔ روشنی کا  اندازہ اور روشنی کی شدت”لومینس“ کے یونٹس میں ہوتی ہے۔ یو۔ایس۔ڈاٹ۔کے مطابق ایک  ”ایچ۔آئی۔ڈی“بلب تقریباً”3000  لومینس“مہیاء کرتا ہے، اس کا انحصار لیمپ اسمبلی پر بھی ہے، یو۔ایس۔ڈاٹ  کے مطابق کہیں بھی تیزروشنی حاصل کرنے کے لئیے کم شدت والے 800-1300 کے ہیڈلیمپس کی ضرورت ہوتی ہے، اور  ”ایچ۔آئی۔ڈی“کے لئیے2800-3200

زیادہ روشنی حاصل کرنے کے لئیے ”ایچ۔آئی۔ڈیز“کیوں بنائی جاتی ہیں؟

انکی ناپسندیدگی کی دو وجوہات ہیں:  روشنی، رنگ، اورچکاچوند پر قابویا اس میں کمی۔

زیادہ ترممالک میں قاعدے اور اختیارات کی کمی سمیت ”ایچ۔آئی۔ڈیز“کو تیار کرنے اور نصب کرنے کی مایوس کن پالیسیاں اس کا سبب ہیں۔ آپ یو۔ایس کی مثال لے لیں۔

٭   یو۔ایس۔ڈاٹ کے میعارکے مطابق، پوائینٹ سے روشنی کی ایک معقول مقدار فراہم کرنا ہے۔جو بھی ہو یورپیئین ممالک میں اس پر کافی حد تک کنٹرول ہے اور اس امر کو پشِ نظر رکھا گیا ہے کہ تمام’ایچ۔آئی۔ڈی‘کی روشنی ایک سی ہو، ہیڈلیمپ واشرز بھی اسی لئیے(روشنی کے پھیلاؤ ہی سے بچنے کے لئیے)ہیں، اور تمام گاڑیاں اس سے قطہ نظر ہو کرکہ ہیڈلیمپس کی اونچائی کیا ہے انکا ایک ہی جیسا بیم ڈراپ دینا ضروری ہے، پوری دنیا کے مقابلے جہاں زیادہ تر گاڑیاں ہیڈلیمپس سے وہی ایک جیسا ”xڈگری پر yفیٹ ڈراپ رکھتی ہیں۔مطلب یہ کہ انکی پھیلتی ہوئی بڑھتی ہوئی روشنی کم اونچائی والی گاڑیو ں کو متاثر کرتی ہے۔

 ٭ دوسری وجہ رنگ ہے۔ درحقیقت نوے کی دہائی ہیں جب پہلی مرتبہ’ایچ۔آئی۔ڈی۔لائیٹس متعارف ہوئی تھیں تو نیلا رنگ بہت جارحانہ تھا۔یہ ایک خودساختہ چیز تھی جو کہ میعاری گاڑیوں میں استعمال ہوتی تھی۔ مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ نے دوسری لائیٹس پر انہیں ترجیح دی تھی تاکہ یہ دیکھنے میں اچھی اور منفرد لگیں۔اس کے بعد ایک بار پھر روشن ترین، مہنگی، اور اووروں سے اچھی،  والی سوچ نے جنم لیا۔

اوپر تمام تر تفصیلات فیکٹری فٹڈ ’ایچ۔آئی۔ڈیز‘ کے بارے میں بیان کی گئی ہیں، عام مارکیٹ ہیں دستیاب لائیٹس کا کیا؟  میں ان لائیٹ بنانے والی کمپنیز اورانکے میعار پر کسی قسم کی پوچھ گچھ نہ کرنے پر موجودہ اتھارٹی اور وقتِ حکومت سے بہت ناامید ہوں، یہی وجوہات ’چکاچوند، مہنگی، اور دوسروں سے اچھی‘والی سوچ کو جنم دیتی ہیں۔جو کہ بعد میں بے راہ روی اور تباہی کا بائث بنتی ہے۔اس بات کا تعین ضروری ہے کے ایک شخص کے ’ایچ۔آئی۔ڈیز‘پر کتنے اخراجات آنے چاہیے، ان میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کہ مکمل’ایچ۔آئی۔ڈی‘یونٹ کے اخراجات برواشت ہی نہیں کر سکتے۔ یہ آپکے لئیے حیرانگی کا سبب ہے کہ بناکیلیبریٹڈلینزز کے ’ایچ۔آئی۔ڈی‘بلب لگکوانا بے مقصد ہے۔ اس سب کے باوجودمکمل‘ایچ۔آئی۔ڈی‘کا مقصد بہترین اور محفوظ روشنی کی فرہمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ’ایچ۔آئی۔ڈیز‘کے لئیے مارکیٹ جاتے ہیں تو آپکو کافی آپشنز کا سامنا ہوتا ہے۔

٭ ایک ذہنیت یہ کہ ”دیکھو میری نیلی روشنی ہے اور اچھا خاصا خرچ کیا ہے

٭ایک ذہنیت یہ کہ ”خرچ، انجینئرنگ اور سوچ  =  مکمل ایچ آئی ڈی اور رات کو دیکھنے کے بہترین نتائج۔

مزے کی بات یہ کہ، گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے ہیڈلیمپس کے ساتھ تیز روشنی مہیا کی ہے اور پہلے سے موجودایچ۔آئی۔ڈی‘بھی یہ سب ایک ہی پراڈکٹ میں موجود ہیں، جو نیلے، سبز اور پرپل رنگ میں ظاہر ہو سکتی ہیں، (جن سے آپ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں سوائے سر کے)،  جو کہ ڈِفریکشن کی بدولت ہے۔ یہاں تک کہ اچھے ’ایچ۔آئی۔ڈی‘ یونٹس(مثلاً2001 + بی۔ایم۔ڈبلیو۔سیریز3)ڈِفریکشن کی وجہ سے سفید اور نیلے رنگ کا ایکسیز ظاہر کرتی ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ کچھ میکرز نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ لائیٹس کے اوپر کونے میں نیلے رنگ کا فرنج ڈرائیور اور دوسروں کوبہترین لائیٹ سورس کے بارے میں جاننے ہیں مدد دیتا ہے۔اور یوں نیلے فرِنج کا حجم بڑھاتا ہے۔

اوپر بیان کی گئی کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ، ٹھیک طرح سے لگائی گئی ’ایچ۔آئی۔ڈی‘اسمبلی کا کوئی جوڑ نہیں، لیکن بہت کم گاڑیاں اس میعار کو پورا کر پاتی ہیں۔

سورس“ اور”فلامینٹ“ میں  فرق؟

   زیادہ تر لوگ یہ بات نہیں جانتے یا  اِسے نظر انداز کرنا پسند کرتے ہیں کہ فلامینٹ کے استعمال ”ایچ۔آئی۔ڈی“ بلب اور ”ہیلوجن“بلب میں بالکل مختلف ہیں۔ قابل ذکربات ہے کہ ان میں سے نکلنے والے (چاہے وہ ”ایچ۔آئی۔ڈی“کے بلب کا کیپسول ہو یا ہیلوجن کا فلامینٹ) سورس میں بھی خاطر خواہ فرق ہے۔

آپ شاید  حیران ہوں کہ اتنی واضح حقیقت بتانے کے پیچھے وجہ کیا ہے۔ جی، تو اسے اور آسان کئیے دیتا ہوں، یہ فرق لائیٹ بیم کی شکل اور پھیلاؤ تبدیل کرتا ہے جس مقصد کے لئیے آپ کی ہیڈلائیٹ بنائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک تیز فلاش لائیٹ لیں، جیسے جیسے آپ اسے ہلائیں گے اور مرکز سے دور اورنزدیک کریں گے بیم میں تبدیلی آئے گئی۔

اس موقع پر آپ میں سے کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے”شاید میں اس چکاچوندروشنی سے بچنے کے لئیے ہیڈلائیٹس نیچے کرسکتا ہوں ” درست پھر آپ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ”ایچ۔آئی۔ڈی“کٹ لگوانے کا مقصد کیا ہے؟  جہاں تک میں جانتا ہوں، ”ایچ۔آئی۔ڈی“بلب کا مقصد اندھیرے میں زیادہ دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہوئے کہ آپکی لائیٹ سے نکلنے والی روشنی اِس سے زیادہ بہتر ہے اورہیڈلائیٹس نیچے کی طرف کرتے ہیں تو آپ  اپنی آنکھوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ آپکی آنکھیں تیز روشنی میں خودبخود ٹھیک ہو جائیں گی، اگر آپ کبھی دن کی روشنی سے کسی اندھیرے کمرے میں داخل ہوں توآپ جائزہ لیں گے کہ آپکی آنکھیں اس تبدیلی کو قبول کرنے میں کچھ وقت لیں گی۔ اس وقت آپکی آنکھیں تیز روشنی کے مطابق ہوتی ہیں۔ اس لئیے کم روشنی میں دیکھ پانا مشکل ہوتا ہے چاہے وہ کچھ فاصلہ ہو، یا سڑک کا دوسرا کنارہ۔ یہ صحیح معنوں میں آپکی دیکھنے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے اورآپکو کسی مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے، جیسا کہ کوئی جانور سڑک عبور کررہا ہو۔

کیا”ایچ۔آئی۔ڈی“بلب کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟

نقطہ نظر کے مطابق دیکھیں تو، امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق عمررسیدہ لوگوں کی آنکھیں جوان لوگوں کے مقابلے میں تیزروشنی کی شدت سے متاثرہونیکے بعدبحالی میں آٹھ گنا زیادہ وقت لیتی ہیں۔ اس امر کی بھی کافی گنجائش موجود ہے کہ گاڑی میں بیٹھے یہ تیزچمک آپ پر اثرانداز ہی نہ ہو۔ تاہم کہانی یہاں دوسرا رخ لیتی ہے جب آپ سامنے سے آنے والی ٹریفک کے مقابل اپنی ہیڈلائٹ سے نکلنے والی چمک کو ضرب دیتے ہیں۔تو ایک عام 55 واٹ ہیلوجن بلب 1000”لومینس“  پیداکرتا ہے، اس کے مقابلے 35واٹ ایچ۔آئی۔ڈی  بلب 2800 ”لومینس“پیدا کرتا ہے۔ یعنی آپ کی گاڑی کی ہیڈلاثٹس تقریباًتین گنا زیادہ چمک پیدا کر رہی ہیں۔

اور پھر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عام ہیڈلیمپس ’ایچ۔آئی۔ڈی‘بلب سے نکلنے والی گرمی کوبرداشت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے اس طرح ان کا استعمال ہیڈلیمپس کے پگھلنے اور گاڑی کے الیکٹرانکس میں شارٹ سرکٹ ہونے کا باعث بھی بنتا ہے۔

Abdul Hanan

Hanan is an avid auto enthusiast with a flair for writing and playing games. He loves traveling, deciphering political maneuvering and exploring the realms of coding & graphic designing.

Top