رواں مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں کاروں کی فروخت میں 44 فیصد کمی: پاما کے اعداد و شمار


آٹو سیکٹر کا زوال بدستور جاری ہے اور پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں کاروں کی فروخت میں 44.06 فیصد کمی آئی ہے۔ 

پاکستان کی آٹو انڈسٹری اس وقت برے حالات سے گزر رہی ہے اور مالی سال ‏2019-20ء‎ میں تو حالات بدتر ہوگئے ہیں۔ کاروں کی فروخت پچھلے مہینوں کے مقابلے میں اکتوبر 2019ء سب سے زیادہ کمی کا شکار ہوئی۔ پچھلے مہینے میں کے دوران کاروں کی فروخت پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55.16 فیصد کم ہوئی۔ 

اس صورت حال کا پہلے سے خدشہ تھا کیونکہ سال کے اختتام پر سیلز میں ویسے ہی کمی آ جاتی ہے۔ سال کے آخری دو مہینوں میں موجودہ صورت حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ مجموعی طور پر فروخت کے اعداد و شمار مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چار مہینوں میں 44 فیصد تک کم ہوئے ہیں اگر اس کا تقابل پچھلے سال کے اسی عرصے سے کیا جائے تو۔ آٹو سیکٹر مارکیٹ میں موجود آٹوموٹو مصنوعات کی ناقابلِ یقین حد تک بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے جدوجہد کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ 

پچھلے سال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تیزی سے آنے والی کمی کی وجہ سے آٹومینوفیکچررز نے بارہا اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ مزید یہ کہ حکومت نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) جیسے نئے ٹیکس گاڑیوں پر لگائے کہ جن سے قیمتیں مزید بڑھ گئی۔ دوسری جانب اکتوبر 2019ء میں موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بھی 13.20 فیصد کمی آئی ہے۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چار ماہ میں موٹر سائیکلوں کی فروخت میں پچھلے سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 16.31 فیصد کمی آئی ہے۔ واضح رہے کہ اس تحریر میں موجود تمام اعداد و شمار PAMA کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔ 

جیسا کہ ہم نے پچھلے مہینے کے اعداد و شمار میں بات کی تھی، ہونڈا اٹلس موجودہ صورت حال میں دیگر اداروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے آٹومیکر ہے۔ 1300cc یا اس زیادہ کی کارون کی فروخت نے بھی ظاہر کیا ہے کہ ہونڈا کی سوِک اور سٹی کی مجموعی فروخت میں اس عرصے میں 70.19 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کے بعد سوزوکی سوئفٹ کی باری ہے جس کی فروخت میں 63.25 فیصد کا زوال آیا۔ ٹویوٹا کرولہ اس فہرست میں تیسرا نام ہے جس کی فروخت میں مذکورہ بالا عرصے میں 60.21 فیصد کی کمی آئی۔ مالی سال ‏2019-20ء‎کے دوران 1300cc اور اس سے زیادہ کی کاروں کی کل فروخت جولائی سے اکتوبر کے عرصے میں 64.81 فیصد کم ہوئی ۔ مکمل اعداد و شمار کے لیے یہ ٹیبل دیکھیں: 

پاکستان میں مقامی طور پر بننے والی 1000cc کی کاروں میں پاک سوزوکی کے دو ماڈلز کلٹس اور ویگن آر شامل ہیں۔ البتہ کوریائی آٹو مینوفیکچرر کِیا بھی اپنی 1000cc ہیچ بیک پکانٹو کے ذریعے اس شعبے میں آیا ہے جو پاک سوزوکی کی اِن گاڑیوں کی براہ راست مقابل ہے۔ 

جب سے جاپانی آٹومینوفیکچرر نے اپنی نئی 660cc آلٹو لانچ کی ہے، ویگن آر کی فروخت بدترین حالات سے دوچار ہوگئی ہے۔ ویگن آر اِس سال کی شروعات تک لوکل سیکٹر میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہی تھی۔ اب اس کی فروخت مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چار مہینوں میں 75.97 فیصد کی کمی کے ساتھ بدترین حالت تک پہنچ چکی ہے۔ اکتوبر کا مہینہ ویگن آر کی فروخت کے لیے سب سے بُرا رہا کہ جس میں سال بہ سال کی بنیاد پر 84.12 فیصد کمی آئی۔ دوسری جانب سوزوکی کلٹس ہیچ بیک کے شعبے میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، لیکن اس کی فروخت بھی مذکورہ عرصے میں 33.92 فیصد کم ہوئی۔ مجموعی طور پر 1000cc مسافر کاروں کے شعبے میں سیلز 59.50 فیصد کم ہوئی ہے، جو نچلے ٹیبل سے ظاہر ہے۔ 

1000cc سے نیچے کے شعبے میں جولائی سے اکتوبر کے عرصے کے دوران سوزوکی بولان کی فروخت میں 72.19 فیصد کی زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ سوزوکی آلٹو اس عرصے میں بدستور مقامی صنعت کی سب سے بہترین کارکردگی دکھانے والی کاروں میں شامل ہے۔ اپنی لانچ کے بعد سے اب تک کمپنی اس کے ہر ماہ 4,000 سے زیادہ یونٹس فروخت کر رہی ہے۔ 660cc آلٹو نے پاک سوزوکی کی سیلز کی آگے بڑھایا ہے اور اس کے سفر کو کسی حد تک جاری رکھا ہے۔ ورنہ کمپنی کی فروخت کا حال بہت ہی برا ہوتا۔ پاک سوزوکی سال کے ابتدائی چار مہینوں میں اب تک اس کے 16, 991 یونٹس فروخت کر چکا ہے۔ 

اکتوبر 2019ء میں مسافر کاروں کی فروخت میں مجموعی طور پر 55.16 فیصد کمی آئی ہے، اگر اس کا تقابل پچھلے سال سے کریں تو۔ مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں مقامی آٹو مینوفیکچررز نے صرف 40,586 یونس فروخت کیے جبکہ پچھلے سال 72,563 یونٹس بیچے گئے تھے، یعنی 44.06 فیصد کی کمی۔ 

اس وقت ملک میں گاڑیاں بنانے والے تین بڑے ادارے ہیں پاک سوزوکی، ٹویوٹا انڈس اور ہونڈا اٹلس۔ البتہ آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی (ADP) ‏2016-2‎1ء‎ کے تحت نئے کھلاڑی بھی میدان میں آ چکے ہیں۔ ہونڈا اٹلس اِن چار مہینوں میں کاروں کی فروخت میں تقریباً 68 فیصد فروخت کی کمی کا شکار ہوا کہ جس کے بعد ٹویوٹا انڈس اور پاک سوزوکی کی کاروں کی فروخت میں بالترتیب 58 فیصد اور 30 فیصد کمی ہوئی۔ 

مندرجہ ذیل اعداد و شمار ملک میں کام کرنے والے ان تین جاپانی اداروں کی فروخت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں۔ 

آلٹو – پاک سوزوکی کی فروخت کا اصل محرّک 

پاک سوزوکی مقامی ہیچ بیک شعبے میں زبردست موجودگی رکھتی ہے۔ موجودہ اقتصادی بحران میں کمپنی کے تمام ماڈلز کو فروخت میں کمی کا سامنا ہے۔ بلاشبہ 660cc آلٹو کی آمد نے ملک میں کمپنی کے قدم جمائے ہیں۔ 

آلٹو کی فروخت کو ایک طرف رکھ دیں تو کمپنی صرف 13,129 یونٹس ہی فروخت کر پائی۔ کمپنی نے پہلے چار مہینوں میں آلٹو کے 16,991 یونٹس بیچے، جو کمپنی کی مجموعی سیلز سے بھی زیادہ ہیں۔ بولان اور راوی کی فروخت میں اس عرصے میں بالترتیب 72.19 اور اور 65.90 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ سوئفٹ کی فروخت میں 63.25 فیصد کی بڑی کمی آئی۔ دوسری جانب ویگن آر کو اکتوبر 2019ء کے دوران فروخت میں 84.12 فیصد کی زبردست کمی ہوئی جس کا نتیجہ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چار مہینوں میں کمپنی کی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہونے والی ہیچ بیک کی سیلز میں 75.97 فیصد کی مجموعی کمی آئی۔ 

سوزوکی کلٹس کو کم نقصان کا سامنا رہا کہ جس کی فروخت اس عرصے میں 33.92 فیصد کم ہوئی۔ کمپنی کی کاروں کی مجموعی فروخت جولائی-اکتوبر عرصے میں 29.81 فیصد کمی کا شکار ہوئی۔ 

ٹویوٹا انڈس کی فروخت میں بھی مسلسل کمی: 

ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی (IMC) کو بھی اِس صورت حال میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی مجموعی فروخت کو جولائی سے اکتوبر کے دوران پچھلے سال کے مقابلے میں 57.83 فیصد کمی کا سامنا رہا۔ کمپنی کی سیلز کا زیادہ تر انحصار اس کی مشہور سیڈان کرولا پر ہے۔ البتہ آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی وجہ سے کرولا کی کشش اب ختم ہو چکی ہے، اور اس کی فروخت اِس عرصے میں 60.21 فیصد کم ہوئی ہے، جو کمپنی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ 

وہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں فروخت ہونے والے 18،814 یونٹس کے مقابلے میں اِس سال صرف 7،485 یونٹس بیچ پایا ہے۔ آٹو میکر جولائی سے اپنی پیداوار گھٹانے پر بھی مجبور ہوا اور اب تک 50 غیر پیداواری دنوں (NPDs) کا سامنا کر چکا ہے۔ کمپنی مارکیٹ میں کم طلب کی وجہ سے نہ فروخت ہونے والی کاروں کی انوینٹوریز رکھتا ہے۔ رواں مہینے میں IMC نے اپنے اخراجات کو کم کرنے کے لیے صرف ایک شفٹ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ SUV فورچیونر اور ہائی لکس کی فروخت بھی اس عرصے کے دوران پچھلے سال کے مقابلے میں بالترتیب 57.52 اور 37.16 فیصد کم ہوئی۔ تفصیلات کے لیے نیچے دیا گیا ٹیبل دیکھیں: 

کاروں کی بڑھتی ہوئی قیمت اور مقامی مارکیٹ میں گھٹتی ہوئی فروخت کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان ہونڈا اٹلس کارز پاکستان لمیٹڈ (HACPL) کا ہو رہا ہے۔ ہونڈا اٹلس اپنے دو مقبول ماڈلز کی فروخت پر انحصار کرتا ہے یعنی سوِک اور سٹی پر۔ کمپنی اب تک ان دونوں کاروں کی علیحدہ علیحدہ فروخت کے اعداد و شمار ظاہر نہیں کرتی۔ سوِک اور سٹی کی مجموعی فروخت جولائی تا اکتوبر کے عرصے میں 4،961 رہی جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 16،643 تھی۔ یعنی سوِک اور سٹی کی مجموعی فروخت میں 70.19 فیصد کی بڑی کمی آئی۔ 

آٹومیکر نے حال ہی میں اپنی ایس یو وی BR-V کا فیس لفٹ ماڈل جاری کیا ہے، جس نے پچھلے مہینے اس کی فروخت کو بحال کرنے میں مدد دی۔ البتہ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چار مہینوں میں BR-V کی مجموعی فروخت 51.70 فیصد تک کم رہی۔ 

ہونڈا اٹلس کارز کی کل فروخت اس عرصے میں 5،838 یونٹس ریکارڈ کی گئی جو پچھلے سال 18،459 یونٹس تھی، یعنی اس میں 68.37 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آٹومیکر جولائی سے غیر پیداواری ایام (NPDs) کا سامنا کر رہا ہے اور ان کی کل تعداد جولائی سے نومبر کے دوران 85 دنوں تک پہنچ چکی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں نومبر 2019ء میں صرف سات دن کام کرنے کا اعلان کیا، جو جاپانی ادارے کے لیے ایک خطرناک صورت حال ہے۔ 

ٹرکوں اور بسوں کی فروخت آدھی رہ گئی: 

PAMA کے جاری کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان چار مہینوں میں ٹرکوں گی فروخت آدھی رہ گئی ہے۔ پچھلے سال کے 2,353 کے مقابلے میں اس بار صرف 1,110 یونٹس فروخت ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پچھلے سال کے 310 یونٹس کے مقابلے میں اس بار بسوں کے 259 یونٹس فروخت ہوئے ہیں، یعنی 16.45 فیصد کی کمی۔ مجموعی طور پر اس شعبے میں 51.40 فیصد کی کمی آئی ہے۔ 

LCVs، وینز اور جیپوں کی فروخت میں نصف سے زیادہ کمی: 

اس بحران میں لائٹ کمرشل گاڑیوں، وینز اور جپیوں کی فروخت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ فورچیونر اور BR-V کی فروخت میں بالترتیب 57.52 اور 51.70 فیصد کمی آئی۔ اس عرصے میں کل 1,244 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ پچھلے سال 2,680 یونٹس فروخت ہوئے تھے یعنی 53.58 فیصد کی کمی آئی۔ 

پک اپس: 

تمام شعبوں کی طرح پک اپس کے شعبے نے بھی مشکل وقت دیکھ ہے۔ پک اپس کی مجموعی فروخت میں 54.68 فیصد کمی آئی، جس میں سوزوکی راوی کی فروخت سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ اس عرصے میں اس کی فروخت میں 65.90 فیصد کمی آئی، جو پک اپ کیٹیگری کی گاڑیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ ہائی لکس اور JAC نے بالترتیب 37.16 اور 40.83 فیصد کی کمی دیکھی۔ 

ٹریکٹروں کی فروخت میں 39 فیصد کی کمی: 

پاکستان میں تمام برانڈز کے ٹرویکٹروں میں سے میسی فرگوسن کو مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چار مہینوں میں سب سے زیادہ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی نے پچھلے سال کے اسی عرصے کے 13,830 یونٹس کے مقابلے میں اِس مرتبہ صرف 6,823 یونٹس فروخت کیے۔ یہ میسی فرگوسن کے ٹریکٹروں کی فروخت میں 50.66 فیصد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب اورینٹ IMT اور فیئٹ کو بالترتیب 16.03 اور 12.99 فیصد کی کمی کا سامنا رہا۔ جولائی سے اکتوبر کے عرصے میں مجموعی طور پر ٹریکٹروں کی فروخت میں 38.96 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 

موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 16.31 فیصد کی کمی: 

گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کے لیے مقامی مارکیٹ میں کوئی آپشن نہیں چھوڑا۔ اس صورت حال میں عوام شہر کے اندر سفر کے لیے موٹر سائیکلیں خریدنے پر مجبور ہیں۔ البتہ موٹر سائیکلوں کی قیمتیں بھی پچھلے سال کے مقابلے میں بہت بڑھ چکی ہیں۔ آٹو سیکٹر کا یہ شعبہ بھی ان دنوں مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بھی کمی آ گئی ہے۔ پاکستان میں موٹر سائیکلیں بنانے والا سب سے بڑا ادارہ اٹلس ہونڈا بھی مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے چار مہینوں میں 10.31 فیصد کی کمی کا دھچکا سہہ چکا ہے۔ کمپنی اس عرصے میں اپنی موٹر سائیکلوں کے 3,35,134 یونٹس فروخت پر پایا جبکہ پچھلے سال 3,73,698 یونٹس بیچے تھے۔ سوزوکی، یونائیٹڈ اور روڈ پرنس کی فروخت میں بھی اس عرصے میں بالترتیب 13.15 فیصد، 24.48 فیصد اور 34.62 فیصد کی کمی آئی ہے۔ صرف یاماہا نے ان چار مہینوں میں کچھ بہتری دکھائی ہے کہ جس نے پچھلے سال کے 8،406 یونٹس کے مقابلے میں اِس مرتبہ 8،707 یونٹس فروخت کیے۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے ان چار مہینوں میں مجموعی طور پر موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 16.31 فیصد کی کمی آئی ہے۔ 

مقامی آٹو سیکٹر کی بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ سال 2019ء اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس عرصے میں فروخت کا حجم عموماً کم ہوتا ہے۔ پھر آٹو مینوفیکچررز بھی اپنی فروخت کو کسی حد تک بڑھانے کے لیے گاڑیوں کی قیمتیں گھٹانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ مزید یہ کہ حکومت کو بھی غیر ضروری ٹیکس ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ جس نے گاڑیوں کی فروخت کو متاثر کیا۔ البتہ پچھلے چار مہینوں میں مقامی کرنسی کسی حد تک بہتر ہوئی ہے جس سے معاشی صورت حال بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ آٹو سیکٹر مالی سال کی دوسری و آخری ششماہی میں کچھ سکھ کا سانس لے گا۔ 

اپنی قیمتی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ آٹوموبائل انڈسٹری کی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز کے ساتھ رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top