مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے پانچ مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں 44.1 فیصد کمی آئی: پاما کے اعداد و شمار


پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) نے نومبر 2019ء کے لیے اپنے اعداد و شمار ظاہر کر دیے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کاروں کی فروخت میں ایک مرتبہ پھر کمی کا رحجان سامنے آیا ہے کہ جو 44 فیصد تک کم ہوئی ہے، جبکہ موٹر سائیکلیں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1.59 فیصد زیادہ فروخت ہوئی ہیں۔ 

مالی سال ‏2019-20ء کا ایک اور مہینہ گزر گیا اور آٹو سیکٹر کا زوال بدستور جاری ہے ۔ نومبر 2019ء کے دوران کاروں کی فروخت 44.41 فیصد کے بڑے فرق کے ساتھ نیچے گئی ہے، جو پچھلے مہینے کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ اس کے ساتھ ہی مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے پانچ مہینے بھی مکمل ہوئے اور PAMA کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کاروں کی فروخت میں جولائی سے نومبر 2019ء کے دوران 44.12 فیصد کمی آئی ہے۔ سال کے آخری چند مہینوں میں کاروں کی فروخت کا رحجان ویسے ہی کم ہوتا تھا کیونکہ سال کے اختتام پر خریداری ذرا کم ہی ہوتی ہے۔ صارفین ماڈل سال کی تبدیلی کا انتظار کرتے ہیں اور نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر کاروں کی فروخت بڑھ جاتی ہے۔

البتہ پچھلا سال پاکستان کے آٹو سیکٹر کے لیے بہت مشکل سال رہا ہے ملک میں اقتصادی سُست روی کے عمل کی وجہ سے۔ پچھلے سال کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی سے گاڑیوں کی قیمتوں میں 30 فیصد سے بھی زیادہ کا ڈرامائی اضافہ ہوا کہ جس کا نتیجہ مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی فروخت میں واضح کمی کی صورت میں نکلا۔ 

پھر حکومت کی جانب سے متعدد ایڈیشنل ٹیکسز اور ڈیوٹیاں لگانے سے بھی گاڑیوں کی قیمتوں پر منفی اثر پڑا۔ یہ آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں صارفین کی اکثریت کی حیثیت سے کہیں زیادہ ہیں۔ نتیجتاً مقامی مارکیٹ میں موجودہ بلکہ نئے ادارے بھی زبردست نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کا ذخیرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ موٹر سائیکل کی فروخت چند مہینوں کے بعد بالآخر اضافے کی جانب جاتی نظر آ رہی ہے۔ نومبر 2019ء میں موٹر سائیکلوں کی فروخت میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1.59 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ البتہ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے ابتدائی پانچ مہینوں کو دیکھیں تو موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں 14.35 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار PAMA کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔

پچھلی کچھ دہائیوں سے پاکستان کے مقامی آٹو سیکٹر پر بڑے پیمانے پر تین جاپانی اداروں کا غلبہ ہے یعنی سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا۔ البتہ آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی (ADP) ‏2016-21ء‎ متعارف کروائے جانے کے بعد سے حالات کچھ تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں کہ جو نئے اداروں کو ٹیکس میں رعایتیں دے رہی ہے۔ تب سے کئی نئے ادارے مقامی صنعت میں قدم رکھ چکے ہیں لیکن موجودہ صورت حال ان میں سے کسی کے لیے بھی حوصلہ افزاء نہیں۔ پچھلے کچھ مہینوں کی طرح ہونڈا اٹلس کو نومبر 2019ء میں برے حالات کا سامنا رہا۔ وہ لوکل مارکیٹ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ادارہ رہا کہ جس کو نومبر 2019ء میں تقریباً 62 فیصد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد ٹویوٹا انڈس اور پاک سوزوکی رہے، کہ جنہوں نے بالترتیب 55 اور 31 فیصد کا نقصان اٹھایا۔ 

1300cc اور اس سے زیادہ کی مسافر کاروں کی فروخت پچھلے کچھ مہینوں سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مقامی مارکیٹ میں ہونڈا سوِک اور ہونڈا سٹی کی فروخت کو اس عرصے میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ کمپنی ان دونوں کاروں کے الگ الگ اعداد و شمار جاری نہیں کرتی۔ نومبر 2019ء میں مشترکہ طور پر دونوں گاڑیوں کے 1074 یونٹس فروخت ہوئے جو پچھلے سال کے 3152 یونٹس کے مقابلے میں 65.92 فیصد کی کمی ہے۔ 

دوسری جانب سوزوکی سوئفٹ اپنی مقابل کاروں کے سامنے بدستور پیچھے رہی۔ کمپنی کی جانب سے سوئفٹ کے محض 184 یونٹس ہی فروخت کیے جا سکے، جو نومبر 2018ء کے 317 یونٹس کے مقابلے میں 41.95 فیصد کی کمی ہے۔ ٹویوٹا کرولا معیشت سکڑنے سے قبل مقامی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ماڈل تھا۔ ٹویوٹا کو اپنے کرولا ویرینٹس کی فروخت میں 56.18 فیصد کی بڑی کمی کا دھچکا سہنا پڑا ہے۔ جاپانی آٹو میکر نومبر 2019ء کے دوران کرولا کے صرف 2172 یونٹس فروخت کر پایا، جبکہ پچھلے سال کےاس نے 4957 یونٹس فروخت کیے تھے۔ اس مخصوص کیٹیگری میں مسافر کاروں کی فروخت میں مالی سال ‏2019-20ء‎ کے ابتدائی پانچ مہینوں میں تقریباً 64 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جو بنیادی طور پر ہائی-اینڈ کاروں کی بھارتی قیمتوں کی وجہ سے ہوئی۔ مکمل اعداد و شمار کے لیے ذیل میں دیا گیا ٹیبل دیکھیں:

جہاں تک 1000cc کی کیٹیگری کا تعلق ہے تو اس میں صرف دو کاریں ہیں کلٹس اور ویگن آر۔ تیسری جو اب شامل ہو رہی ہے وہ حال ہی میں لانچ کی گئی کِیا پکانٹو ہے۔ پاک سوزوکی پچھلے مہینے میں کلٹس کے 914 اور ویگن آر کے 641 یونٹس فروخت کر پایا جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں اس نے بالترتیب 1545 اور 2113 یونٹس بیچے تھے۔ کلٹس اور ویگن آر کی فروخت میں آنے والی کمی اس عرصے میں 40.84 اور 69.66 فیصد دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر اس کیٹیگری میں کاروں کی فروخت میں نومبر 2019ء کے دوران 57.49 فیصد کی کمی آئی۔ ویگن آر جو پاک سوزوکی کا ہاتھوں ہاتھ فروخت ہونے والا ماڈل رہا ہے، اب اِس مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں میں تقریباً 75 فیصد کا زوال سہہ چکا ہے۔ 

1000cc سے کم کی مسافر کاروں کی فروخت میں بھی کمی کا رحجان ہے۔ سوزوکی کی مشہورِ زمانہ مہران کے خاتمے نے کمپنی کی مجموعی فروخت پر اثر ڈالا ہے کیونکہ اُس کار کی جگہ اب آلٹو 660cc نے لے لی ہے۔ انٹری لیول کی یہ ہیچ بیک اپنے آغاز سے ہی کمپنی کی فروخت کا اہم محرّک ہے۔ کمپنی ہر مہینے تسلسل کے ساتھ آلٹو کے 4000 سے زیادہ یونٹس فروخت کر رہی ہے۔ البتہ پچھلے مہینے اس کی فروخت میں بھی کمی آئی ہے۔ پاک سوزوکی نومبر 2019ء کے دوران آلٹو کے 2967 یونٹس فروخت کر پایا۔ دوسری جانب سوزوکی بولان کو اس عرصے میں 57.75 فیصد کی کمی کا سامنا رہا، جس کے پچھلے سال کے 1051 یونٹس کے مقابلے میں اس بار 444 یونٹس ہی فروخت ہو پائے۔ 

نومبر 2019ء کے دوران 2018ء کے اسی مہینے کے مقابلے میں مجموعی طور پر 44.41 فیصد کی کمی آئی۔ اسی طرح رواں مالی سال کے جولائی تا نومبر کے عرصے میں صرف 49,110 یونٹس فروخت ہو پائے جبکہ مالی سال ‏2018-19ء‎ کے اسی عرصے میں 87,897 یونٹس کی زبردست فروخت ہوئی تھی۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے پانچ مہینوں نے کاروں کی فروخت میں 44.12 فیصد کی کمی دیکھی۔ 

جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ پچھلے چند مہینوں میں تینوں جاپانی اداروں کو برے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہونڈا اٹلس، ٹویوٹا انڈس اور پاک سوزوکی دونوں کی فروخت میں مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے پانچ مہینوں میں بالترتیب 67.40 فیصد، 56.63 فیصد اور 30.06 فیصد کی کمی آئی ہے۔ آئیے، لوکل مارکیٹ کے ان آٹو میکرز میں سے ہر کسی کی فروخت کے اعداد و شمار الگ الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ 

آلٹو کو اپنی لانچ سے اب تک کی سب سے کم فروخت کا سامنا: 

پاک سوزوکی اپنی انٹری-لیول اور مِڈ -رینج کی کاروں کی وجہ سے ملک میں کاروں کی مجموعی فروخت کا اہم حصہ دار ہے۔ البتہ 30 سال پرانی مہران کے خاتمے نے کمپنی کی مستقبل کی فروخت پر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ پاک سوزوکی کا یہ مشہور ماڈل لوکل مارکیٹ میں کمپنی کی مجموعی کار فروخت کا بڑا حصہ رکھتا تھا۔ آٹومیکر نے مہران کے متبادل کی حیثیت سے فوری طور پر 660cc آلٹو پیش کی، جس نے مایوس نہیں کیا۔ اپنے آغاز سے اب تک ہر مہینے میں کمپنی نے اس کے 4000 سے زیادہ یونٹس بیچے، سوائے اگست 2019ء کے کہ جس میں آلٹو کے 3435 یونٹس ہی فروخت ہو پائے۔ 

نومبر 2019ء میں آلٹو کی فروخت مزید کم ہوتے ہوئے 2967 یونٹس تک جا پہنچی۔ دوسری جانب بولان اور راوی کی فروخت میں اس عرصے کے دوران بالترتیب 57.75 فیصد اور 55.83 فیصد کی کمی آئی۔ ویگن آر کی فروخت پر بھی آلٹو نے اثر ڈالا ہے کیونکہ اب یہ ایک سال پہلے کی ویگن آر قیمت پر ہی آ رہی ہے۔ زیادہ تر صارفین مارکیٹ میں نئی آنے والی کار کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔ ویگن آر عموماً رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کی جانب سے استعمال کے لیے مارکیٹ میں قبول کی جاتی تھی۔ پاک سوزوکی کی مجموعی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں نومبر 2019ء میں 31.31 فیصد کی کمی آئی۔ اسی طرح مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے پانچ مہینوں میں پاک سوزوکی نے سال بہ سال کی بنیاد پر کاروں کی فروخت میں 30.06 فیصد کی کمی کا مشاہدہ کیا۔ پھر یہ بھی ملاحظہ کریں کہ کمپنی نے اس عرصے کے دوران کوئی غیر پیداواری دن نہیں دیکھا، جیسا کہ مقامی مارکیٹ میں دیگر کمپنیاں کر رہی ہیں۔ 

ٹویوٹا انڈس بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آئی:

ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی (IMC) کو ابھی موجودہ معاشی بحران سے نکلنا ہے۔ ٹویوٹا انڈس کی سیلز کا انحصار بنیادی طور پر اس کے ہاتھوں ہاتھ فروخت ہونے والی کرولا پر ہوتا ہے جو اس وقت سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ کمپنی 2,172 یونٹس ہی فروخت کر پائی ہے یعنی نومبر 2019ء میں 43.81 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ آٹومیکر نے پچھلے سال اسی مہینے میں 4,957 یونٹس فروخت کیے تھے جو سیلز میں آنے والی واضح کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مقامی مارکیٹ میں ٹویوٹا انڈس کے دیگر ماڈلز میں فورچیونر اور ہائی لکس شامل ہیں۔ فورچیونر کی فروخت میں نومبر 2019ء میں 53 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ آٹو مینوفیکچرر اس عرصے میں اپنی کومپیکٹ SUV کے صرف 109 یونٹس فروخت کر پایا۔

دوسری جانب ہائی لکس نے پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں گزشتہ ماہ زیادہ یونٹس فروخت کیے۔ کمپنی 286 کے مقابلے میں 359 یونٹس فروخت کرنے میں کامیاب رہی جو 25.52 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ جاپانی آٹو ادارے کی مجموعی فروخت میں نومبر 2019ء میں 55.10 فیصد کی کمی آئی ہے۔ اسی طرح رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں میں ٹویوٹا انڈس کی فروخت 56.63 فیصد کم ہوئی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس کی وجہ مارکیٹ میں کم ہوتی ہوئی طلب اور نہ فروخت ہونے والی گاڑیوں کے ذخائر میں اضافہ ہونا ہے۔ کمپنی نے اپنی فروخت کو بڑھانے کے لیے مختلف پروموشنز بھی شروع کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کرولا کے 1.3L ویرینٹ کے خاتمے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے اور اس کی جگہ اگلے سال ٹویوٹا یارِس لائی جائے گی۔

ہونڈا اٹلس بدستور سب سے بڑا شکار: 

رواں مالی میں ہر گزرتے مہینے کے ساتھ ہونڈا اٹلس کارز پاکستان لمیٹڈ (HACPL) کی فروخت میں کمی آ رہی ہے۔ سوِک اور سٹی کی کُل فروخت آٹومیکر کی مجموعی سیلز میں بڑا حصہ ڈالتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہونڈا اٹلس نے ایک اور ایسے مہینے کا سامنا کیا ہے جس میں اس کی فروخت میں 65.92 فیصد کی کمی آئی ہے۔ 

اس نے پچھلے سال نومبر کے مہینے میں 3,152 کے مقابلے میں اس بار صرف 1,074 یونٹس فروخت کیے۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے ابتدائی پانچ مہینوں میں کمپنی کو سوِک اور سٹی کی فروخت میں تقریباً 70 فیصد کی کمی کا دھچکا سہنا پڑا۔ 

دوسری جانب ہونڈا BR-V فیس لفٹ ماڈل متعارف کروانے کے باوجود اپنی سیلز کو بہتر بنانے میں ناکام رہا ہے۔ نومبر 2019ء میں اس کے 229 یونٹس ہی فروخت ہوئے جبکہ پچھلے سال کے اسی مہینے میں 300 یونٹس بیچے گئے تھے۔ ہونڈا اٹلس کی مجموعی فروخت میں صرف پچھلے ماہ میں 62.25 کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جولائی-نومبر عرصے میں فروخت کے اعداد و شمار نے 67.40 فیصد کی کمی کو ظاہر کیا۔ کمپنی نے صرف پچھلے ماہ صرف 7 دِن کام کیا ہے۔ 

ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں معمولی بہتری: 

ٹرکوں اور بسوں کی مجموعی فروخت میں پچھلے مہینے معمولی سی بہتری آئی ہے، لیکن پھر بھی نتائج آٹو سیکٹر کے لیے حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ ٹرکوں کی فروخت نومبر 2019ء کے دوران 42.20 کی کمی آئی تھی جبکہ اس عرصے میں بسوں کے 53 یونٹس فروخت ہوئے۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران سال بہ سال کی بنیاد پر 46.92 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ 

LCVs، وینز اور جیپوں کی فروخت : 

جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ فورچیونر اور BR-V دونوں کو اپنی فروخت میں بالترتیب 53.81 اور 23.66 فیصد کی کمی کے ساتھ مشکل دور کا سامنا رہا۔ جولائی-نومبر عرصہ پچھلے سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں فروخت کے اعداد و شمار میں تقریباً آدھی کمی ظاہر کرتا ہے۔ 

ہائی لکس پک اَپس کی فروخت میں بہتری لاتے ہوئے: 

پک اَپس کی کیٹیگری نے فروخت کے معاملات میں عموماً زوال کا رحجان دیکھا۔ البتہ ٹویوٹاہائی لکس کی فروخت میں پچھلے مہینے 25.52 فیصد کی بہتری آئی ہے، جس کے پچھلے سال کے 286 کے مقابلے میں اس مرتبہ 359 یونٹس فروخت ہوئے۔ دوسری جانب JAC بدستور فروخت میں زوال پذیر رہا، جس کے اس عرصے میں صرف 36 یونٹس فروخت ہوئے۔ نومبر 2019ء میں مجموعی فروخت میں 40 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ گی گئی، جبکہ پچھلے پانچ مہینوں نے سال بہ سال کی بنیاد پر فروخت میں 52 فیصد سے زیادہ کا زوال دیکھا ہے۔ 

ٹریکٹروں کی فروخت میں نصف سے بھی زیادہ کمی: 

PAMA کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نومبر 2019ء میں ٹریکٹر بدستور ایک غیر مقبول گاڑی رہے۔ سب سے واضح کمی فیئٹ (Fiat) کے ٹریکٹروں کی فروخت میں دیکھی گئی کہ جس کے پچھلے سال کے 1750 یونٹس کے مقابلے میں پچھلے مہینے صرف 418 یونٹس ہی فروخت ہوئے۔ میسی فرگوسن ملک میں ایک اور مقبول برانڈ ہے کہ جس نے فروخت میں پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 26.89 فیصد کی کمی کا سامنا کیا۔ اس مہینے میں مجموعی فروخت میں 50 فیصد سے بھی زیادہ کی کمی دیکھی گئی۔ 

موٹر سائیکل اور 3 ویلرز: 

گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے نے شہر کے اندر سفر کے لیے موٹر سائیکل کو ایک مقبول سواری بنا دیا ہے۔ گو کہ موٹر سائیکلیں کی قیمتیں بھی ماضی قریب میں کافی بڑھ گئی ہے، البتہ پچھلے مہینے نے موٹر سائیکل اور 3-ویلرز کی صنعت میں بحالی کے کچھ آثار ظاہر کیے ہیں۔ روڈ پرنس کے علاوہ، جسے نومبر 2019ء میں 21.69 فیصد کی کمی سہنی پڑی، دیگر مقبول برانڈز کم فروخت سے نکل آئے ہیں۔ یاماہا نے پچھلے مہینے 2,004 یونٹس کے ساتھ 2018ء کے اسی مہینے میں فروخت ہونے والے 2,019 یونٹس کے مقابلے میں اپنی سیلز کو تقریباً برقرار رکھا ہے۔ دوسری جانب ہونڈا کی فروخت میں 5.54 فیصد کا اضافہ ہوا ہے کہ جو ملک کے سب سے بڑے موٹر سائیکل بنانے والے ادارے کی حیثیت سے نومبر 2019ء میں 95,009 یونٹس فروخت کر چکا ہے جبکہ پچھلے سال کے اسی مہینے میں اس نے 90,016 یونٹس بیچے تھے۔ 

سوزوکی کی فروخت میں بھی اس عرصے میں 10.87 کی کمی آئی ہے۔ یونائیٹڈ موٹر سائیکل اس عرصے میں سیلز میں 14.99 فیصد کے اضافے کے ساتھ سب سے نمایاں رہا۔ نومبر 2019ء میں مجموعی فروخت میں 1.59 فیصد کی بہتری نظر آئی جو موٹر سائیکل انڈسٹری کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ دوسری جانب مالی سال ‏2019-20ء‎ کے پہلے پانچ مہینوں میں تمام برانڈز میں صرف یاماہا ہی نے سال بہ سال کی بنیاد پر اضافہ دیکھا ہے کہ جس کی فروخت میں 2.74 فیصد کی بہتری دکھائی دی۔ جولائی-نومبر عرصے میں اس شعبے کی مجموعی فروخت میں 14.35 فیصد کی کمی آئی۔ 

مندرجہ بالا اعداد و شمار کاجائزہ لے کر ہمیں چند شعبوں میں بحالی کی معمولی سی جھلک دکھائی دے رہی ہے، خاص طور پر موٹر سائیکل کے زمرے میں۔ البتہ کاروں کی فروخت اب بھی زوال پذیر ہے، جس کی وجہ سال کا اختتام بھی ہے۔ آٹو کمپنیاں اگلے سال کے آغاز پر بہتر صورت حال دیکھیں گی۔ کرنسی بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدر بڑھا رہی ہے، جو پاکستان میں گاڑیوں کی قیمت میں اضافے کی اہم وجہ تھی۔ ملک میں آٹو سیکٹر کی بحالی و ترقی کے لیے حکومت کو متعدد ایڈیشنل ٹیکس اور ڈیوٹیز بھی واپس لینی چاہئیں۔ 

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت پر آپ کی کیا رائے ہے؟ آٹو سیکٹر خاک سے کب نمودار ہوگا؟ ہمیں اپنی رائے ضرور دیجیے اور اعداد و شمار پر مبنی ایسی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top