کار ساز ادارے نئی تیار شدہ گاڑیاں (CBU) کیوں درآمد کرتے ہیں؟

2016-Audi-A4-Feature-640x360

اب سے کچھ روز قبل ایک نجی پراجیکٹ پر کام کرتے ہوئے مجھے بہت سی ایسی گاڑیوں سے متعلق علم ہوا کہ جنہیں بیرون ممالک سے مکمل تیار شدہ حالت میں درآمد کر کے پاکستان میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس نکتے نے میرے ذہن میں ایک سوال کو جنم دیا کہ پاکستانی اداروں کی جانب سے مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود یہ نئی گاڑیاں دیگر ممالک میں تیار کروا کر کیوں منگوائی جاتی ہیں؟ ان گاڑیوں پر حکومت کی جانب سے بھاری ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے جس کا براہ راست نتیجہ قیمت میں اضافہ کی صورت میں آتا ہے۔ آج اپنے اس مضمون میں اسی سے متعلق بات کروں گا کہ مکمل تیار شدہ گاڑیاں (CBU) یا پھر جزوی تیار شدہ (SKD) میں کیا فرق ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کو بیان کرنے کے بعد میں موجودہ صورتحال کے مطابق اپنی رائے بھی پیش کروں گا جو مجھے امید ہے کہ آپ مفید پائیں گے۔

مکمل تیار شدہ گاڑیاں (CBU)

مکمل تیار شدہ گاڑیاں، جنہیں انگریزی میں Completely Built Units یا مختصراً CBU کہا جاتا ہے، وہ ہوتی ہیں کہ جن کی تیاری بیرون ملک انجام دی جاتی ہے اور پھر انہیں یہاں منگوایا جاتا ہے۔ پاکستان میں کئی مہنگی اور پرتعیش گاڑیوں کو CBU کے طور پر ہی درآمد کر کے فروخت کیا جاتا ہے جن میں سے چند یہ ہیں:
٭ ٹویوٹا لینڈ کروزر (Land Cruiser)
٭ ٹویوٹا پرایوس (Toyota Prius)
٭ ٹویوٹا کیمری (Toyota Camry)
٭ ہونڈا اکارڈ (Honda Accord)

اس کے علاوہ پاکستان میں دستیاب آوڈی، مرسڈیز-بینز ، بی ایم ڈبلیو اور پورشے کی گاڑیاں بھی مکمل تیار شدہ حالت میں درآمد کر کے فروخت کی جاتی ہیں۔

پاک ویلز کے ذریعے اپنی پسندیدہ گاڑی پاکستان منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں

جزوی تیار شدہ (SKD)

جزوی تیار شدہ کی اصطلاح انگریزی میں Semi Knock Down اور مختصراً SKD کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ یہ دراصل ایسی گاڑیوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کے تیار شدہ حصے علیحدہ علیحدہ ملک میں درآمد کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں مقامی کارخانوں میں جوڑ کر گاڑی کی شکل دی جاتی ہے۔

بنیادی طور پر SKD اور CKD دونوں ہی تجارتی، کسٹم اور تکنیکی طور پر درآمدات ہی کے زمرے میں آتی ہیں۔ پاکستان میں اس طرز پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
٭ ٹویوٹا ہائی لکس (Toyota Hilux)
٭ ٹویوٹا فورچیونر (Toyota Fortuner)

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نئی ٹویوٹا فورچیونر کی جلد آمد کا امکان

میرا ماننا ہے کہ دونوں طرز کی گاڑیوں میں بنیادی فرق مقامی طور پر تیار کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہے۔ انڈس موٹر کمپنی ہی کی مثال لیں 11ویں جنریشن ٹویوٹا کرولا کی 60 فیصد تیاری پاکستان ہی میں انجام دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں مکمل تیار شدہ گاڑیوں (CBU) کی درآمد ہمیشہ ہی ناپسندیدہ عمل رہا ہے اور اسی وجہ سے وہاں کی حکومتیں نئی گاڑیوں کی درآمدات پر بھاری ٹیکس بھی عائد کرتی ہیں۔ دوسری جانب جزوی تیار شدہ (SKD) حصوں کو درآمد کر کے ملک میں مکمل گاڑی بنانے سے جہاں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں وہیں ملک کو معاشی طور پر بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں (CBU) کا معیاری پاکستان میں SKD طرز پر بنائی جانے والی گاڑیوں سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگی گاڑیاں خریدنے کی سکت رکھنے والے افراد بیرون ممالک سے منگوائی جانے والی گاڑیاں ہی خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ اپنے اعلیٰ معیار، جدید فیچرز کے علاوہ بھاری بھرکم ٹیکس کی وجہ سے یہ گاڑیاں بہت مہنگی ہوتی ہیں اس لیے ان کے خریداری بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایسی گاڑیوں کی تیاری کرنے کے بجائے انہیں بیرون ملک سے درآمد کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

Top