پنجاب میں گاڑی کی ملکیت تبدیل کروانے کا عمل آسان ہو گیا


پنجاب میں نادرا کے 1800 سے زیادہ ای-سہولت مراکز کے قیام کے ساتھ ہی گاڑی خریدتے یا بیچتے ہوئے اس کی ملکیت تبدیل کروانے کا مشکل مرحلہ اب آسان ہو چکا ہے۔ 

اس سے پہلے پنجاب میں گاڑیوں کے مالکان کو خرید و فروخت کے وقت گاڑی کی ملکیت تبدیل کروانے کے لیے ایکسائز دفاتر پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ حکومت نے صوبے میں نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے 1800 سے زیادہ ای-سہولت مراکز قائم کرکے شہریوں کے لیے آسانی کر دی ہے۔ 

حکام کے مطابق یہ سسٹم دو سال کے بعد مکمل ہوا ہے اور مشترکہ طور پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) اور نادرا کی جانب سے بنایا گیا ہے اس سسٹم کو صرف بایومیٹرک اسکینرز کی فراہمی اور فیس اسٹرکچرکو حتمی صورت دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کے وزیر ایکسائز حافظ ممتاز نے محکمہ کے سینئر عہدیداروں کو دی ہے کہ وہ پی آئی ٹی بی اور نادرا کے حکام کے ساتھ ملاقات کریں> لیکن بدقسمتی سے اب تک اس کا انتظام نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے اس سسٹم کو عملی صورت دینے کے لیے متعلقہ حکام کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔ 

ای-سہولت مراکز کے لیے  سسٹم کو تیار کرنے کی خاطر ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے گاڑیوں کی ملکیت کے تمام ڈيٹا تک نادرا کو رسائی بھی دی ہے۔ نیا سسٹم خریداروں اور فروخت کرنے والوں کے لیے ایک دلچسپ چیز ہے کہ وہ نادرا ای-سہولت مرکز جاکر طے شدہ فیس ادا کرکے گاڑی کی ملکیت تبدیل کر سکتے ہیں۔ گاڑی کی ملکیت تبدیل کروانے کا طریقہ کچھ یوں ہے: 

فروخت کرنے والے کی جانب سے گاڑی کی ملکیت کی درخواست دینے کے بعد نادرا محکمہ ایکسائز سے متعلقہ گاڑی کی ملکیت کا ڈیٹا نکالتا ہے۔ 

گاڑی کی تفصیلات حاصل ہونے کے بعد اس میں خریدار کے نام، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر اور رابطہ نمبر شامل کیے جاتے ہیں۔ 

خریدار کی تفصیلات شامل ہونے کے بعد خریدار و فروخت کنندہ دونوں کو تصدیقی ایس ایم ایس موصول ہوگا۔ 

خریدار کو بھیجے جانے والے پیغام میں گاڑی کی ملکیت تبدیل کرنے کے لیے درکار ادائیگی کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔ 

فیس ادائیگی کے بعد نئے مالک کو چند دنوں میں اپنے دیے گئے پتے پر اسمارٹ رجسٹریشن کارڈ موصول ہو جائے گا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 30 دن کے اندر ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں اس پورے عمل کو دوبارہ شروع سے کرنا ہوگا۔ گاڑی کی ملکیت میں شامل افراد کو مزید سہولت دینے کے لیے فریقین کا نادرا ای-سہولت مرکز پر بیک وقت موجود ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس کے بجائے خریدار اور فروخت کرنے والے دونوں کسی بھی بایومیٹرک تصدیق کرنے والے مقام پر آ کر اس عمل کی علیحدہ علیحدہ تکمیل کر سکتے ہیں۔ یہ نیا سسٹم صوبے بھر میں نافذ ہوگا اور حتمی صورت دینے کے لیے محکمہ ایکسائز نادرا کی جانب سے 250 بایومیٹرک اسکینرز جاری کرے گا۔ ان میں سے 50 بایومیٹرک اسکینرز لاہور میں قائم ایکسائز دفاتر میں استعمال ہوں گے جبکہ باقی پنجاب کے دوسرے اضلاع میں واقع ایکسائز دفاتر میں لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ نئے سسٹم کے نفاذ کے لیے انتظامات کی خاطر محکمہ ایکسائز، پی آئي ٹی بی اور نادرا کے اعلیٰ حکام کے مابین ملاقات جلد ہوگی۔ وزیر ایکسائز نے اس کام کی فوری طور پر تکمیل کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ 

نیا سسٹم نادرا کے ای-سہولت مراکز تک توسیع کے ساتھ عوام کو بہت سہولت فراہم کرے گا اور ایکسائز دفاتر پر ان کی طویل قطاریں کم کر دے گا۔ امید کرتے ہیں کہ یہ کامیابی سے شروع ہوگا اور اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔ اس نئے سسٹم کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ہمیں ضرور بتائیں اور آٹوموبائل دنیا کی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top