مری میں ٹریفک کی روانی کے لیے سی ٹی پی کا منصوبہ


پاکستان کے شمالی علاقوں میں برف باری کا آغاز ہو چکا ہے اِس لیے سٹی ٹریفک پولیس (CTP) راولپنڈی نے برف باری کے دوران سیاحوں کی آمد کی بدولت بڑھتے ہوئے رش اور برف باری کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو دُور کرنے کے لیے ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سٹی ٹریفک پولیس (CTP) راولپنڈی نے متعلقہ محکموں، بشمول ٹاؤن میونسپل اتھارٹی (TMA)، ریسکیو 1122، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور ضلعی پولیس کے ساتھ اشتراک کر لیا ہے تاکہ ہل اسٹیشن پر آنے والے سیاحوں کو رَش میں پھنسنے سے بچاجا جا سکے۔ مری، پتریاٹہ، ایوبیہ اور نواحی علاقوں میں چند دنوں سے برف باری ہو رہی ہے اور پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اسکولوں کی تعطیلات 12 جنوری تک بڑھ جانے کی وجہ سے سیاحوں کی بڑی تعداد برف باری کا لطف اٹھانے کے لیے ملک بھر سے یہاں آ رہی ہے۔ CTP کے ترجمان کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 17,000 گاڑیاں مری میں داخل ہو رہی ہیں جو بہت بڑی تعداد ہے۔ مری آنے والوں کے لیے پارکنگ کا مسئلہ بھی بہت سنجیدہ صورت اختیار کر گیا ہے اور کئی پرائیوٹ پارکنگ کانٹریکٹرز گھنٹوں کی بنیاد پر بھاری رقوم بٹور رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شدید برف باری کی وجہ سے گاڑیوں کی سڑکوں پر پھسلن اور متعدد حادثات رونما ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ 

ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے CTP نے 200 ٹریفک وارڈنز تعینات کیے ہیں تاکہ ٹریفک کو رواں رکھا جا سکے۔ تعینات کیا گیا عملہ طے شدہ ٹریفک پلان کے مطابق تین شفٹوں میں کام کرے گا اور متعلقہ محکمے بھی ہائی الرٹ رہیں گے۔ چیف ٹریفک آفیسر (CTO) انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مری کا دورہ کریں گے اور کسی بھی کوتاہی پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈیوٹی پر موجود وارڈنز کو سخت موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے پہننے کے مناسب سامان کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ سیاحوں کے لیے سڑکوں کو ہمہ وقت چلتی ہوئی حالت میں رکھنے کا ہدف نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو دیا گیا ہے اور وہ سڑکوں پر نمک چھڑکنے کا کام کرے گی۔ اس سے برف نسبتاً جلدی پگھلے گی اور کارکنوں کو باآسانی ہٹانے میں آسانی ہوتی ہے۔ 

اس کے علاوہ CTP نے سیاحوں کو بھی ہل اسٹیشن آتے ہوئے متعدد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے مشورے دیے ہیں، جیسا کہ: 

سیاحوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ صرف پٹرول یا ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں میں سفر کریں۔ 

برف باری کے موسم میں سی این جی گاڑیوں کے مری میں داخل ہونے پر سخت پابندی ہے کیونکہ یہ چڑھائی پر رفتار برقرار رکھنے کے لیے کم طاقت رکھتی ہیں اور پھسلن میں خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔ 

سیاحوں کو اپنی گاڑی کے ٹائروں کی حالت کو لازماً دیکھنا چاہیے اور اپنے ساتھ ایک اسپیئر ٹائر رکھنا چاہیے۔ 

سفر کے دوران تمام ساتھیوں کے لیے کافی خوراک لازماً ساتھ رکھنی چاہیے۔ 

تمام سیاحوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ٹریفک میں رکاوٹ اور کسی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں۔

حفاظتی تدابیر: 

آجکل پہاڑی علاقوں میں موسم کافی سخت ہے، اس لیے ان علاقوں میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے یہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کریں: 

غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بالخصوص برف باری کے دوران اور مغرب کے بعد۔ سڑکوں پر موجود پانی برف میں تبدیل ہو جاتا ہے، خاص طور پر مغرب کے بعد جب مطلع بھی ابر آلود نہ ہو تو، جو ڈرائیونگ کے لیے خطرناک ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور غفلت کی وجہ سے کسی مشکل میں پھنسنے سے بہتر ہے حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔ 

مزید احتیاط کرتے ہوئے پھسلن سے بچنے کے لیے ٹائروں میں ایئر پریشر کم رکھنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ ٹائروں میں کم ہوا سے ٹائر کا کانٹیکٹ ایریا بڑھ جاتا ہے یوں زیادہ رگڑ پیدا ہوتی ہے اور ڈرائیونگ کے دوران کافی گرِپ ملتی ہے۔ 

کسی بھی مشکل سے بچنے کے لیے ایک صحیح سالم اضافی ٹائر اور پنکچر کِٹ ساتھ رکھیں۔ 

اوور ٹیکنگ کرنے اور تیز رفتاری سے ڈرائیونگ سے گریز کریں۔

ڈرائیور نچلے گیئر استعمال کریں اور پھسلن کی صورت میں بریک پر کم زور دیں۔ 

ہماری طرف سے اتنا ہی۔ پہاڑی علاقوں میں سفر محفوظ انداز میں کریں اور برف باری کا لطف اٹھائیں۔ اپنے خیالات اور پیش آنے والی مشکلات کا ذکر نیچے تبصروں میں کریں اور مزید خبروں کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔ 


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top