کراچی میں ایک شخص نے ایندھن مؤثر کار بنا ڈالی


جب بات آتی ہے پاکستان کے نوجوانوں کی تو ٹیکنالوجی اور گاڑیاں دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن میں وہ توقعات سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ کراچی کے ایک شخص عطا رفیق نے چھ مہینوں کی محنت سے ایک ایگزکار (Exocar) بنا ڈالی ہے، وہ بھی صفر سے۔ 

ایگزکار بہت ہلکے وزن کی اور عموماً ایندھن مؤثر کار ہوتی ہے۔ عطا نے یہ ایگزوکار بنانے میں مقامی آٹوموبائل انڈسٹری یا حکومت سے کوئی مدد نہیں لی۔ اپنی بنیادی خاصیت اور ہلکے وزن کے ڈیزائن کی وجہ سے یہ گاڑی ایندھن میں بہت بچت دیتی ہے۔ ایک امریکی کمپنی اس گاڑی کے ڈیزائن اور مستقبل میں مزید بنانے کے عمل کو اسپانسر کرے گی۔ 

یہ گاڑی exoskeleton کار بھی کہلاتی ہے، جو کاربن فائبر، اسٹیل اور المونیم جیسے عناصر سے بنائے گئے فریم کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے پہیے عام طور پر مرکزی باڈی فریم سے باہر ہوتے ہیں اور ان پر مَڈ گارڈز لگے ہوتے ہیں۔ چار لمبے ٹیوبز اس گاڑی کے پورے چیسی (chassis) کو سنبھالنے کا کام کرتے ہیں۔ 

ایگزوکار بنانے کا بنیادی مقصد گاڑی کی طاقت بڑھانے کے بجائے اِس کے وزن کو کم کرنا ہوتا ہے۔ ایک ایگزوکار ایک لَیڈر چیسی یا اسپیس فریم چیسی کار کی طرح ہوتی ہے۔ جب عطا جیسے طالب علم ایسی جدید اور انقلابی چیزیں بنا سکتے ہیں تو مقامی آٹومینوفیکچررز بھی ایسی ٹیکنالوجیز بنانے میں اُن کی مدد کر سکتے ہیں کہ جنہیں مقامی آٹو سیکٹر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

ایگزوکار بنانے میں استعمال ہونے والی کم وزن ٹیکنالوجی کو عام گاڑیوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ انہیں کم وزن کا اور ایندھن کے لحاظ سے مؤثر بنایا جا سکے۔ ہلکی کاروں کو چھوٹے انجنوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یوں اُن کی قیمتیں بھی کافی حد تک کم ہو سکتی ہیں۔ ہماری مقامی انڈسٹری کو کاروں کا وزن کم کرنے کے لیے اُن میں کاربن فائبر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ 

یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ ایک نوجوان نے بغیر کسی بیرونی مدد کے لیے یہ گاڑی بنا ڈالی۔ ایسا مشکل اور جامع منصوبہ مکمل کرنے کے لیے بڑی توجہ اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو ایسے منصوبوں کو مالی مدد فراہم کرنی چاہیے تاکہ پاکستان میں جدت کو تیز کیا جا سکے۔ ایسے طلبہ کو قرضے دینے چاہئیں تاکہ وہ اپنے جدید خیالات کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ 

کابینہ کی جانب سے نئی EV پالیسی کی منظوری کے بعد اس کی کامیابی کے لیے الیکٹرک کاروں میں جدت ضروری ہے۔ اس طرح کی کاروں کو باآسانی بجلی پر منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ ماحول کو تحفظ دیا جا سکے اور تیل کی درآمدات پر انحصار کو کم کیا جا سکے۔ 

قبل ازیں ساہیوال کے دو افراد نے الیکٹرک موٹر سائیکلیں بنائی تھیں۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پٹرول سے جان چھڑانے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا۔ الیکٹرک موٹر سائیکلیں متعارف کروانے سے بھی عوام کو سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ایک طالب علم نے بھی آواز سے چلنے والی ایک ویل چیئر بنائی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ متبادل توانائی اور متبادل ایندھن کی گاڑیوں کے معاملے میں پاکستان آگے بڑھنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو اپنے خیالات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ 

اس خبر کے حوالے سے اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے ۔ مزید ایسی ہی خبروں اور معلوماتی مواد کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ 

ذریعہ: ایکسپریس نیوز


Google App Store App Store

Top