حکومت اسموگ سے نمٹنے کے لیے تیار


حکومت شہری علاقوں کو لپیٹ میں لینے والی اسموگ یعنی زہریلی دھند کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسموگ کا سبب بننے والے اہم عوامل میں ایک گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے۔ اس سے نمٹنے کا ایک طریقہ پاکستان میں بہتر معیار کا ایندھن استعمال کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان میں یورو 2 فیول استعمال ہو رہا ہے جو پاکستان میں اسموگ کی موجودہ صورت حال کے لحاظ سے اچھا نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے یورو 2 کے بجائے یورو 4 گریڈ کا ایندھن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2020ء سے حکومت درآمد شدہ تمام ایندھن کو یورو 5 پر منتقل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ اندازوں کے مطابق یورو 2 سے یورو 5 فیول پر جانے سے آلودگی 90 فیصد تک کم ہو جائے گی۔ زیادہ صاف ایندھن جلنے میں بھی مؤثر ہوتا ہے اور یہ بہتر بچت بھی دیتا ہے۔ 

حکومت اینٹوں کے بھٹوں، صنعت اور گاڑیوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی بھی متعارف کروانا چاہتی ہے تاکہ فضائی آلودگی کو کافی حد تک کم کیا جا سکے۔ زیادہ صاف ایندھن جلانے سے نہ صرف فضائی آلودگی ختم ہوگی بلکہ یہ آپ کی گاڑی کو بھی بہتر کارکردگی دے گا اور گاڑی کے انجن کی زندگی اور صحت کو بہتر بنائے گا۔ حکومت لاہور میں 60 ہزار کنال رقبے پر جنگلات اگانے کا فیصلہ بھی کررہی ہے۔ 

وزیر اعظم کے مطابق ہر عمر کے افراد اسموگ سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اسموگ ملک میں صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے اور اس سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے کے لیے آٹو انڈسٹری کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے ۔ آٹو انڈسٹری EV پالیسی کی منظوری پر خوش نہیں ہے کیونکہ اس اس کا کہنا ہے کہ حکومت نے EV پالیسی تیار کرنے میں اس کی رائے کو اہمیت نہیں دی۔ حکومت تمام پبلک ٹرانسپورٹ خاص طور پر بسوں کو الیکٹرک پاور یا گیس پر منتقل کرنے کا ہدف بھی رکھتی ہے۔ یہ دونوں آپشنز پٹرول یا ڈیزل کے مقابلے میں زیادہ صاف ایندھن ہیں۔ 

حکومت کو EV پالیسی متعارف کروائے جانے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ نئے ادارے آٹو پالیسی ‏2016-2021ء‎ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ ان شرائط سے انحراف کی صورت میں اُن کے مقامی صنعت میں داخل ہونے کے امکانات کو ٹھیس پہنچے گی۔ 

الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے سے ملک کو درآمدی بِل کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ البتہ EVs کو متعارف کروانے کا عمل ہموار اور ایک عرصے پر محیط ہونا چاہیے۔ EVs شہری علاقوں سے شور کی آلودگی ختم کرنے میں بھی مدد دیں گی اور انہیں رہنے کے زیادہ قابل بنائیں گی۔ EVs متعارف کروانے سے ملک میں روزگار کے مزید مواقع کھلیں گے اور سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے عوام کو نیا شعبہ بھی ملے گا۔ حکومت فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے فصلوں کو جلانے کو روکنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کاشت کاروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ فصلوں کو جلانے کے بجائے فروخت کریں۔ 

پاکستان میں زیادہ شفاف ایندھن متعارف کروائے جانے کے حکومتی منصوبوں کے بارے میں اپنی رائے ہمیں بتائیں اور مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔ 


Google App Store App Store

Top