مالی سال ‏2019-20ء‎ کی پہلی سہ ماہی میں انڈس موٹر کے منافع میں 62 فیصد کمی


ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (IMC) نے اپنے مالیاتی اعداد و شمار ظاہر کردیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال ‏2019-20ء‎ کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کے منافع میں 62 فیصد کی زبردست کمی واقع ہوئی۔ 

تفصیلات کے مطابق جاپانی ادارہ 30 ستمبر 2019ء کو ختم ہونے والی مالی سال ‏2019-20ء‎ کی پہلی سہ ماہی کے دوران سخت مشکل دور سے گزرا۔ کمپنی کا منافع گھٹتے ہوئے 1.318 ارب روپے تک آ گیا جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 62 فیصد کی بہت بڑی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ آٹو میکر کی خالص فروخت پچھلے سال کے اسی عرصے میں 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں 41 فیصد کم ہوکر 20.7 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ٹویوٹا انڈس نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو اپنی آمدنی فی حصص (EPS) بھی ظاہر کی جو 16.78 روپے ہے۔ 2018ء کے اسی عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی فی حصص 44.63 روپے پر کھڑی تھی، جس کے ذریعے اس نے 3.508 ارب روپے کمائے۔ کمپنی کے خالص منافع میں اتنی بڑی کمی کی بنیادی وجہ گاڑیوں کی فروخت میں آنے والی اچانک کمی ہے۔ انڈس موٹر کے CEO علی اصغر جمالی کے مطابق کمپنی مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہی ہے۔ ادارہ گھٹتی ہوئی سیلز کے اِس دور میں اپنے منافع کے مارجن کو بہتر بنانے کے لیے خاص طور پر اپنے اضافی اخراجات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

ٹویوٹا انڈس رواں سال جولائی کے مہینے سے غیر پیداواری ایّام (NPDs) کا سامنا کر رہا ہے اور اب تک لگ بھگ 50 دن اپنی پیداوار روک چکا ہے۔ کمپنی کم طلب کی وجہ سے لاگت کو گھٹانے کے لیے اپنے پیداواری پلانٹ کو پہلے ہی 50 فیصد سے بھی کم کی پیداواری گنجائش پر چلا رہی ہے۔ مالی سال ‏2019-20ء‎ کی پہلی سہ ماہی میں جاپانی ادارے کی پیداوار 49.7 فیصد کم ہوئی، کیونکہ اس نے پچھلے سال کے اسی عرصے میں 15,977 کے مقابلے میں 8,036 یونٹس کی پیداوار کی۔ پچھلے سال بھر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی آنے کی وجہ سے مقامی آٹو سیکٹر میں تمام گاڑیوں کی فروخت بڑی حد تک کم رہی۔ اس کے علاوہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے علاوہ ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹیز کے نفاذ نے کاروں کی فروخت پر خراب اثرات مرتب کیے۔ بینکوں کی شرحِ سود میں اچانک اضافے نے آٹو فائنانسنگ کو بھی بہت کم کردیا۔ کاروں کی قیمت میں 30 فیصد اضافے کے باوجود کمپنیوں کے خالص منافع میں کمی فروخت کے حجم میں کمی اور آپریٹنگ اخراجات بڑھنے کی وجہ سے ہوئی۔ مزید یہ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے سخت اقدامات نے صارفین کو گاڑیاں خریدنے سے روکنے پر مجبور کیا۔ 

مالی سال ‏2019-20ء‎ کی جولائی تا ستمبر سہ ماہی میں انڈس موٹر کی مالیاتی لاگت پچھلے سال کے اسی عرصے میں 9.9 ملین روپے سے بڑھ کر 19.5 ملین روپے تک جا پہنچی، جو 96.5 فیصد کا زبردست اضافہ ہے۔ اس عرصے کے دوران انتظامیہ اور تقسیم کے اخراجات بالترتیب 12 اور 25 فیصد بڑھے۔ مزید یہ کہ دیگر آمدنی بھی 34 فیصد کم ہو کر 694.8 ملین روپے تک گر گئی، جس کی بنیادی وجہ مختصر مدت کی سرمایہ کاری میں کمی رہی۔ تازہ ترین بیلنس شیٹ اعداد و شمار کے مطابق سرمایہ کاری پچھلے سال کے 55 ارب روپے کے مقابلے میں اس سال کی پہلی سہ ماہی میں 23 ارب روپے رہی۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ٹویوٹا انڈس کے حصص کی قیمت بھی گرتے ہوئے 12.25 روپے تک پہنچ گئی اور 1940 شیئرز کی ٹریڈنگ 925.75 پر کھڑی رہی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس سہ ماہی کے لیے فی حصص 7 روپے کےعبوری کیش ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا۔ 

یاد رکھیں کہ ٹویوٹا کرولا کی فروخت، جو کمپنی کی سیلز کو چلانے والی اہم ترین گاڑی سمجھی جاتی ہے، میں بھی پہلی سہ ماہی میں 59 فیصد کمی آئی۔ ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کا مارکیٹ شیئر پچھلے سال کے اسی عرصے میں 26 فیصد کے مقابلے میں اس مرتبہ گھٹ کر 18 فیصد رہ گیا ہے۔ مقامی آٹو سیکٹر کی مجموعی حالت متعلقہ سرکاری اداروں کی توجہ کی متقاضی ہے۔ حال ہی میں پاک سوزوکی نے بھی 20 ستمبر 2019ء کو مکمل ہونے والی سہ ماہی میں 1.16 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا۔ امید کرتے ہیں کہ جلد ہی مقامی آٹو انڈسٹری کو کچھ سکھ کا سانس ملے گا۔ 

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے اور مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ 


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top