ٹیکس میں چھوٹ دینے کے مطالبے پر آٹو انڈسٹری متحد


مشکل حالات سے دوچار اپنے شعبے کو بچانے کے منصوبے کے لیے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے ایک ملاقات کی۔ پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) اور پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) کے نمائندے اس اجلاس میں موجود تھے۔ دونوں تنظیمیں حکومت کو ایسے اقدامات واپس لینے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ جو آٹو سیکٹر کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان اقدامات میں حال ہی میں لگائی گئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور کسٹمز ڈیوٹی بھی شامل ہیں۔ ان دونوں قوانین نے گاڑیوں کو اور مہنگا کر دیا ہے۔ جس کا نتیجہ گاڑیوں کی طلب میں کمی کی صورت میں نکلا ہے۔ 

PAMA کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی فروخت اور پیداوار میں 41.4 فیصد کمی آئی ہے۔ ستمبر میں ہونے والی فروخت بھی پچھلے سال کے مقابلے میں کمزور رہی۔ روپے کی قدر میں کمی جیسے عوامل پر قابو پانا مشکل ہے، لیکن FED اور آٹو فائنانسنگ میں کمی پر تو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ آٹو مینوفیکچررز ہر گزرتے مہینے میں اپنے پلانٹس کو زیادہ سے زیادہ دنوں تک بند رکھنے پر مجبور ہیں۔ نتیجہ کافی ملازمین کو فارغ کرنے کی صورت میں نکل رہا ہے، جو اس شعبے میں روزگار کے مواقع پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ٹویوٹا کی فروخت میں 58 فیصد، ہونڈا میں 68.5 فیصد اور سوزوکی کی فروخت میں 22.3 فیصد کمی آئی ہے۔ سوزوکی کی سیلز میں آنے والی کمی آلٹو متعارف کروانے کی وجہ سے نسبتاً کم رہی۔

آٹو سیکٹر کو روزگار کے معاملے میں ایک بحران کا سامنا ہے۔ یہ شعبہ 3,00,000 ملازمین کے بلاواسطہ اور 24 لاکھ کے بالواسطہ روزگار کا سبب ہے۔ یہ بگڑتی ہوئی صورت حال حکومت کے ریونیو حاصل کرنے کی شرح کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ کاروں کی فروخت حکومت کو کافی ٹیکس ریونیو دیتی ہے۔ کم ہوتی ہوئی فروخت سے حکومت کے ٹیکس ریونیو میں بھی بہت کمی آ رہی ہے۔ 

پھر موجودہ بگڑتی ہوئی صورت حال نئے اداروں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ نئے ادارے مقامی پالیسیوں میں تبدیلی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اپنی فزیبلٹی اسٹڈیز پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔ اگر نئے ادارے کامیابی سے پاکستان میں اپنی تنصیبات بنانے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان میں کُل 1.5 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوگی۔ خراب ہوتی ہوئی صورت حال نے آٹو مینوفیکچررز کو اپنے توسیعی منصوبے بھی غیر معینہ مدت تک کے لیے روکنے پر مجبور کردیا ہے۔ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو اِس وقت ایک نئی زندگی کی ضرورت ہے؛ ورنہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا کہ جس کا طویل عرصے تک سامنا رہ سکتا ہے۔ گو کہ حکومت کے لیے ٹیکسیشن بہت ضروری ہے لیکن حد سے زیادہ ٹیکس معاشی سرگرمی کو دھیما کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ حال ہی میں لگائی جانے والی FED اور کسٹمز ڈیوٹی ٹیکس مختصر عرصے کے لیے ریونیو میں اضافہ تو کر سکتے ہیں اور حکومت کو مدد دے سکتے ہیں لیکن طویل عرصے کے لیے یہ آٹو سیکٹر کی طلب میں زبردست کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس سے لوگ اپنی سرمایہ کاری دوسرے شعبوں جیسا کہ ریئل اسٹیٹ میں منتقل کر سکتے ہیں، جو کہ زیادہ مستحکم اور محفوظ ماحول رکھتا ہے۔

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے اور ایسی ہی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ 


Google App Store App Store

Top