بیڈفورڈ ٹرک – گاڑیوں کی دنیا کی ایک حقیقی و نمائندہ علامت

bedford truck pakwheels feat

اگر آپ کو کہا جائے کہ ذہن میں ایک ٹرک کا تصوّر لائیں تو سب سے پہلے دماغ میں کیا آتا ہے؟ کئی پاکستانیوں کے ذہن میں پہلا خیال بیڈفورڈ ٹرک کا آئے گا۔ پاکستان میں نظر آنے والے بیڈفورڈ ٹرکوں کی بڑی تعداد بیڈفورڈ TJ ہے۔ ان کی چھوٹی گول ہیڈلائٹس ہیں، ٹائروں کے اوپر بڑے حلقے اور زیادہ تر ٹرک بہت ہی رنگارنگ ہوتے ہیں۔ یہ ٹرک ملک بھر میں سڑکوں پر عام نظر آتے ہیں۔ تو یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ آخر بیڈفورڈ ٹرک اتنے مقبول کیوں ہیں؟ ایک ٹرک جس کا ڈیزائن پاکستان جتنا ہی پرانا ہے آخر کیوں اب بھی ملک بھر کے ٹرک ڈرائیوروں کی ترجیح ہے؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے ہمیں بیڈفورڈ ٹرک کے پس منظر کو دیکھنا ہوگا جس نے ملک میں ہر چیز کی نقل و حمل کو ممکن بنایا، کیلوں سے لے کر اینٹوں تک۔

پاکستان کی ثقافتی علامت سمجھے جانے والے یہ ٹرک حیران کن طور پر نہ ہی پاکستان میں بنائے گئے اور نہ ہی انہیں خصوصی طور پر پاکستانی مارکیٹ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ بیڈفورڈ جنرل موٹرز کی ملکیت ایک برانڈ تھا اور اس کا صدر دفتر لٹن، انگلینڈ میں تھا۔ لٹن بیڈفورڈ شائر میں واقع ایک کاؤنٹی ہے اس لیے اس کا نام بیڈفورڈ رکھا گیا۔ کئی بیڈفورڈ ٹرک اور بسیں پاکستان میں استعمال ہوتی نظر آتی ہیں لیکن بیڈفورڈ TJ ٹرک، جو دنیا کے دیگر کئی ممالک میں برآمد کیا گیا، سب سے زیادہ مقبول ہے۔ 1986ء میں پاکستان کی وزارت پیداوار نے بیڈفورڈ ٹرک کے حوالے سے ایک تحقیق کی تھی جس کے مطابق بیڈفورڈ ٹرک پاکستان میں پہلی بار 1940ء کی دہائی میں درآمد اور فروخت کیے گئے۔ یہ ٹرک خریداروں میں مقبول ہوئے اور 1953ء میں جنرل موٹرز کی مدد سے نیشنل موٹرز لمیٹڈ قیام میں لائی گئی جس نے کراچی میں بیڈفورڈ اور واکس ہال گاڑیاں بنانی شروع کیں۔ 1963ء میں نیشنل موٹرز کو گندھارا انڈسٹریز لمیٹڈ نے حاصل کرلیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں ملک میں بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی نے بیڈفورڈ ٹرکوں کی طلب کہیں زیادہ بڑھا دی۔ پھر 1972ء میں دیگر نجی اداروں کی طرح گندھارا انڈسٹریز بھی قومیا لی گئی اور اس کا نام ایک مرتبہ پھر نیشنل موٹرز لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔ اس مرحلے پر گو کہ ٹرک مقامی سطح پر اسمبل کیے جا رہے تھے، لیکن ان کے صرف 20 فیصد پرزے ہی مقامی سطح پر بن رہے تھے۔ اسّی کی دہائی کے وسط تک یہ تعداد بڑھتے بڑھتے لگ بھگ 65 فیصد تک آ گئی۔
bedford truck

Pakistani Painted Truck, 1976 Bedford, Haider Ali and Jamil ud-Din 2002, Smithsonian Museum, National Mall, Washington DC

Pakistani Painted Truck, 1976 Bedford, Haider Ali and Jamil ud-Din 2002, Smithsonian Museum, National Mall, Washington DC

Checkout: Bikes for Sale in Lahore
بیڈفورڈ TJ کی پاکستان میں اتنی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ٹرک پاکستانی سڑکوں کے لیے بہترین ہے۔ یہ تھوڑا چھوٹا ہے اور اسے پیچ دار پہاڑی راستوں کے ساتھ ساتھ شہر کی پتلی سڑکوں پر چلانا بھی ڈرائیوروں کے لیے نسبتاً آسان ہے۔ اس کا سسپینشن خراب سڑکوں سے باآسانی نمٹ لیتا ہے اور مقامی مکینکوں نے اس میں سالوں تک کئی تبدیلیاں کرکے اسے مزید بہتر بنا دیا ہے۔ ٹرک کی اصل لوڈ گنجائش 9 ٹن تھی۔ پاکستانی مکینکوں نے اسے بہتر بنایا اور یوں یہ 14 ٹن تک وزن اٹھا سکتا ہے جو نسبتاً چھوٹے ٹرک کے لیے بہت بڑی گنجائش ہے۔ جی ٹی روڈ پر مسافروں نے دیکھا ہوگا کہ ٹرکوں پر کس طرح گنجائش سے کتنا زیادہ سامان لادا جاتا ہے۔ ٹرک کا اصل انجن 5420cc کا تھا جو 90 bhp پیدا کرتا تھا۔ چند ٹرک مالکان نے اپنے ٹرکوں کو ٹربوچارج کرتے ہوئے اسے 130 bhp سے تک کے قابل بنایا۔ دوسروں نے بیڈفورڈ کے انجنوں کی جگہ نسان ڈیزل اور دیگر جدید انجن لگا دیے۔

جب بیڈفورڈ ٹرک پاکستان میں بنائے جاتے تھے تو حکومت نے کچھ عرصے کے لیے ديگر ٹرکوں کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی۔اس نے بھی بیڈفورڈ ٹرکوں کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔ جب ہینو، اسوزو اور نسان جیسے ٹرکوں کو بالآخر درآمد کی اجازت ملی تو بیڈفورڈ کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے ٹرک زیادہ ایندھن بچت رکھنے والے، طاقتور، قابل بھروسہ اور لوڈ کی زیادہ گنجائش کے حامل اور بہتر سسپینشن رکھنے والے تھے۔ باوجود اس کے کہ یہ ٹرک میکانیکی طور پر بیڈفورڈ سے زیادہ جدید تھے، لیکن بیڈفورڈ کے پرزہ جات باآسانی دستیاب تھے اور اس کی ورکشاپوں تک رسائی آسان تھی کہ جو جی ٹی روڈ اور دیگر راستوں پر بیڈفورڈ کے ٹرکوں کی سروس کے لیے کھل چکی تھیں۔ درحقیقت کئی ٹرک ڈرائیور خود بھی بیڈفورڈ ٹرکوں کی مرمت سیکھ گئے تھے۔ کیونکہ کئی افراد کا روزگار ان ٹرکوں پر منحصر تھا اس لیے ان ٹرکوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا۔

Two Bedford trucks in Kalam, Swat

Two Bedford trucks in Kalam, Swat.
Photo by the author

اس طرح بیڈفورڈ نے ایک بڑا مارکیٹ شیئر حاصل کیا، لیکن مارکیٹ میں بڑی تعداد موجودگی ہی نے اسے “ثقافتی علامت” نہیں بنایا۔ میرے خیال میں بیڈفورڈ ٹرک کو ایک عام کمرشل گاڑی سے ایک ثقافتی علامت ٹرک آرٹ نے بنایا۔ میں واضح کرنا چاہوں گا کہ ٹرک آرٹ صرف بیڈفورڈ کے لیے ہی مخصوص نہیں؛ کئی دوسرے ٹرکوں، بسوں اور ویگنوں کو بھی ٹرک آرٹ میں سجایا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی ٹرک آرٹ 1940ء کی دہائی میں شروع ہوا جب ڈرائیوروں نے اپنے روحانی رہنماؤں کی تصاویر ٹرکوں پر لگانا شروع کیں۔ اب ٹرک آرٹ رنگین نظارے، معروف شخصیات اور جانوروں کی تصاویر اور مزاحیہ شاعری بھی ٹرکوں پر نظر آتی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ٹرکوں پر لٹکتی زنجیریں، رنگین انٹینے، باہر نکلے ہوئے ٹائروں کے کیپ، ننھے سجاوٹ والے شیشے، تیز آواز والے اور دلچسپ ہارن اور حال ہی میں LED لائٹیں بھی لگائی جا رہی ہیں۔ ڈرائیوروں کا ماننا ہے کہ جتنا خوبصورت ٹرک ہوتا ہے، اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ ٹرک ان کا فخر و اعزاز ہے۔

ٹرک آرٹ سے سجائے جانے والے بیڈفورڈ ٹرک بلاشبہ کسی بھی دوسرے ٹرک سے زيادہ خوبصورت لگتے ہیں۔ تمام ٹرک، بسیں، رکشے، کرسیاں، جوتے یہاں تک کہ چائے کی ٹرے بھی ٹرک آرٹ میں خوبصورت لگتی ہے لیکن بیڈفورڈ ٹرک ایسے لگتے ہیں جیسا کوئی نہیں لگ سکتا۔ مجھے یہ دلکش نظر آتا ہے لیکن یہ لفظ بلاشبہ ٹرک کو بیان کرنے کے لیے کافی نہیں۔ پاکستانی ٹرک آرٹسٹس کے سجائے گئے بیڈفورڈ ٹرک دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کیے جا چکے ہیں۔ ایک ایسا ٹرک واشنگٹن ڈی سی کے اسمتھسونین انسٹیٹیوٹشن میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے جبکہ لیوٹن کلچر نامی ایک خیراتی ادارے نے ایک لیوٹن میں رکھا ہے۔ اپنے ملک میں ایک سبز رنگ کا بیڈفورڈ ٹرک لوک ورثہ، اسلام آباد میں مستقل نمائش کے لیے موجود ہے۔

bedford trucks 2

Do not be deceived by the Toyota emblem; this is also a Bedford. Photo by the author.

بیڈفورڈ TJ ٹرک کی پیداوار بالآخر روک دی گئی اور بیڈفورڈ برانڈ جنرل موٹرز کے واکس ہال برانڈ میں ضم کردیا گیا۔ جاپانی ٹرک پاکستانی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے بنے اور اب انہیں چینی ٹرکوں سے مقابلے کا سامنا ہے۔ ڈائملر اے جی نے بھی پاکستان میں مرسڈیز بینز ٹرکوں کی اسمبلی کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ آج گندھارا نسان اسوزو ٹرک بیچ رہا ہے۔

ان سب کے باوجود ہزاروں بیڈفورڈ ٹرک اب بھی سڑکوں پر موجود ہے۔ انہیں پاکستانی ثقافت کی عمدگی کو مثبت روشنی میں پیش کرنے کے لیے مددگار منصوبے کے طور پر سجا کر محفوظ کرنا چاہیے۔


Danyal Haroon

The writer is a student studying computer science. He enjoys watching car shows, reading car magazines, driving and painting.

Top