ڈائی ہاٹسو کورے 2007 – بجٹ کار تجزیہ

new-daihatsu

پاک ویلز ایک مرتبہ پھر ایک بجٹ کار کے تجزیے کے ساتھ حاضر خدمت ہے اور اس مرتبہ ہم نے ڈائی ہاٹسو کورے 2007ء CX ایکو کا انتخاب کیا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ اپنے مخصوص بجٹ کے اندر گاڑی خریدنا چاہتے ہیں اور پاک ویلز نے بجٹ کاروں کے تجزیے کا یہ سلسلہ ایسے ہی افراد کی مدد کے لیے شروع کیا ہے تاکہ وہ اپنے بجٹ کے اندر رہتے ہوئے گاڑی پا سکیں۔

Search for Daihatsu Cuore on PakWheels

انڈس موٹر کمپنی (IMC) نے 2000ء میں پاکستان میں ڈائی ہاٹسو کورے متعارف کروائی تھی۔ تجزیہ کرنے سے پہلے میں آپ کو ایک اہم بات بتا دوں، جو ہو سکتا ہے آپ میں سے کئی افراد کو معلوم نہ ہو کہ ڈائی ہاٹسو اور ٹویوٹا دو مختلف ادارے ہیں، لیکن عالمی سطح پر 1998ء میں ٹویوٹا نے ڈائی ہاٹسو کے 52.1 فیصد حصص حاصل کرلیے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ٹویوٹا اور ڈائی ہاٹسو کی ملک میں درآمد شدہ کئی گاڑیوں پر ایک دوسرے کی علامات موجود ہیں جیسا کہ ٹویوٹا پاسو اور ڈائی ہاٹسو بون وغیرہ پر۔ دونوں اداروں کی گاڑیاں ایک واحد کارخانے میں تیار کی جاتی ہیں اور اس پلانٹ کا مالک ادارہ ٹویوٹا ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈائی ہاٹسو اور ٹویوٹا کی گاڑیوں کے نشانات ایک دوسرے پر لگتے رہتے ہیں۔

cuore-3

جب انڈس موٹر کمپنی نے 2000ء میں یہ گاڑی پیش کی، اس وقت پاکستان میں 800cc کے زمرے میں بے تاج بادشاہ پاک سوزوکی کی مہران تھی۔ لیکن جب ادارے نے یہ گاڑی ملک میں متعارف کروائی تو نہ صرف لوگوں نے اسے پسند کیا بلکہ یہ بہت زیادہ مقبول بھی ہوئی۔ IMC نے یہ گاڑی چھ اقسام میں پیش کی، جو یہ ہیں:

  • CL
  • CX
  • CL Eco
  • CX Eco
  • CX آٹومیٹک
  • CX ایکومیٹک

daihatsu-cuore

cuore-4

CL اور CX کے درمیان بنیادی فرق یہ تھا کہ CX میں بمپرز گاڑی کے رنگ کے ہی ہوتے تھے جبکہ CL میں یہ مختلف رنگ کے ہوتے تھے۔ ادارے نے سی این جی CL اور CX ویریئنٹس بھی متعارف کروائے جو CL ایکو اور CX ایکو کے نام سے تھے۔ مزید یہ کہ CX دو مزید آپشنز کے ساتھ پیش کی گئی، ایک آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ بغیر سی این جی کٹ کے (CX آٹومیٹک) اور دوسری سی این جی کٹ اور آٹومیٹک ٹرانسمیشن دونوں کے ساتھ (CX ایکومیٹک)۔ یہ تمام ویریئنس بظاہر سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہی تھے۔

ملک میں کورے کی پیداوار 2012ء تک جاری رہی۔ واضح رہے کہ IMC نے کورے کا آٹومیٹک ویریئنٹ 2007-8ء میں متعارف کروایا تھا۔ البتہ جس گاڑی کا جائزہ ہم پیش کر رہے ہیں وہ مینوئل ٹرانسمیشن کی حامل ہے۔

ڈائی ہاٹسو کورے کا اُس وقت مقابلہ سوزوکی مہران اور ہیونڈائی سینٹرو وغیرہ کے ساتھ تھا۔

ظاہری انداز (ایکسٹیریئر)

گاڑی کا ایکسٹیریئر بہت زیادہ ہموار یا ایروڈائنامک نہیں۔ ویسے بھی اس شعبے کی گاڑیاں ہموار ڈیزائن نہیں رکھتیں؛ انہیں کارکردگی، پائیداری اور ایندھن کی کھپت کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کا ہدف ملک کا درمیانہ طبقہ ہوتا ہے۔ جب گاڑی پہلی بار 2000ء میں جاری کی گئی تو یہ نان-کرسٹل ہیڈلائٹس رکھتی تھی؛ البتہ ادارے نے جلد ہی کرسٹل ہیڈلائٹس متعارف کروائیں۔ جو گاڑی ہم نے چلائی وہ کرسٹل لائٹس کی حامل تھی کیونکہ یہ 2007ء ماڈل تھا۔ مزید یہ کہ، جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ کورے اسی رنگ کے بمپرز کے ساتھ آتی تھی، اور اگر ہم اس کا مقابلہ 2000ء کی مہران سے کریں تو یہ اسی رنگ کے بمپرز کے ساتھ نہیں آتی تھی، اس لیے کورے کو مہران پر کچھ برتری حاصل تھی۔

coure-2007

مزید برآں، گاڑی کے سائیڈ مررز سوزوکی مہران جیسے ہی تھے۔ جہاں تک گاڑی کے پچھلے حصے کا تعلق ہے تو ایک ہی نظر میں کوئی بھی پہچان سکتا ہے کہ یہ اکانمی کلاس ہیچ بیک ہے۔ پیچھے وائپر تک نہیں لگایا گیا؛ یہ بنیادی نوعیت کی گاڑی تھی جو ادارے نے متعارف کروائی۔ اکانمی سیکٹر کی گاڑی کی ظاہری شکل و صورت پر کوئی بحث کر بھی نہیں سکتا؛ کیونکہ اس میں بنیادی توجہ تھی دوبارہ فروخت کی قابلیت، ایندھن کی کھپت اور فاضل پرزہ جات کی دستیابی پر۔

daihatsu-cuore-11

اگر ہم 2007ء کی کورے کا مقابلہ سینٹرو سیکنڈ جنریشن سے کریں تو ہیونڈائی سینٹرو میں پچھلے شیشے پر وائپر بھی موجود تھا۔ اس لیے سینٹرو کو ڈائی ہاٹسو کورے پر برتری حاصل تھی۔ پیچھے لگا وائپر بارش کی صورت میں پانی کو صاف کرتا اور ڈرائیو کو پیچھے کا صاف منظر دکھاتا ہے۔

گاڑی کی پیمائش دیکھیں تو ڈائی ہاٹسو کورے کی لمبائی 3300 ملی میٹر، چوڑائی 1395 ملی میٹر اور اونچائی 1445 ملی میٹر ہے۔ گاڑی چوڑائی میں مہران سے 10 ملی میٹر چھوٹی تھی، لیکن مجموعی طور پر یہ مہران سے 35 ملی میٹر اونچی تھی۔

اندرونی حصہ (انٹیریئر)

گاڑی کی اندرونی بلندی آگے اور پیچھے دونوں جگہ بیٹھے مسافروں کے لیے نسبتاً اچھی ہے۔ البتہ ٹانگیں پھیلانے کی جگہ آگے والے کے لیے تو بہتر ہے لیکن پیچھے والوں کے لیے مناسب نہیں۔ ہماری رائے میں اس گاڑی میں صرف چار بالغ افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اگر آپ شہر کے اندر سفر کر رہے ہیں تو ایک چھوٹا بچہ بھی پیچھے بیٹھ سکتا ہے، لیکن لمبے سفر پر یہ گاڑی پانچ افراد کے لیے مناسب نہیں۔

ایک نظر ہی میں پہچانا جا سکتا ہے کہ یہ مہران جیسی چھوٹی ہیچ بیک ہے، البتہ سامان رکھنے کی جگہ مہران سے زیادہ ہے۔ اگر آپ سامان کے دو سے زیادہ بیگ لے جانا چاہتے ہیں تو پچھلی نشستوں کو تہہ کرکے سامان کے لیے جگہ بڑھائی جا سکتی ہے۔

مزید برآں گاڑی کا انٹیریئر مہران سے کہیں بہتر ہے، کورے کا ڈیش بورڈ اپنے وقت میں پریمیئم کاروں سے کم نہیں تھا۔ سوک اور ٹویوٹا کی طرح اے سی کنٹرولز ڈیش بورڈ کے درمیان میں الگ سے نصب تھے، مہران میں اے سی اور دیگر تمام کنٹرول بٹنز ایک ہی جگہ پر لگائے گئے تھے۔ ڈیش بورڈ کی بناوٹ بھی مہران سے کہیں بہتر ہے اور اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی انٹیریئر اپنی جگہ برقرار ہے۔

daihatsu-cuore-interior

daihatsu-cuore-12

daihatsu-cuore-13

گاڑی میں rpm میٹر نہیں ہے، اسپیڈومیٹر ہے جو بتاتا ہے کہ گاڑی کتنی رفتار سے چل رہی ہے۔ مزید یہ کہ اس میں مائیلیج میٹر بھی ہے۔ ادارے نے گاڑی کیسٹ پلیئر اور دو اسپیکرز کے ساتھ جاری کی تھی، لیکن اب اس گاڑی کے زیادہ تر مالکان نے کیسٹ پلیئر کی جگہ سی ڈی پلیئرز لگا لیے ہیں۔ مزید یہ کہ اس میں اضافی اسپیکرز بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

گاڑی میں ڈی فوگر نہیں، جبکہ اس کی مقابل گاڑی ہیونڈائی سینٹرو میں ڈی فوگر بھی ہے۔

کارکردگی اور آرام

اس گاڑی کی رفتار اور انجن کارکردگی سوزوکی مہران سے کئی گنا بہتر ہے۔ ڈائی ہاٹسو کورے 850cc کا انجن رکھتی ہے 5-اسپیڈ مینوئل / 3-اسپیڈ آٹو ٹرانسمیشن کے ساتھ، جبکہ دوسری جانب مہران اب بھی 800cc کے انجن کے ساتھ آتی ہے جو 4-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن کا حامل ہے۔ اس لیے کورے کو انجن اور ٹرانسمیشن دونوں کے لحاظ سے مہران پر واضح برتری حاصل ہے۔

daihatsu-cuore14

کورے کا انجن 40 ہارس پاور اور 65 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے۔ اہم بات یہ کہ گاڑی کاربوریٹر انجن کے ساتھ جاری کی گئی تھی جبکہ اس گاڑی میں کبھی EFI انجن پیش نہیں کیا گیا۔ EFI انجن کے ساتھ گاڑی پیش نہ کرنا ہی ان وجوہات میں سے ایک تھا جس کی بنیاد پر ملک میں اس گاڑی کی پیداوار ختم ہوئی۔ اُس وقت مقابل گاڑیوں میں سے ایک ہیونڈائی سینٹرو EFI انجن کے ساتھ دستیاب تھی، اس لیے کورے اس معاملے میں واضح طور پر پیچھے تھا۔ یہاں تک کہ پاک سوزوکی نے بھی اپنی مہران گاڑی کو EFI انجن کے ساتھ جاری کیا اور اس کی پیداوار جاری رکھی۔

آگے بڑھیں تو اس گاڑی کی سسپینشن اور زمین سے اونچائی (گراؤنڈ کلیئرنس) بھی اچھی ہے اور ہم نے کورے کے کئی مالکان سے بات کی اور انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس گاڑی کی سسپینشن، گراؤنڈ کلیئرنس اور انجن کارکردگی خوب ہے۔

کورے کا اے سی مہران کے مقابلے میں بہتر ہے، آگے بیٹھنے والے افراد کو موسم گرما میں گرمی نہیں لگتی، البتہ پیچھے بیٹھے افراد کسی گرم دن پر بے آرامی محسوس کر سکتے ہیں۔

پرزہ جات کی دستیابی اور دیکھ بھال

انجن کارکردگی اور دیگر پہلوؤں سے بالادست ہونے کے بعد دیکھا جائے تو ڈائی ہاٹسو کورے کے فاضل پرزہ جات مہران کے مقابلے میں مہنگے ہیں جیسا کہ کورے کی ہیڈلائٹس کا سیٹ آپ کو تقریباً 5500 روپے کا پڑے گا جبکہ سوزوکی مہران کی ہیڈلائٹ صرف 1200 کی ہوتی ہے۔ کورے کے بمپر کی قیمت بھی مہران کے بمپر سے دوگنی ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ کیونکہ گاڑی بنانا بند کی جاچکی ہے؛ اس لیے اس کی دیکھ بھال اور فاضل پرزوں کا حصول مہران سے زیادہ مہنگا پڑے گا۔

مائیلیج

ہماری تحقیق کے مطابق گاڑی ایک لیٹر میں 9 سے 10 کلومیٹر ایندھن استعمال کرتی ہے اور بغیر اے سی چلائے یہ 12 سے 3 کلومیٹر فی لیٹر چلتی ہے۔

حتمی رائے

گاڑی کی انجن کارکردگی اچھی ہے اور اے سی بھی اچھا ہے لیکن گاڑی کے فاضل پرزے مہران کے مقابلے میں مہنگے ہیں۔ یہ آپ کو 5 سے ساڑھے 6 لاکھ روپے تک کی پڑے گی اور اس قیمت میں یہ بہترین کاروں میں سے ایک ہے۔ اگر آپ کم بجٹ پر استعمال شدہ ہیچ بیک خریدنے میں سنجیدہ ہیں تو ہماری رائے میں یہی وہ گاڑی ہے جو آپ کو خریدنی چاہیے۔

پاک ویلز ڈائی ہاٹسو کورے ویڈیو ریویو ذیل میں دیکھیں:

ملیں گے ایک مرتبہ پھر جہاں ویلز، وہاں پاک ویلز!


Top