آٹو موٹو انڈسٹری کا عالمی زوال اور حکومت کی الیکٹرک وہیکل پالیسی


“اگر آپ غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں – تو آپ کو گاڑی نہیں خریدنی چاہیے۔” ہولڈر شیمی ڈِنگ 

ملک میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں پہلے مقامی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے حوالے سے کافی پُرجوش تھیں اور سمجھ رہی تھیں کہ اس سے صنعت کے سست پڑ جانے کے عمل کو روکا جا سکتا ہے، لیکن اب نئی منظور شدہ الیکٹرک وہیکل پالیسی پر پریشان نظر آتی ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے EV پالیسی بہت اہم ہے اور وہ ماحول دوست ترقی کے عمل میں کافی دلچسپی رکھتی ہے۔ میں اس واحد ایجنڈے سے اتفاق نہیں کرتا۔ پالیسی سازی کا عمل معاملات کو وسیع تر تناظر میں چلانے کا نام ہے کہ جن میں متوقع نتائج کا احاطہ کیا جائے اور اقتصادی و صنعتی معاملات کو بھی ذہن میں رکھا جائے۔ 

اگر آپ اب بھی پریشان ہیں اور گاڑیوں کی مقامی صنعت میں سُست روی اور مالی بحران کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں تو یہ تحریر آپ ہی کے لیے ہے۔ کبھی کبھی معاملات کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے انہیں وسیع تر تناظر میں دیکھنا پڑتا ہے۔ 

گاڑیوں کی صنعت عالمی سطح پر بھی سخت مندی سے دوچار ہے اور گاڑیاں بنانے والے ادارے حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ کیونکہ مالی بحران نے دنیا بھر کی موٹر انڈسٹری کو متاثر کیا ہے، اس لیے کئی ادارے، بالخصوص بڑے نام، اس کے شکار ہو رہے ہیں۔ یہی نہیں، یہ “اقتصادی بخار” عالمی معیشت کو بھی جکڑ رہا ہے اور اس کو صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ 

دنیا بھر کے تقریباً سارے ہی گاڑیاں بنانے والے ادارے بالواسطہ یا بلاواسطہ سپلائی چَین سے منسلک ہیں تاکہ پرزے، خام مال اور کیمیائی مادّے حاصل کر سکیں؛ اگر یہ بحران برقرار رہتا ہے تو بالآخر ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس اور دیگر شعبوں کو بھی متاثر کرے گا۔ یہ بحران گاڑیوں کی مرمت کے شعبے کو بھی بری طرح جھنجھوڑ سکتا ہے۔ 

“گاڑیاں بنانے کا شعبہ مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں اور نمو پر بہت انحصار کرتا ہے،” ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ایم ایف ریسرچ ڈپارٹمنٹ جیان ماریا ملیسی-فاریتی نے کہا۔ (ذریعہ FT) 

عالمی بحران سے اب تک پہلا موقع ہے کہ موٹر انڈسٹری کا پھیلاؤ کم ہوا ہے۔ آئی ایم ایف سمجھتا ہے کہ گاڑیوں کے صنعت کے اس بحران نے ‏2017-18ء‎ کے درمیان عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ عالمی تجارت کا جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق پچھلے دو سالوں میں موٹر انڈسٹری کے زوال نے عالمی تجارتی نمو کو متاثر کیا ہے۔ 

گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت میں اچانک کمی سے 2018ء میں دنیا بھر میں گاڑیوں کی خریداری میں 3 فیصد کمی آئی ہے۔ آٹوموبائل انڈسٹری کا زوال رسد میں خلل اور طلب میں شدت دونوں میں ظاہر ہے۔ چین میں ٹیکس رعایت کے خاتمے کے بعد طلب میں آنے والی کمی؛ یورو علاقوں (بالخصوص جرمنی) اور چن میں دھوئیں کے اخراج کے نئے معیارات سے مطابقت رکھنے والی پروڈکٹ لائنز؛ اور ترجیحات میں ممکنہ تبدیلیوں سے اس صنعت کا زوال ظاہر ہے کیونکہ صارفین کئی ملکوں میں ٹیکنالوجی اور دھوئیں کے اخراج کے حوالے سے معیارات میں آنے والی تبدیلی، کار ٹرانسپورٹ کے بدلتے ہوئے منظر نامے اور کار شیئرنگ کے آپشنز سامنے آنے کے بعد ‘دیکھو اور انتظار کرو’ کی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں۔ (آئی ایم ایف، 2018ء صفحہ 34) 

چین امریکا تجارتی جنگ 

گاڑیوں کی صنعت سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار یہ اشارہ بھی کر رہے ہیں کہ امریکی تجارتی پالیسی اور امریکا و چین کے مابین تناؤ اس شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کا واضح اور کھلا اشارہ چینی مارکیٹوں میں آنے والے زوال سے ملتا ہے کہ جو کئی سالوں سے عالمی سطح پر اس شعبےکی ترقی کو تحریک دے رہا ہے۔ 

“یہ تجارتی جنگ واقعی صارفین کے رویّے پر اثر انداز ہو رہی ہے اور پورے امکانات موجود ہیں کہ عالمی معیشت کو متاثر کرے،” فوکس ویگن کے چیف ایگزیکٹو ہربرٹ ڈیز نے ستمبر میں فرینکفرٹ موٹر شو میں کہا۔ “تجارتی جنگ کی وجہ سے (چین میں) گاڑیوں کی مارکیٹ مندی سے دوچار ہے۔ یہ ہمارے لیے خوف ناک صورت حال ہے۔” (ذریعہ FT) 

بریگزِٹ پر غیر یقینی کیفیت اور ترکی میں مندی 

عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ میں مندی اور بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹوں کے حوالے سے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق موٹر انڈسٹری میں مجموعی گاڑیوں کی صنعت میں مجموعی طور پر زوال آنے کے دیگر کئی اشاریے اور مضمرات بھی ہیں۔ اُن کے خیال میں کئی ملک جو قوتِ خرید معمول کے مطابق برقرار رکھے ہوئے تھے اور گاڑیوں کی خریداری کے معیارات بھی بدستور موجود تھے، اب سیاسی و معاشی وجوہات کی بناء پر غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہیں۔ کار شیئرنگ کے تصور میں بہتری اور جدّت آنے سے گاڑیوں کی خریداری میں گو کہ معمولی سی کمی آئی ہوگی، لیکن اس نے کسی نہ کسی حد تک تو مارکیٹ کو دھچکا ضرور پہنچایا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر وجوہات میں بریگزٹ اور ترکی میں مندی کا رحجان بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے مجموعی طور پر غیر یقینی کی کیفیت اور مارکیٹ میں گاڑیوں کی فروخت میں سخت مشکلات پیدا کیں۔ 

اثرات کا اندازہ 

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ 2018ء میں گاڑیوں کی فروخت میں 3 فیصد اور کار مینوفیکچرنگ میں 2.4 فیصد کمی آئی۔ 

رواں سال کے اوائل میں فِچ ریٹنگز کی جانب سے شائع کردہ ایک اور تحقیق کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں عالمی سطح پر کمی آنے کے ساتھ کُل عالمی مقامی پیداوار (جی ڈی پی) 0.2 فیصد تک متاثر ہوئی۔ 

بین الاقوامی موٹر انڈسٹری کا یہ مجموعی بحران ہمیں واضح تصویر پیش کرتا ہے کہ آٹوموبائل مارکیٹ میں سُست روی عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ اس لیے پاکستان ہی وہ واحد مارکیٹ نہیں ہے جہاں گاڑیوں کی فروخت متاثر ہوئی ہے بلکہ بڑی مارکیٹوں میں بھی کاروں کی فروخت نسبتاً دھیمی رہی ہے اور جاری بحران کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ پھر دنیا بھر کی حکومتیں گاڑیاں بنانے والوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ عام ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت کو الیکٹرک موٹر کار انڈسٹری میں تبدیل کریں اور گاڑیاں بنانے والوں کو ایسی صورت حال پر مجبور بھی کر رہی ہیں تاکہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں زیادہ توجہ کے ساتھ سرمایہ کاری کریں۔ 

پاکستان میں ماہرین کہتے ہیں کہ مقامی کار مینوفیکچررز الیکٹرک وہیکل پالیسی کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں کہ جسے حکومت نے بیٹری پر چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے منظور کیا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ موٹر انڈسٹری کے لیے ایک ماحول دوست اور لاگت کے لحاظ سے موثر ترین پالیسی ہوگی۔ 

البتہ مقامی اداروں نے نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی پر زیادہ مثبت ردعمل نہیں دکھایا اور اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی چند کمپنیاں آخر الیکٹرک وہیکل پالیسی کے حوالے سے حکومت کے اقدامات سے خوش کیوں نہیں؟ یہ سوال ایک اور تحریر کا تقاضہ کرتا ہے۔ ہم اس حوالے سے آپ کے نقطہ نظر کو سننے کے خواہش مند ہیں اس لیے نیچے تبصروں میں اپنی رائے پیش کیجے۔ 

اعلان: اس تحریر میں پیش کردہ مواد مصنف کی ذاتی رائے ہے اور PakWheels.com کی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا۔


Google App Store App Store
Fazal Gilani

Former Senior Assignment Editor, Freelance Journalist and Researcher, Tsinghua University IMPA-BRI graduate. Previously, studied M.A in Mass Communication & M.A in International Relations from GCUF. He tweets as @Gilaniism.

Top