مالی سال 2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پی ایس او کے منافع میں 15.5 فیصد کی کمی


مالی سال 2019 کی پہلی سہ ماہی میں مارکیٹ شیئر بڑھنے کے باوجود پاکستان اسٹیٹ آئل کے منافع میں 15.5 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ 

پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے اعلان کردہ مالیاتی نتائج کے مطابق اس نے رواں سال جولائی-ستمبر کے دوران 3.53 ارب روپے کمائے۔ پچھلے سال کے اسی عرصے میں پاکستان کی اس سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی نے 4.1 ارب روپے کا منافع حاصل کیا تھا جو 15.55 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ پی ایس او کے منافع میں اتنی بڑی کمی کا بنیادی سبب مالیاتی اخراجات میں اضافہ ہے۔ پھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے میں بھی ڈسکاؤنٹ ریٹ بھی سیٹ کیے، جس نے کمپنی کی آمدنی کو متاثر کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر پی ایس او کے مارکیٹ شیئر میں اضافہ ہوا ہے کہ جو پچھلے سال کے 40.1 فیصد کے مقابلے میں اس مرتبہ 6.5 بڑھ کر 46.6 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ یوں آئل کمپنی بدستور ملک کا سب سے بڑا برانڈ ہے، جو تقریباً آدھا مارکیٹ شیئر رکھتا ہے۔ 

جہاں تک سیلز کا تعلق ہے پی ایس او نے اِس عرصے میں ساڑھے 17 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا۔ کمپنی کی سیلز پچھلے سال کی پہلی سہ مایہ میں 280 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال ‏2019-20ء‎ کی پہلی سہ ماہی میں 329 ارب روپے تک جا پہنچی۔ سیلز میں اتنا واضح اضافہ فروخت کا حجم بڑھنے اور حالیہ کچھ عرصے میں پٹرول کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے ہوا۔ مزید برآں، PSO کی مالیاتی لاگت میں پچھلے سال کے 1.82 ارب روپے کے مقابلے میں اس مرتبہ 44.51 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا کہ جو 2.63 ارب روپے تک جا پہنچی۔ دیگر آمدنی 970 ملین روپے سے 1.58 ارب روپے تک پہنچی، جو تقریباً 63 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ تاخیر سے ادائیگی پر مارک اَپ کی زیادہ شرح نے بھی دیگر آمدنی کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ 

دوسری جانب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی آمدنی فی حصص (EPS) اس عرصے کے دوران 10.69 روپے سے گھٹ کر 9.02 روپے ہوگئی۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی کی سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (SNGPL) کی جانب سے واجب الادا رقم 2.4 ارب روپے تک جا پہنچی جبکہ اسی دوران بجلی کے شعبے کے واجبات گھٹتے ہوئے 8.9 ارب روپے تک جا پہنچے۔ یہ بات بھی یہاں قابلِ ذکر ہے کہ پی ایس او کے منافع میں مالی سال ‏2018-19ء‎ کے دوران پچھلے سال کے مقابلے میں 2.30 فیصد کی کمی آئی تھی۔ 0 جون 2019ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر پی ایس او کے پاس کُل 42.40 فیصد مارکیٹ شیئر تھا۔ ملک میں معیشت کی کڑی صورت حال کے باوجود کمپنی نے مارکیٹ شیئر کا بڑا حصہ برقرا رکھا۔ معیشت کے سکڑنے کے موجودہ عمل نے ملک کے دیگر شعبوں کی طرح آئل سیکٹر کے مجموعی آپریٹنگ لاگت اور اخراجات بھی بڑھا دیے ہیں۔ 

اپنی رائے نیچے تبصروں میں دیجیے اور آٹوموبائلز کے حوالے سے آگاہ رہنے کے لیے پاک ویلز کے ساتھ رہیں۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top