2016 ٹویوٹا کرولا GLi آٹومیٹک پر ایک صارف کا غیر جانبدار تجزیہ

2016 Toyota Corolla GLi Feature

اصل مدعے پر آنے سے پہلے قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کہ کسی بھی گاڑی پر یہ میرا پہلا مفصل تبصرہ ہے۔ اس تبصرے کو پڑھ کر آپ بخوبی اندازہ لگاسکیں گے میں تکنیکی اور مشکل چیزیں بیان کر کے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ ایک عام شخص کی حیثیت سے اپنی نئی گاڑی سے متعلق اظہار خیال کر رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اسے تمام ہی قارئین سہل پائیں گے اور اپنے لیے اس گاڑی کو منتخب کرنے یا نہ کرنے سے متعلق بہتر رائے قائم کرسکیں گے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گاڑی خریدتے ہوئے اس کی قیمت بہت زیادہ معنی رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں نئی گاڑیوں کے بہت کم آپشن موجود ہیں جس کی بنیادی وجہ گاڑیاں بنانے والے تین اداروں سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا کی اجارہ داری ہے۔ اس اجارہ داری کے نتائج صارفین کے لیے زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ اس کی مثال ایئر بیگز کی سہولت سے لی جاسکتی ہے جسے گاڑی میں ‘اضافی خصوصیت’ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے حالانکہ یہ بنیادی و ضروری خصوصیات میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ معیار اور قیمت پر بھی اجارہ داری کے منفی اثرات اپنی جگہ موجود ہیں۔

میں نے حال ہی میں سفید رنگ کی 2016 ٹویوٹا کرولا GLi آٹومیٹک خریدی ہے۔ اس کی خوبیوں اور خامیوں کا خلاصہ درج ذیل ہے:

خوبیاں خامیاں
خوبصورت انداز غیر معیاری پلاسٹک
وسیع اور کشادہ اسٹیئرنگ لاک میں مسائل
بہترین سسپنشن سفید فلور میٹس
امموبلائزر دستیاب کا وقت 4 ماہ
ریموٹ کنٹرول ایندھن کی مناسب بچت
ناقابل استعمال اسپیکرز

ٹویوٹا کرولا GLi کا ظاہری انداز

یہ بلاشبہ ایک خوبصورت گاڑی ہے جو ٹویوٹا کیمری (Camry) سے کافی ملتی جلتی ہے۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹس اور اسٹاپ لائٹس کافی جارحانہ انداز سموئے ہوئے ہیں جس سے گاڑی کی مجموعی شکل کافی اچھی اور اسپورٹی نظر آتی ہے۔یوں تو ٹویوٹا کرولا ہے ہی خوبصورت لیکن اگر ہلکے رنگوں میں ہو تو اس کی قد و قامت اور curves اور بھی نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ اب تک تیار کی جانے والی تمام کرولا میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔ گاڑی کے ہر نئے ماڈل کا ڈیزائن پہلے سے زیادہ اچھانہیں ہوتا لیکن اس کرولا کے ذریعے ٹویوٹا نے اپنے مداحوں کے دل کا وہ تار چھیڑ دیا ہے جس کے سرور سے وہ جلد نہیں نکل پائیں گے۔ پھر کرولا استعمال کے بعد بھی اچھی قیمت پر فروخت ہونے کی وجہ سے بھی بہت سے لوگوں کا اولین انتخاب بن چکی ہے۔

2016 Toyota Corolla

ٹویوٹا کرولا 2016 میں رنگوں کی دستیابی ماڈلز کے اعتبار سے دستیاب ہے۔ XLi صرف سفید (Pearl White) اور سیاہ (Black) میں دستیاب ہے جبکہ GLi میں چند رنگ اضافی ہیں۔ البتہ سب سے زیادہ مشہور رنگ دودھیا سفید (Super White) ہے جو صرف 1.6 آلٹِس اور اس سے بہتر ماڈلز ہی میں دستیاب ہے۔ ذاتی طور پر مجھے آلودگی کی وجہ سے سیاہ رنگ کبھی نہیں بھاتا کیوں اسے صاف اور چمکدار رکھنے کے لیے بہت زیادہ وقت اور محنت صرف کرنا پڑتی ہے۔

ٹویوٹا کرولا GLi کا اندرونی حصہ

کرولا GLi کے اندر جھانکیں تو اس کا زیادہ تر حصے سیاہ اور زردی مائل سفید رنگ میں نظر آئے گا۔ ان دونوں یکسر مختلف رنگوں کا امتزاج کافی اچھا اور منفرد ہے۔ نئی کرولا کا ڈیش بورڈ ڈیزائن مشہور زمانہ آٹھویں اور نویں جنریشن ہونڈا سِوک کے جہاز نما interior سے یکسر مختلف ہے۔ بہرحال، ٹویوٹا اور ہونڈا کے مداحوں کے پاس اپنی من پسند گاڑیوں کے حق میں کافی ٹھوس دلائل موجود ہی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر ہونڈا کا ڈیجیٹل اسپیڈومیٹر کافی پسند ہے۔ اس کے برعکس کرولا GLi کے ڈیش بورڈ پر گول دائروں میں میٹرز دیئے گئے ہیں جو بہرحال اپنی جگہ بہترین معلوم ہوتے ہیں۔ بالخصوص رات کو نیلی روشنیوں میں یہ اور بھی زیادہ پُرکشش نظر آتے ہیں۔ ماسوائے گرانڈے کرولا کے تمام ہی ماڈلز میں دروازوں پر دیئے گئے آرم ریسٹ پر بہت غیر معیاری کپڑا استعمال کیا گیا ہےجس کے جلد ہی خراب ہونے کے امکانات ہیں۔کرولا گرانڈے میں آرم ریسٹ پر چمڑا استعمال کیا گیا ہے جو کافی اچھا اور پائیدار ہے۔

2016_Toyota_Corolla interior

اس کے علاوہ کئی ایک جگہوں مثلاً بونٹ اور پیٹرول ٹینک کا ڈھکن کھولنے والے بٹن وغیرہ پر سستا پلاسٹک استعمال کیا گیا ہے۔ اگر درآمد شدہ گاڑیوں اور مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کا موازنہ کریں تو ان میں ایک بہت واضح اور بنیادی فرق اندرونی حصے میں استعمال ہونے والی پلاسٹک اور کپڑے کے معیار کا بھی ہے۔بدقسمتی سے ملک میں تیارہونے والی گاڑیوں میں معیار کو ترجیح ہی نہیں دی جاتی۔اسی وجہ سے اس وقت شدید افسوس ہوتا ہے کہ جب تقریباً 20 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود آپ کو ایسی گاڑی میسر آتی ہے جو معیاری کے اعتبار سے نصف قیمت میں دستیاب درآمد شدہ گاڑی کے برابر بھی نہیں ہے۔ نشستوں (seats) کی اگر بات کریں تو انہیں مناسب ہی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ آرامدہ تو بالکل بھی نہیں۔ میرے خیال سے seats کے کنارے زیادہ اونچے نہیں رکھے گئے جس کی وجہ سے درمیان میں گہرائی اور seat کی مجموعی چوڑائی کم ہوگئی ہے۔اس پر بیٹھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ نرم لیکن ہموار صوفے پر بیٹھے ہیں۔ یہ امر ان لوگوں کے لیے زیادہ اہم اور مسئلہ کا باعث بن سکتا ہے جو لمبے سفر کے لیے گاڑی بکثرت استعمال کرتے ہیں۔

ٹویوٹا کرولا GLi میں شامل خصوصیات

ٹویوٹا کرولا XLi اور GLi دونوں ہی عام میوزک سسٹم کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔ ان دونوں ہی ماڈلز میں کوئی ملٹی میڈیا اسکرین موجود نہیں البتہ 1.6 آلٹِس میں اسکرین دستیاب ہے۔ گرانڈے میں 7انچ کی ٹچ اسکرین اور اینڈرائیڈ کی مدد سے تیار کردہ سسٹم موجود ہے۔چونکہ میں دوران سفر موسیقی سننا پسند کرتا ہوں اسی لیے اپنی GLi میں جس چیز کا سب سے پہلے اضافہ کیا وہ 10 انچ اسکرین اور عقبی کیمرہ تھا۔ آپ یہ دونوں ہی چیزیں ٹویوٹا کے شوروم یا ڈیلر سے لگواسکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو 50 ہزار روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ اس کے برعکس عام مارکیٹ میں دستیاب اینڈرائیڈ سسٹم کے ساتھ 10 انچ اسکرین صرف 30 ہزار روپے میں لگوایا جاسکتا ہے۔اور اگر آپ اینڈرائیڈ کے بغیر میوزک سسٹم لگوانا چاہیں تو یہ تقریباً 15 ہزار روپے میں باآسانی لگ جائے گا۔ اس کے ساتھ کرولا کے اسپیکرز بھی تبدیل کروانا نہ بھولیں کیوں کہ بہت ہی غیر معیاری ہیں۔ مجھے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آئی کہ جب چند ہزار روپے خرچ کر کے اس خوبصورت گاڑی میں زبردست میوزک سسٹم لگوایا جاسکتا ہے تو پھر ٹویوٹا اتنی کنجوسی کا مظاہرہ کیوں کر رہا ہے۔

2016 Toyota Corolla GLi Interior

حال ہی میں ٹویوٹا نے سب سے مطلوب حفاظتی سہولت امموبلائزر (immobilizer) کرولا میں شامل کی ہے۔ امموبلائزر ایک ایسا حفاظتی برقی نظام ہے جس کے ذریعے گاڑی کی چوری تقریباً ناممکن بنائی جاسکتی ہے۔ یہ نظام انجن کو اس وقت تک On نہیں کرتا جب تک اس انجن کو گاڑی کی اصلی چابی سے اسٹارٹ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ یوں گاڑی میں زبردست داخل ہو کر اسے تاروں کے ذریعے اسٹارٹ کر کے چوری کرنے کا طریقہ کار گر نہیں رہتا۔ افسوس ناک بات یہ ہے اس انتہائی اہم اور ضروری سہولت کو کرولا XLi میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ چوری ہونے والی گاڑی کا اعزاز رکھنے والی کرولا (Toyota Corolla) میں شاید سب سے زیادہ درکار سہولت امموبلائزر ہی کی ہوگی۔

ٹویوٹا کرولا GLi کے بارے میں حتمی رائے

یہ ایک خوبصورت گاڑی ہے جس کا نہ صرف ظاہری انداز بلکہ اندرونی حصہ بھی کافی اچھا ہے۔ گاڑی چلانے کا تجربہ بھی کافی مثبت رہا جس میں کرولا کے suspensions کا کردار بہت اہم ہے۔کرولا GLiایندھن کی بچت کے حوالے سے مناسب کہی جاسکتی ہے۔ میں نے جب پہلی بار فیول ٹینک بھروا کر اپنی کرولا GLi آٹومیٹک میں سفر کیا تو مجھے 6 کلومیٹر فی لیٹر کی مائلیج حاصل ہوئی جس نے مجھے کافی خوف زدہ کردیا۔ میں نے اسے دوبارہ چیک کروایا تو ایک کمپیوٹر کی مدد سے ڈیجیٹل میٹر کو درست کیا گیا کیوں کہ اسے ٹھیک کرنے کا دستی طریقہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے میرے دوست کا کہنا ہے کہ کرولا GLi آٹو میٹک ایک کلویٹر میں 10 سے 11 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ اگر AC کے بغیر یا پھر ہائی وے پر چلائیں تو یہ مائلیج اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

کرولا GLi آٹومیٹک کی چند گاڑیوں میں اسٹیئرنگ لاک کا بھی مسئلہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے لیے آپ کو اسٹیئرنگ کو پورا چکر دینا پڑتا ہے بصورت دیگر وہ لاک ہی نہیں ہوتا۔ میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہوا جس پر ڈیلرشپ نے اسٹیئرنگ کے اندر موجود پرزوں میں سے چند تبدیل کیے اور مسئلہ حل ہوگا۔ اگر آپ کے پاس بھی کرولا ہے تو اسٹیئرنگ لاک کو ہرگز نظرانداز نہ کریں۔ اس حوالے سے میں نے انڈس موٹرز کمپنی (IMC)کو بھی آگاہ کیا ہے تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ وہ اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں۔ یہاں میں ٹویوٹا والٹن موٹرز (لاہور) کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے نہ صرف میری گاڑی کے مسائل سنے بلکہ انہیں فی الفور حل کرنے کی بھی کوشش کی۔

کرولا گرانڈے کے عاوہ اگر کوئی اور ماڈل لینے جائیں تو یاد رکھیے گا کہ چار ماہ کے طویل اور صبر آزما انتظار کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ البتہ 1 لاکھ روپے اضافے رقم دے کر آپ قدرے کم عرصے میں اپنی گاڑی حاصل کرسکتے ہیں۔ گو کہ کار ساز ادارہ ایسے کسی بھی طریقے کو باضابطہ طور پر ماننے سے انکاری ہے تاہم مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس چور بازاری کے درپردہ انڈس موٹر کمپنی اور ڈیلر بھی اضافی رقم کے بدلے جلد گاڑی فراہم کرنے کا کام کر رہے ہیں جس سے بہرحال نقصان عام آدمی ہی کا ہورہا ہے۔

غرض یہ کہ مجھے اپنے محدود بجٹ اور مارکیٹ میں دستیاب نئی گاڑیوں میں سب سے بہتر ٹویوٹا کرولا 2016 ہی لگی اور چند ایک چھوٹے موٹے مسائل کو چھوڑ کر میں اپنے انتخاب سے بہت مطمئن ہوں۔

Hasnain Iqbal

Presently Joint Director Punjab Information Technology Board. Before that, I was working at Shell Pakistan as B2B Manager. Overall 15 years of experience with global companies like Shell and Schneider Electric in diverse roles. Also an Oped contributor for Express Tribune

Top