کار امپورٹرز کو اضافی ڈیوٹی مقامی کرنسی میں ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی


کراچی پورٹ پر پھنسی ہوئی گاڑیاں نکلوانے کے لیے حکومت نے امپورٹرز کو اضافی ڈیوٹی کی مقامی کرنسی میں ادائیگی کی اجازت دے دی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق بڑی تعداد میں گاڑیاں کراچی پورٹ پر پھنسی ہوئی ہیں جو غیر ملکی زرِ مبادلہ میں ڈیوٹی کلیئرنس کی منتظر ہیں۔ ان گاڑیوں کے مالکان طویل عرصے سے اپنی گاڑیاں کلیئر نہ کروانے کی وجہ سے کافی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ البتہ اس حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں وزارت تجارت (MoC) نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2016ء میں ایک ترمیم کی ہے، جسے آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں: 

نئی ترمیم ان گاڑیوں کے مالکان کی مدد کرے گی کہ حکومت سے باآسانی کلیئرنس  کروا سکیں۔ 

قبل ازیں حکومت نے اِن درآمد شدہ گاڑیوں پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیزکی ادائیگی غیر ملکی زرِ مبادلہ میں کرنے کی پابندی لگائی تھی، چاہے وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی شہری کی طرف سے کی جائے یا مقامی طور پر وصول کرنے والے کی جانب سے۔ یہ ادائیگی بینک اِن کیشمنٹ سرٹیفکیٹ کی صورت میں ہوتی ہے جو ثابت کرتا ہے کہ غیر ملکی زر مبادلہ مقامی کرنسی میں منتقل کیا گیا ہے۔ 

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جمبو انٹرنیشنل کلیئرنگ ایجنسی کے سی ای او ارگان طاہر کے مطابق کے ذریعے گاڑی کی درآمد کی شرط تاحال برقرار ہے اور مقامی کرنسی میں ادائیگی کی سہولت صرف اُس اضافی ٹیکس یا ڈیوٹی پر دی گئی ہے جو روپے کی قدر میں کمی یا اضافے کی صورت میں ٹیکس یا ڈیوٹی  پر لاگو ہوئی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہت اتار چڑھاؤ آیا ہے جس کا نتیجہ واجب الادا ٹیکس یا ڈیوٹی میں تبدیلی کی صورت میں آیا ہے اور یوں مالکان کی گاڑیاں پورٹ پر پھنس گئیں۔ اس لیے حکومت نے باقی رقم (اگر ہو تو) پاکستانی روپے میں ادا کرکے اپنی گاڑی کم وقت میں کلیئر کروانے کی اجازت دی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امپورٹرز کو  کلیئرنس ٹیکس یا ڈیوٹی کی پوری رقم مقامی کرنسی میں ادا کرنا ہوگی۔ 

ڈیوٹی میں کمی کی شرائط کے تحت گاڑیوں کی منظوری کے لیے یہ نئی ترمیم پچھلے سال 15 جنوری سے نافذ العمل ہوگی۔

حکومت کے عہدیداران کا خیال ہے کہ یہ اقدامات امپورٹ اسکیموں (گفٹ، پرسنل اور بیگیج) کے تحت کار اِمپورٹ پالیسی کا غلط استعمال روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ دوسری جانب حکومت سالانہ درآمدی بل گھٹانے کے لیے ملک میں درآمدات کی حوصلہ شکنی بھی کر رہی ہے۔ البتہ یہ قدم کراچی پورٹ پر پھنسی گاڑیوں کے مالکان کے لیے سکون کا سانس ثابت ہوگا۔ کم از کم حکومت کی جانب سے ان گاڑیوں کو چھڑوانے کے لیے کوئی قدم تو اٹھایا گیا ہے کہ جو 12 مہینوں سے بندرگاہ پر پھنسی ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ گاڑیوں کے بارے میں مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ 


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top