ہونڈا بی آر-وِی فیس لفٹ بمقابلہ ٹویوٹا رَش: کون سی گاڑی بہتر ہے؟


12 اکتوبر 2019ء کو ہونڈا اٹلس کارز پاکستان لمیٹڈ کی کومپیکٹ کراس اوور SUV متعدد فیچرز کے ساتھ فیس لفٹ 2019ء ماڈل کے طور پر مقامی مارکیٹ میں پیش کی گئی۔ یہ جاپانی آٹو مینوفیکچرر پچھلے کچھ مہینوں سے اپنی گاڑیوں کی فروخت برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے، غالباً یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے اپنے مخلص صارفین کے لیے نئے فیچرز متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔ مقامی مارکیٹ میں دستیاب دیگر گاڑیوں کی طرح ہونڈا BR-V بھی ملک میں اقتصادی سُست روی کی وجہ سے اپنی کشش کھو بیٹھی ہے۔ گاڑیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے مقامی آٹومیکرز کے لیے اپنی گاڑیاں فروخت کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ البتہ BR-V میں نئے فیچرز متعارف کروانا کھویا ہوا اعتماد حاصل کرنے کی ایک اور کوشش ہے، لیکن اس کی وجہ سے بھی قیمت میں اضافہ ہی ہوا۔ مقامی انڈسٹری میں ٹویوٹا رَش کومپیکٹ SUV کی کیٹیگری میں دوسرا آپشن ہے، جو خصوصیات کے لحاظ سے ہونڈا BR-V کی مقابل بنتی ہے۔ یہ تحریر ان دو گاڑیوں کا تفصیلی تقابل پیش کرتی ہے کہ کون سی گاڑی آپ کے پیسوں کا بہترین متبادل پیش کرتی ہے۔ 

انجن اور ٹرانسمیشن: 

ہونڈا BR-V اور ٹویوٹا رَش دونوں 1.5 لٹر 4-سلنڈر انجن سے لیس ہیں۔ ہونڈا BR-V ایک فرنٹ ویل گاڑی ہے، جبکہ ٹویوٹا رَش ریئر ویل ڈرائیو ہے۔ دونوں جاپانی اداروں کی کومپیکٹ SUVs مینوئل یا آٹومیٹک ٹرانسمیشن میں آتی ہیں۔ BR-V کا طاقتور انجن 6600 rpm پر زیادہ سے زیادہ 88Kw کی طاقت اور 4600 rpm پر زیادہ سے زیادہ 145 Nm کا ٹارک دیتا ہے۔ دوسری جانب ٹویوٹا رَش 6000 rpm پر زیادہ سے زیادہ 77 kW کا آؤٹ پُٹ اور 4200 rpm پر 136 Nm کا ٹارک دیتا ہے۔ BR-V اور رَش کا کمپریشن ریشو بالترتیب 10.3 اور 11.5 ہے۔ دونوں کومپیکٹ کراس اوور SUVs رفتار کے معاملے میں کافی زبردست ہیں اور تقریباً ایک جیسی انجن خصوصیات رکھتی ہیں۔ 

پیمائش اور گنجائش: 

ٹویوٹا رَش نسبتاً زیادہ لمبی ہے جو BR-V کی 4353 mm کے مقابلے میں 4435 mm لمبی ہے۔ BR-V کی مجموعی چوڑائی اور اونچائی 1753 mm اور 1666 mm ہیں، جبکہ رَش 1695 mm اور 1705 mm ہے۔ ٹویوٹا رَش نسبتاً اونچی بھی ہے۔ رَش کی کم از کم گراؤنڈ کلیئرنس بھی BR-V سے بہتر ہے جو 201 mm کے مقابلے میں 220 mm کی گراؤنڈ کلیئرنس رکھتی ہے۔ دونوں گاڑیوں کی ویل بیس تقریباً ایک جتنی ہے، پھر کم از کم ٹرننگ ریڈیئس بھی اتنا ہی ہے۔ ہونڈا اٹلس نے BR-V کے ساتھ 16 انچ کے الائے ویلز فراہم کیے جبکہ ٹائروں کا سائز 195/60 R16 ہے، جبکہ رَش اسی 16-انچ الائے ویلز کے ساتھ 215/65R16 ٹائروں میں آتی ہے۔ پیمائش اور گنجائش کے لحاظ سے دونوں SUVs کے درمیان بہت کم فرق ہے۔

بریکنگ اور سسپنشن: 

دونوں جاپانی اداروں نے اپنی گاڑیاں عمدہ بریکنگ سسٹم کے ساتھ پیش کی ہیں جو فرنٹ میں وینٹی لیٹڈ ڈسکس اور پیچھے ڈرم بریکس ہیں۔ ان کے ساتھ دونوں گاڑیوں کے فرنٹ سسپنشن میک فرسن اسٹرٹ سے لیس ہیں جبکہ ریئر سسپنشن ٹورشن بیم کے ساتھ آتے ہیں۔ 

ایکسٹیریئر: 

ہونڈا BR-V اور ٹویوٹا رَش دونوں جارحانہ شکل رکھتی ہیں۔ ٹویوٹا رَش البتہ BR-V کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور جاندار صورت کی حامل ہے۔BR-V کی ہیڈلائٹس ہیلوجن ہیڈلیمپس کے ساتھ فراہم کی گئی ہیں جبکہ رَش LED لیمپس سے لیس ہے۔ ہیڈلائٹس LED ڈے ٹائم رننگ لائٹس رکھتی ہیں جو سڑک پر گاڑی کی موجودگی کو بہتر بناتا ہے۔ فوگ لائٹس دونوں کومپیکٹ کراس اوورز میں موجود ہیں، اور سائیڈ مررز باڈی کی رنگت کے ہی ہیں اور ان کے اندر ٹرن سگنلز موجود ہیں۔ بیرونی دروازوں کے ہینڈلز البتہ BR-V میں کروم جبکہ رَش میں باڈی کلرڈ ہیں۔ ڈور وائزرز BR-V میں ڈیفالٹ کے طور پر موجود ہیں۔ دونوں گاڑیاں روف ریلز اور کروم فرنٹ ریڈی ایٹر گرِل رکھتی ہیں۔ ان گاڑیوں کا ایکسٹیریئر ایروڈائنامک شکل کا ہے، جو ایندھن پر زیادہ سے زیادہ بچت دیتا ہے، وہ بھی طاقت پر سودا کیے بغیر۔ 

انٹیریئر اور فیچرز:

ہونڈا BR-V دو رنگوں کے انٹیریئر کے ساتھ ایک کشادہ کیبن رکھتی ہے جو مسافروں کو تازگی کا احساس دیتا ہے۔ ٹویوٹا رَش بھی ایک خوبصورت انٹیریئر کے ساتھ آتی ہے کہ جس میں مسافروں کے آرام اور سہولت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد فیچرز موجود ہیں۔ دونوں گاڑیاں متعدد یکساں فیچرز رکھتی ہیں جن میں پُش اسٹارٹ سسٹم کے ساتھ اسمارٹ اٹری، سینٹر کونسول، ریئر AC وینٹی لیشن، ڈرائیور سیٹ ہائٹ ایڈجسٹر، 3- اسپوک اسٹیئرنگ ویل۔ کپ اور بوتل ہولڈرز، 12V پاور آؤٹ لیٹ، ہیڈ ریسٹرینٹ، فرنٹ اور ریئر پاور وِنڈوز، سینٹرل ڈور لاکنگ سسٹم، ہیٹر، اسسٹ گرِپس، سن وائزرز، کروم اندرونی ڈور ہینڈلز اور ڈرائیور سیٹ بیلٹ کا ریمائنڈر شامل ہیں۔ مزید یہی کہ BR-V ڈیجیٹل انٹیگریٹڈ ایئر کنڈیشننگ سسٹم رکھتی ہے، جبکہ رَش میں ڈوئل زون آٹومیٹک ایئر کنڈیشننگ ہے۔ حالیہ فیس لفٹ ورژن میں ہونڈا اٹلس نے BR-V میں کچھ گارنش کا اضافہ کیا ہے کہ جو رَش میں موجود نہیں ہیں۔ مزید سہولت کے لیے دونوں گاڑیوں کے اسٹیئرنگ ویل میں ٹلٹ ایڈجسٹمنٹ دی گئی ہے۔ اسٹیئرنگ ویل انٹیگریٹڈ آڈیو کنٹرولز کے ساتھ بھی آتا ہے۔ 

کنیکٹیوِٹی اور انٹرٹینمنٹ: 

جاپانی اداروں کی دونوں SUVs میں مسافروں کے لیے انٹرٹینمنٹ فیچرز پیش کیے گئے ہیں۔ ہونڈا BR-V ایک 7 انچ کا ڈسپلے آڈیو سسٹم رکھتی ہے جبکہ اسی سائز کی ٹچ اسکرین ٹویوٹا رَش میں موجود ہے، اور یہ ایپل کار پلے اور اینڈرائیڈ آڈیو کنیکٹیوِٹی سے لیس ہے۔ دیگر بنیادی کنیکٹیوٹی فیچرز میں بلوٹوتھ، USB پورٹ، AUX اور ہینڈز فری ٹیلی فون شامل ہیں جو دونوں گاڑیوں میں موجود ہیں۔ 

سیفٹی اور سکیورٹی فیچرز: 

جب مسافروں کے تحفظ کا معاملہ ہوتا ہے تو ٹویوٹا رَش ہونڈا BR-V کے مقابلے میں زیادہ فیچرز دیتی ہے۔ عموماً بھی پاکستان میں ٹویوٹا انڈس کی گاڑیاں ہونڈا اٹلس کی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ سیفٹی اور سکیورٹی دیتی ہیں۔ ہونڈا سٹی کے تمام ویرینٹس اب بھی بنیادی سیفٹی فیچرز سے محروم ہیں۔ ٹویوٹا رَش زیادہ سے زیادہ چھ ایئر بیگز رکھتی ہے جس میں شامل ہیں ڈرائیور اور اگلی سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر دونوں کے لیے ایک، ایک، دو فرنٹ سائیڈز پر اور دو کرٹن شیلڈز کے طور پر۔ چھ ایئر بیگز کی موجودگی کسی بھی تصادم کی صورت میں زخمی ہونے کے امکانات کو بہت حد تک گھٹا دیتی ہے۔ دوسری جانب ہونڈا BR-V میں صرف دو ایئر بیگز ہیں (ڈرائیور اور اگلے مسافر کے لیے ایک، ایک)۔ دونوں گاڑیاں آگے اور پیچھے 3-پوائنٹ ELR سیٹ بیلٹس رکھتی ہیں، لیکن ٹویوٹا رَش میں فورس لمیٹرز کے ساتھ فراہم کی گئی ہیں۔ دونوں SUVs میں پیچھے درمیان میں بیٹھنے والے مسافر کے لیے بھی بیلٹ بھی موجود ہے۔ ایک اور اہم سیفٹی فیچرز بچوں کے لیے ہے جسے ISO چائلڈ فِکس کہا جاتا ہے جو دونوں گاڑیوں میں پچھلے حصے میں موجود ہے۔ مزید برآں، اینٹی لاک بریکنگ سسٹم (ABS) بھی دونوں گاڑیوں میں موجود ہے، الیکٹرونک بریک ڈسٹری بیوشن سسٹم (EBD) کے ساتھ جو بہتر بریکنگ تجربے کو یقینی بناتا ہے۔ 

BR-V اور رَش سکیورٹی الارم سسٹم سے لیس ہیں جو گاڑی کی سکیورٹی کو یقینی بناتی ہے۔ وہ بہتر سکیورٹی اور سہولت کے لیے ایک اموبیلائزر کی لیس انٹری سسٹم کے ساتھ بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ٹویوٹا رَش کو متعدد انوکھے فیچرز بھی مزید بہتر بناتے ہیں کہ جو BR-V میں موجود نہیں ہیں اس میں ہِل اسٹارٹ اسسٹ کنٹرول شامل ہے جو گاڑی کو چڑھائی پر چڑھنے اور پہیوں کے واپس پیچھے جانے سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ وہیکل اسٹیبلٹی کنٹرول سسٹم کے ساتھ ٹریکشن کنٹرول بھی رکھتی ہے۔ ریئر پارکنگ سینسرز بھی ٹویوٹا رَش میں موجود ہیں جو گاڑی کو محفوظ پارکنگ میں مدد دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر رَش سیفٹی اور سکیورٹی فیچرز کے لحاظ سے BR-V کے مقابلے میں زیادہ زبردست ہے۔ 

دستیاب رنگ: 

ہونڈا BR-V مقامی مارکیٹ میں سات رنگوں میں دستیاب ہے اور ٹویوٹا رَش چھ مختلف رنگوں میں آتی ہے۔ دستیاب رنگوں کی تفصیلات نیچے ٹیبل میں موجود ہیں: 

قیمت: 

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اس تحریر میں دونوں گاڑیوں کے بہترین ویریئٹس کا تقابل کیا گیا ہے۔ ان دستیاب SUVs کی قیمتوں میں بڑا فرق ہے۔ ہونڈا BR-V آٹو ورژن 32 لاکھ 49 ہزار روپے میں آتا ہے جبکہ ٹویوٹا رَش کے آٹو ورژن کی قیمت 52 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں گاڑیوں کی ایکس-فیکٹری قیمتیں ہیں۔ 

BR-V فیس لفٹ کا وڈیو ریویو یہاں دیکھیں: 

ٹویوٹا رَش کا ریویو ادھر ملاحظہ کریں: 

ہماری طرف سے اتنا ہی۔ آپ کے خیال میں کون سی گاڑی آپ کے پیسوں کا بہترین نعم البدل ہے۔ ہمیں نیچے تبصروں میں ضرور بتائیں اور مزید خبروں کے لیے پاک وِیلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top