ہونڈا سِوک اوریئل پروسمیٹک بمقابلہ ٹویوٹا کرولا آلٹس گرانڈے

civic-v-corolla

جتنی یہ دونوں گاڑیاں آپ کو پاکستان کی سڑکوں پر نظر آتی ہیں، یقین جانیے، ہمیں اس سے کہیں زیادہ مرتبہ اپنے قارئین کی جانب سے فرمائش موصول ہوئی کہ ان دونوں کا موازنہ پیش کیا جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ہی گاڑیاں اپنی جگہ بہترین ہیں۔ دونوں ہی کی اپنی خصوصیات اور خامیاں ہیں۔ اور دونوں ہی گاڑیوں کے مداح سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ ایک طرف ہونڈا پسند کرنے والے ہونڈا گاڑیوں کی طرفداری کرتے ہیں تو دوسری جانب ٹویوٹا کے چاہنے والے بھی ٹویوٹا کی تعریف میں آسمان و زمین ایک کردیتے ہیں۔ آئندہ سال نئی ہونڈا سِوک 2016 کی پاکستان آمد کے بعد ہمیں توقع ہے کہ ہونڈا کے مداحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگا۔ لیکن یہاں کرولا کی 11 ویں جنریشن کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جو اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ پاکستان میں دھوم مچا رہی ہے۔

نئی ٹویوٹا کرولا کی پاکستان میں پسندیدگی اور فروخت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر آپ آج نئی کرولا گاڑی کا آرڈر کریں تو وہ اندازاً چار ماہ بعد آپ کو مل سکے گی البتہ تھوڑی زیادہ رقم خرچ کر کے آپ جلد بھی حاصل کرسکتےہیں۔ حالانکہ انڈس موٹرز کی جانب سے مہنگی ترین کرولا آلٹس گرانڈے 1800 سی سی محض 30 دن میں دئیے جانے کا وعدہ کئی بار دہرایا جا چکا ہے۔اس وقت 1300 سی سی انجن والی کرولا سب سے زیادہ مقبول ہے جبکہ کرولا گرانڈے کا شمارپرتعیش اور مہنگی ترین کرولا میں کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ہونڈا سِوک کی فروخت میں مسلسل تنزلی جاری ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہونڈا پسند کرنے والےنئی سِوک خریدنے کے لیے مزید ایک سال انتظار کر رہے ہوں۔ ویسے بھی عام رجحان یہ کہ سال کے آخری مہینوں میں گاڑیوں کی لین دین کم ہوجاتی ہے اور زیادہ تر لوگ نئی سال کی نئی گاڑی لینا پسند کرتے ہیں۔ ہونڈا سِٹی کی فروخت نسبتاً بہتر ہے اورچند ماہ قبل یہ 40 ہزار روپے اضافی قیمت پر فروخت ہورہی تھی۔ مگر اب آپ صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور آپ نئی سِٹی ادارے کی متعین قیمت پر خرید سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا سِوک 2016 کی امریکا میں فروخت شروع اور پاکستان میں؟؟؟

ہر شخص کا گاڑی چلانے کا تجربہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ ایک گاڑی میں جو چیز مجھے پسند آئے وہ آپ کے دل کو بھی بھائے۔ اس لیے میں کوشش کروں گا کہ اس مضمون میں ذاتی پسند و ناپسند بیان کرنے سے پرہیز کروں۔ تاہم ان گاڑیوں سے متعلق عام آراء ضرور شامل کروں گا جو صبح و شام اٹھتے بیٹھتے ان گاڑیوں کے مالکان سے سنتے رہتے ہیں۔ یہ آراء مثبت اور منفی دونوں نوعیت کی ہوسکتی ہیں۔

ٹویوٹا کرولا آلٹِس گرانڈے

اس گاڑی سے متعلق تبصرے سے پہلے میں چاہوں گا کہ آپ کو کرولا آلٹِس گرانڈے کی خصوصیات بتاتا چلوں۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھیے گا کہ آج ہم سب سے بہترین کرولا کی بات کر رہے ہیں۔
قیمت: 23,19,000 روپے
انجن: ڈیول VVT-i مع انلائن 4 ڈی او ایچ سی
سیکونشل فیول انجکشن
آٹو میٹک گیئرCVT-i
پیڈل شفٹرز
کروز کنٹرول
چاروں پہیے کے لیے ڈِسک بریکس [ABS + EBD + BA]
آواز سے حرکت کرنے والا اسٹیئرنگ ویل بمع EPS
55 لیٹر تک ایندھن رکھنے کی گنجائش
چھت پر کھڑکی (Sunroof)
تفریح کے لیے 8 انج کی ایل سی ڈی، 6 اسپیکرز+ عقبی کیمرہ
رفتار: 138 بریک ہارس پاور اور 173 نیوٹن میٹر ٹارک

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا سِوک 2016ء بمقابلہ ٹویوٹا کرُولا 2015ء

باہری حصہ

ٹویوٹا انڈس موٹرز نے موجودہ کرولا سال 2014 میں جولائی کے مہینے میں پیش کی تھی۔ اس کے بعد پاکستانی قوم تو جیسے اس کرولا کی دیوانی ہوگئی۔ اس گاڑی کا انداز پرانے ماڈلز سے بہت زیادہ مختلف اور نئے دور کے اعتبار سے بہت مناسب ہے کہ جس میں جدت سے ہم آہنگی بھی ہے اور خوبصورتی بھی ہے۔ کرولا کے اگلے حصے میں ہلکی سطور ابھاری گئی ہیں جو بیک وقت جدت سے ہم آہنگ اور جذباتیت سے بھرپور لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس گاڑی کو سال 2014 سے ہی بہت پزیرائی حاصل ہورہی ہے۔ اس میں 15 انچ کے پہیوں کے ساتھ 195 پروفائل جنرل ٹائرز پیش کیے جاتے ہیں۔ چونکہ گاڑی کو 16 انچ پہیوں کی مناسبت سے تیارہ کیا گیا تھا اس لیے 15 انچ کے پہیے میں 195 پروفائل کے ٹائر قدرے چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ آلٹِس گرانڈے کے دروازوں میں کروم ہینڈلز لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اگلے حصے کی گرل اور پچھلے حصہ بھی کروم سے آراستہ ہیں۔ عقب میں دیکھنے کے لیے لگائے گئے دائیں اور بائیں شیشوں میں لائٹس بھی شامل ہیں۔ دھند میں استعمال ہونے والی خصوصی روشنیوں کو بھی اگلے حصے میں لگایا گیا ہے۔ آلٹِس گرانڈے 9 رنگوں میں دستیاب ہے۔

corolla exterior

اندرونی حصہ

کرولا آلٹِس گرانڈے کے اندرونی حصے کو زرد رنگ سے مزین کیا گیا ہے اور آپ اس میں چمڑے کی نشستیں بھی لگواسکتے ہیں۔ ٹویوٹا نے پرانی گاڑیوں کی نسبت نئی کرولا میں بنائی گئی نشستیں کافی آرامدے رکھی ہیں جن پر بیٹھ کر آپ اطمینان سے اپنی ٹانگیں پھیلا سکتے ہیں۔ اگلی نشستوں پرڈرائیور اور مسافر کے لیے اضافی خصوصیات رکھی گئی ہیں جن میں نشست کی اونچائی بڑھانے اور گھٹانے کا انتخاب بھی شامل ہیں۔ جبکہ پچھلی نشستوں کو بھی کافی کشادہ بنا یا گیا ہے اور انہیں مزید آرامدے بنانے کے لیے پیچھے کی طرف جھکایا بھی جاسکتا ہے۔ اسٹیئرنگ ویل پر چمڑے کا غلاف چڑھایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ موجود تفریحی نظام اینڈرائیڈ کا حامل ہے۔ آلٹِس گرانڈے کی چھت میں کھڑکی اور سامان رکھنے کی بھی کافی جگہ بنائی گئی ہے۔ غرض کہ اندرونی حصہ میں استعمال کیئے گئے عمدہ ساز و سامان کی وجہ سے نفیس ہونے کے ساتھ آرامدہ بھی ہے۔

bg-grande-interior-01

انجن اورٹرانسمیشن

ٹویوٹا آلٹِس گرانڈے کو 1800 سی سی 2ZR-FE ڈیول VVT-i انجن اور خود کار ٹرانسمیشن (CVT) کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ CVT کی حامل گاڑیاں عام آٹو میٹک ٹرانسمیشن والی گاڑیوں سے زیادہ ایندھن بچاتی ہیں۔ 2ZR-FE کو سیکونشل فیول انجن (SFI) کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ SFI نظام میں ایندھن صرف اسی وقت اندر جاتا ہے کہ جب والو کھلا ہوا ہو اس طرح غیر ضروری ایندھن کا اخراج بند ہوجاتا ہے جس سے کافی بچت ممکن ہوسکتی ہے۔ گاڑی میں پیڈل شفٹرز بھی لگائے گئے ہیں جس سے ڈرائیور کو کافی سہولت میسر آتی ہے۔

Toyota-Corolla-2ZR-FE

ہونڈا سِوک اورئیل پروسمیٹک

ہونڈا سِوک کی موجودی 9ویں جنریشن اب سے تقریباً تین سال قبل 2012 میں پیش کی گئی تھی۔ بعد ازاں اس کا بہتر انداز 2015 میں پیش کیا گیا جس میں نشستوں پر چمڑے کے غلاف کو بہتر بنانے جیسی متعدد چھوٹی موٹی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ کرولا کے برعکس ہونڈا سِوک صرف 1800 سی سی انجن کے ساتھ پیش جارہی ہے۔ اس کی مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے کچھ اہم چیزیں جان لیتے ہیں:
قیمت: 23,92,000 روپے
انجن: i-VTEC آر 18 بمع انلائن 4 SOHC
5 اسپیڈ آٹو میٹک گیئر (پروسمیٹک)
ملٹی پل – پوائنٹ فیول انجکشن (MPFI)
ای پی ایس
چاروں پہیے کے لیے ڈِسک بریکس [ABS + EBD]
کروز کنٹرول
چھت پر کھڑکی
بغیر چابی دروازہ کھولنے کی سہولت
امبولائزر
ای-کون
متعدد تفریح انتظامات
گاڑی کے درجہ حرارت کو مناسب رکھنے کا خودکار نظام
یورو 4
رفتار: 141 بریک ہارس پاور اور 174 نیوٹن میٹر ٹارک

یہ ویڈیو دیکھیں: ہونڈا سِوک 2016 کا تفصیلی معائنہ بمع تصاویر اور ویڈیو

باہری حصہ

نویں جنریشن کی سِوک پچھلی جنریشن کے مقابلہ میں تھوڑی اونچی ہے اور گاڑی چلانے والے اسی کی اکثر شکایت کرتے ہیں کہ 2006-2011 کی سِوک میں جو بات تھی وہ نئی جنریشن کی سِوک میں نہیں۔ ہونڈا کی گاڑیاں جن خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں ان میں گاڑی پرڈرائیور کی عمدہ گرفت بھی شامل ہے۔ تاہم اس بار کرولا کے مقابلے میں یہ کچھ زیادہ اچھی نہیں کہی جاسکتی۔ آٹھویں جنریشن کی سِوک کا انداز کافی جداگانہ تھا تاہم نویں جنریشن سامنے آئی تو وہ ہونڈا کے روایتی انداز سے ہم آہنگ تھی۔ نویں جنریشن کی ہونڈا سِوک کو دیگر سیڈان گاڑیوں جیسا ہی بنایا گیا۔ اس کا مجموی انداز بہت ہموار ہے اور باہری حصے پر موجود سطور کے کنارے کافی نمایاں رکھے گئے ہیں۔ کہیں کہیں کروم سے کیا گیا کام بھی نظر آئے گا تاہم وہ بہت زیادہ نہیں کیا گیا۔ گاڑی کا پچھلاحصہ بھی عامیانہ ہے۔ اگلے حصے میں لگائی گئی گِرل کا انداز مکھیوں کے چھتے سے مشابہ ہے۔ دھند میں نظر آنے والی خصوصی روشیاں بھی آگے کی جانب موجود ہیں۔ یہ ہونڈا سِوک 7 مختلف رنگوں میں دستیاب ہے۔

Honda_Civic_2015_New_Grill

اندرونی حصہ

اورئیل سِوک میں چند ماہ قبل تک سرمئی اور خاکی رنگ سے آراستہ کیا گیا تھا جسے بعد ازاں چمڑے کے رنگ سے تبدیل کردیا گیا۔ ڈیش بورڈ دو رنگی ہے اور یہاں موجود اسٹیئرنگ ویل کے پیچھے آپ کو ہونڈا کا 5 انچ ایل سی ڈی i-MID نظام نظر آئے گا۔ کرولا کی طرح سِوک میں بھی ہموار فرش بنا یا گیا ہے جسے پاکستان میں متعارف کروانے کا سہرا سِوک کے سر ہی جاتا ہے۔ اس میں سامان رکھنے کی کافی گنجائش موجود ہے تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کرولا کے مقابلے میں سِوک میں نشستوں پر بیٹھ کر ٹانگیں پھیلانے کی جگہ کم ہے۔ اگر آپ کو تفریحی نظام چاہیے تو اس کے لیےعلیحدہ خرچہ ہوگا اور اگر آپ اس اضافہ خرچے سے بچنا چاہیں تو عام سی ڈی اور ریڈیو سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ ہونڈا سِوک میں SRS ایئربیگز کی سہولت بھی میسر ہے۔

Honda Civic Interior

انجن اورٹرانسمیشن

ہونڈا سِوک کے تمام انداز، چاہے وہ مہنگے ہوں یا سستے، ہونڈا کے اپنے 4 سلینڈر R18 انجن مع i-VTEC پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ آٹھویں جنریشن (2006-2011) میں استعمال ہونے والے R18 انجن کی جدید شکل ہے۔ یہ انجن 141 بریک ہارس پاور فراہم کرتا ہے جو کرولا کے انجن سے تین گنا زیادہ ہے۔ ٹویوٹا کرولا کے برعکس ہونڈا اب تک عام خود کار ٹرانسمیشن استعمال کر رہا ہے۔ گاڑی میں ایندھن کی بچت کے لیے ECON اور ECM بٹن کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ ہونڈا سِوک یورو 4 معیارات جبکہ کرولا یورو 2 سے مطابقت رکھتی ہے۔

honda r18

اس مضمون کا مقصد کرولا ور سِوک کی انفرادیت بیان کرنا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ وہ قارئین جو ایک عرصے سے ان دونوں گاڑیوں کے تقابل کی فرمائش کر رہے تھے، وہ اس کوشش کو ضرور پسند کریں گے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے چیزیں ہیں جن میں یہ دونوں گاڑیاں اپنی منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں ایک بات اور یاد رکھنی چاہیے کہ ہونڈا سِوک 2016 آئندہ سال آیا چاہتی ہے اور اس مضمون میں مذکور سِوک جلد ماضی بن جائے گی۔ جبکہ ٹویوٹا کرولا کے ساتھ معاملہ بالکل مختلف ہے اور ہم چند مزید سال اسی کرولا کو راج کرتے دیکھیں گے۔

Top