کیا پاکستان میں ہائبرڈ گاڑی رکھنا جیب پر بھاری پڑسکتا ہے؟

hybrid-or-nonhybrid-featured

بہت سے لوگ ہائبرڈ گاڑیوں سے متعلق مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان میں کچھ تو ایسے بھی ہی کہ جو ہائبرڈ گاڑیوں کو عام روایتی گاڑی سے بالکل الگ سمجھتے ہیں حتی کہ ان کے خیال میں انہیں چلانا بھی مشکل کام ہے۔ اس کے علاوہ ہائبرڈ گاڑیوں کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ ان کی دیکھ بھال اور پرزے وغیرہ روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں خاصے مہنگی ہوتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل گاڑیاں مہنگی ہوتی ہیں اور انہیں چلانے کا انداز بھی پرانی گاڑیوں کی نسبت تھوڑا مختلف ہے تاہم ان کی دیکھ بھال روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں بہت سستی اور آسان ہے۔

روایتی گاڑیوں کے برعکس ہائبرڈ گاڑیوں کو مکینک کے پاس سروس کے لیے بار بار لے جانا نہیں پڑتا۔ حقیقت میں ہائبرڈ گاڑی کی دیکھ بھال ان گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ سستی اور آسان ہے کہ جن میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی شامل نہیں ہے۔ ہائبرڈ گاڑیوں کو عموماً اس وقت ہی پرزے تبدیل کرنے یا پھر سروس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ جب انہیں کسی بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا نے ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے جدید برقی موٹر تیار کرلی!

hybrid car batteries

ہائبرڈ گاڑی خریدنے سے قبل لوگ یہ سوال بھی اکثر پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ گاڑیاں کم ایندھن میں زیادہ مسافت فراہم کرسکتی ہیں؟ گو کہ اس کا جواب مثبت دیا جاسکتا ہے تاہم اس کا انحصار چند بنیادی عوامل پر بھی ہے۔ مثال کے طور پر ایندھن کی قسم، اس پر آنے والے اخراجات، گاڑی کہاں اور کیسے سفر کر رہی ہے وغیرہ سے ایندھن کی مد میں ہونے والی بچت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ لوگ اس حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ اس لیے بھی ہوتے ہیں کہ ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمت دیگر گاڑیوں سے زیادہ ہوتی ہے اور انہیں منتخب کرنے کی اہم وجوہات میں ایندھن کی مد میں ہونے والے اخراجات میں کمی لانا بھی ہے۔

اب تو ہر خاص و عام جانتا ہے کہ روایتی گاڑی کی طرح ہائبرڈ گاڑی میں بھی انجن موجود ہے البتہ بنیادی فرق برقی (بجلی سے چلنے والی) موٹر ہے۔ ہائبرڈ گاڑی دوران سفر انجن کے ساتھ برقی موٹر بھی استعمال کرتی ہے ۔ بعض مرتبہ مثلاً سست رفتار کے دوران جدید ہائبرڈ گاڑیوں میں انجن بند ہوجاتا ہے اور گاڑی موٹر کی مدد سے سفر کرتی رہتی ہے۔ یوں انجن کم استعمال ہونے کے باعث جہاں ایندھن کی بچت ہوتی ہے وہیں اس سے جڑے پرزے بھی زیادہ عرصے تک چلتے ہیں۔ یہ دونوں ہی چیزیں گاڑی رکھنے والے کی جیب پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرتی ہیں۔ گاڑیوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ روایتی گاڑی میں ہر 3500 کلومیٹر سفر کے بعد آئل تبدیل کروالینا چاہیے۔ لیکن چونکہ ہائبرڈ گاڑیوں میں ری-جنریٹو بریکنگ سسٹم ہوتا ہے اس لیے یہ کم حدت پیدا کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان میں جلدی جلدی آئل تبدیل کروانا بھی نہیں پڑتا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا پرایوس 2016: سب سے کم ایندھن خرچ کرنے والی ہائبرڈ کار

Hybrid car maintenance

ہائبرڈ گاڑیوں میں ہونے والے اخراجات زیادہ تر بیٹری سے متعلق ہوتے ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کار ساز ادارے نئی ہائبرڈ گاڑیوں میں بیٹری کی 1,60,000 کلومیٹر یا 8 سالہ وارنٹی بھی دے رہے ہیں۔ ہائبرڈ گاڑیاں بنانے والے چند ادارے 2,40,000 کلومیٹر یا 10 سال تک وارنٹی بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ صارفین کے اعتماد میں اضافہ کیا جاسکے۔ یاد رہے کہ ہائبرڈ بیٹری کی قیمت 2 ہزار ڈالر یعنی 2 لاکھ پاکستانی روپے سے بھی زیادہ ہے۔

البتہ مقررہ سروس پر ہونے والے اخراجات کی بات کی جائے تو روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں ہائبرڈ سستی پڑتی ہے۔ انجن کے محدود استعمال اور جدید بریکنگ سسٹم کی وجہ سے جہاں ایندھن کا خرچہ بچتا ہے وہیں صارف کو جلدی جلدی مکینک کے پاس حاضری دینے اور اپنی جیب ہلکی بھی نہیں کرنا پڑتی۔

Samiullah Sharief

Samiullah Sharief is a car enthusiat. He is passionate about writing blogs and reviews about cars. His hobbies are driving,watching TV Shows like Top Gear, Mega Factories and he follows Popular car magazines. You can reach out to him by tweeting @sami649

Top