سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی جائے: شہزادہ ولید بن طلال کا مطالبہ


سعودی شاہی خاندان کے رکن شہزادہ ولید بن طلال نے سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کو حذف کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب اس موضوع پر ہونے والے مباحث ختم ہوجانے چاہئیں اور خواتین کو اپنی گاڑی خود چلانے کی اجازت دے دینی چاہیے۔ اس ٹویٹ میں شہزادہ ولید کے دفتر سے جاری ہونے والے تفصیلی مضمون کا ربط بھی دیا گیا ہے۔

شہزادہ ولید بن طلال کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے چار صفحات پر مشتمل طویل مضمون میں خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دیئے جانے کے مطالبہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ سعودی شہزادے نے خواتین کی ڈرائیونگ اور اس کے معاشی، سماجی، مذہبی اور سیاسی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ سعودے شہزادے نے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہ دینا غیر ضروری ہے اور مذہب میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ خواتین ڈرائیورز کے لیے چند حدود بھی متعین کرنے کی تجویز دی ہے جن میں بیرون شہر اور بڑی گاڑیاں چلانے پر پابندی بھی شامل ہے۔

let-women-drive-saudi-prince-tweet

سعودی شہزادے کا کہنا ہے کہ خواتین کو ڈرائیونگ کے حق سے محروم رکھنا ایسا ہی ہے کہ جیسے انہیں تعلیم کے حصول سے روکا جائے یا ان کی انفرادی شناخت کو چھیننے کی کوشش کی جائے۔ اس پابندی سے ہونے والی معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کو سفری ضروریات کے لیے اپنی گاڑی کے لیے ڈرائیور رکھنا پڑتا ہے یا پھر ٹیکسی سروس کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں جس سے ان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ولید بن طلال نے مزید کہا کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیئے جانے سے نجی اداروں کو ڈرائیونگ کے لیے بیرون ممالک سے مزید افراد کو منگوانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور سعودی شہری ہی سفری ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاڑی چلانے کی خواہش نہ رکھنے والی خواتین کو بھی مرد ڈرائیور کے بجائے خواتین ڈرائیور کی خدمات حاصل کرنے میں آسانی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں خواتین کے لیئے دستیاب پانچ بہترین گاڑیاں

یاد رہے کہ سعودی عرب دنیا میں واحد ملک ہے کہ جہاں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت حاصل نہیں۔ اس پابندی کے خلاف آواز اٹھانے اور خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دلوانے کے لیے ایک عرصے سے کوششیں جاری ہیں۔اب سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال کی جانب سے بھی اس بابت رائے سامنے کے بعد یہ موضوع ایک بار پھر زیر بحث آنے لگا ہے۔ طلال بن عبدالعزیز آل سعود کے صاحبزادے ولید بن طلال کے پاس کوئی شاہی عہدہ نہیں تاہم وہ ایک کاروباری اور سماجی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہیں عرب ممالک کا امیر ترین شخص ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔


Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top