گاڑیوں کی فروخت میں کمی، پاکستان اکیلا نہیں


حالیہ کچھ عرصے سے دنیا بھر میں مختلف وجوہات کی بناء پر گاڑیوں کی فروخت کم ہو رہی ہے۔ بڑی آٹوموبائل مارکیٹوں کے مقابلے میں پاکستان نسبتاً چھوٹا ہے اور مختلف وجوہات کی بناء پر ایک سال سے زیادہ عرصے سے بحران کا شکار ہے۔ مقامی صنعت میں گاڑیوں کی فروخت میں اتنی ڈرامائی کمی آئی ہے کہ بڑے آٹو مینوفیکچررز اپنی پیداوار روکنے پر مجبور ہو گئے ہیں، یوں آٹو سیکٹر میں خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن دوسری بڑی آٹو مارکیٹوں میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے جیساکہ چین، امریکا، بھارت، برطانیہ وغیرہ میں کہ جہاں کچھ عرصے سے فروخت ذرا نیچے کی جانب مائل ہے۔ جہاں تک پاکستان میں آٹو انڈسٹری کے بحران کا تعلق ہے، معاشی صورت حال نے ملک میں کاروں کی قیمت پر بڑا اثر ڈالا ہے۔ سال بھر میں مقامی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کافی گری ہے اور یہ بہت تشویش کی بات ہے کیونکہ ملک میں گاڑیوں کی قیمت کا بڑا انحصار شرحِ تبادلہ پر ہے۔ پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کا بڑا حصہ آٹو پارٹس یا اِن پرزوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی صورت میں دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ جب روپے کی قدر گرتی ہے تو قیمتیں خود بخود بہت زیادہ بڑھتی دیکھی گئی ہیں۔ ان میں سے سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ بحران عرصے تک کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا، اور مستقبلِ قریب میں کسی بہتری کا امکان نہیں۔ حکومتِ پاکستان نے بھی مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں پر ایڈیشنل ٹیکس لگا کر آٹو سیکٹر کو نقصان پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان تمام منفی پہلوؤں کو جمع کریں تو آٹو انڈسٹری سنگین بحران میں نظر آتی ہے کیونکہ گاڑیوں کی قیمتیں عوام کی استطاعت سے باہر ہیں۔ صرف مالی سال ‏2019-20ء‎ کی پہلی سہ ماہی میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ملک میں کاروں کی فروخت میں تقریباً 39 فیصد کمی آئی ہے۔ 

آج ٹویوٹا اور ہونڈا، مع سوزوکی، دہائیوں سے ملک میں سب سے بڑے آٹو ادارے ہیں۔ نئے آنے والے اداروں کو ایک طرف کر دیں تو معیشت کے سکڑنے کے موجودہ عمل میں ان موجودہ اداروں کو بھی سنگین صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آٹو مینوفیکچررز اپنی پیداواری گنجائش سے نصف پر کام کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی بھر جانے والی انونٹوریز خالی نہیں کر پا رہے۔ گاڑیوں کی درآمدات کی اتھارٹیز حوصلہ شکنی کر رہی ہیں تاکہ لوکل سیکٹر آگے بڑھے اور درآمدی بل پر دباؤ کم ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین کے پاس اس کے علاوہ کوئی انتخاب نہیں کیونکہ اب انٹری لیول کی گاڑی بھی رکھنا ایک عیاشی بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں اس عرصے میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

بھارت: 

دوسری جانب بھارت کی آٹو مارکیٹ کو بھی ایسے ہی صورتِ حال کا سامنا ہے کہ جیسا کہ سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (SIAM) ظاہر کرتے ہیں کہ اپریل سے ستمبر 2019ء کے دوران پچھلے سال کے انہی مہینوں کے مقابلے میں مسافر کاروں کی فروخت میں 23.5 فیصد کمی آئی ہے۔ البتہ اِس عرصے میں ملک کی کار برآمدات میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ سرفہرست آٹو کمپنیاں جیسا کہ ہیونڈائی موٹر انڈیا، ماروتی سوزوکی اور فورڈ بدستور آگے کی جانب قدم بڑھا رہی ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے آٹومیکرز اپنی سیلز کو بحال کرنے کے لیے زبردست رعایتیں دے رہے ہیں۔ البتہ ماروتی سوزوکی اگست 2019ء کے دوران تقریباً 34 فیصد پیداوار گھٹا چکا ہے، جس کے بعد ستمبر 2019ء میں 18 فیصد کمی کی کیونکہ اس مہینے میں فروخت میں 17 فیصد کمی آئی۔ ملک کے سب سے بڑے کار میکر کی حیثیت سے یہ مسلسل آٹھواں مہینہ ہے کہ کمپنی نے پیداوار میں کمی کی۔ اسی طرح ٹاٹا موٹرز نے ستمبر 2019ء کے دوران اپنی پیداوار میں 63 فیصد کمی کا مشاہدہ کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں بھی آٹو انڈسٹری مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ 

برطانیہ: 

برطانیہ جیسی عالمی مارکیٹوں میں بھی کاروں کی فروخت کچھ عرصے سے توقعات کے مطابق نہیں ہو رہی۔ چین اور امریکا جیسی بڑی آٹو مارکیٹوں کے درمیان تجارتی تناؤ، ساتھ ہی ماحولیات کے حوالے سے سخت پابندیاں اور الیکٹرک کاروں کی آمد سے پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت سست روی کے اِس عمل کی بنیادی وجہ ہیں۔ کاروں کی فروخت کے سلسلے میں ستمبر کے مہینے سے کافی اضافے کی امیدیں تھیں لیکن وہ پوری نہیں ہوئیں۔ سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز (SMMT) کے مطابق 2019ء کے پہلے 9 مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں 2.5 فیصد کمی آئی۔ البتہ یورپی مارکیٹوں جیسا کہ جرمنی اور اسپین میں کاروں کی فروخت کسی حد تک بحال ہو گئی ہیں کہ جہاں ستمبر کے مہینے میں بالترتیب 22 اور 18 فیصد اضافہ ہوا۔ الیکٹرک کاروں کی فروخت بڑے پیمانے پر بڑھ رہی ہے، جو عالمی آٹو انڈسٹری کے مستقبل کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید یہ کہ برطانیہ میں دھوئیں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی نئی قانون سازی کا نتیجہ اب ہائبرڈ ماڈلز کو غیر موزوں قرار دینے کی صورت میں نکلا ہے۔ 

امریکا: 

امریکا میں کاروں کی فروخت ماضئ قریب میں متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر جاپانی اداروں ٹویوٹا، ہونڈا اور نسان کی کہ جنہیں ستمبر 2019ء میں سال بہ سال کی بنیاد پر بالترتیب 16، 14 اور 17 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے اور اس کا نتیجہ عالمی آٹو اداروں کے منافع میں کمی کی صورت میں نکلا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی ادارے ٹیسلا کو بھی رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں آمدنی میں 39 فیصد کی بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ اس کی موجودہ توجہ چین جیسی دیگر مارکیٹوں پر ہے کہ جہاں پیداوار کے لیے اس نے حال ہی میں سند حاصل کرلی ہے۔ مجموعی طور پر امریکا میں آٹومیکرز نے ستمبر 2019ء کے دوران اپنی سیلز میں دہرے ہندسے کی کمی ریکارڈ کی ہے۔ ہیونڈائی اور سبارو کی فروخت تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی جبکہ سرفہرست امریکی آٹومیکرز نے بھی اس عرصے میں کمی ظاہر کی ہے۔ امریکا میں ٹاپ آٹو مینوفیکچررز جنرل موٹرز، فورڈ اور فیاٹ کریسلر ہیں۔ یہ بڑے ادارے ہر تین ماہ بعد اپنے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں اور آٹوموٹو ڈیٹا سینٹر کے اندازہ لگاتا ہے کہ جنرل موٹرز کی کار فروخت میں سال بہ سال کی بنیاد پر 6 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ فورڈ کو 5 فیصد کمی کا سامنا ہے جبکہ فیاٹ کریسلر کے لیے بھی معاملہ تقریباً ایسا ہی ہے۔ 

چین: 

دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ چین ہے، لیکن اس وقت وہ بھی مشکل حالات سے دوچار ہے۔ پچھلے 15 مہینوں سے چین میں کاروں کی فروخت کمی کا شکار ہے، جو واقعی تشویش ناک بات ہے۔ چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز (CAAM) کے ظاہر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2019ء کے مہینے میں آٹو سیلز پچھلے سال کے مقابلے میں 5.2 فیصد کم ہوئی ہیں۔ اس عرصے کے دوران ملک میں 2.27 ملین گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ پچھلے مہینوں جولائی اور اگست میں فروخت میں بالترتیب 4.3 اور 6.9 فیصد کمی آئی۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر اور اکتوبر کے مہینے چین کے آٹو سیکٹر میں گولڈن اور سلور سمجھے جاتے ہیں۔ ان دو مہینوں میں فروخت عموماً زیادہ ہوتی ہے کیونکہ صارفین سال کے اس عرصے میں زیادہ خریداری کرتے ہیں۔ البتہ گولڈن ستمبر اس مرتبہ گولڈ ثابت نہیں ہوا، اور یہی توقع سلور اکتوبر سے بھی ہے۔ صورت حال غالباً اُن 15 شہروں اور صوبوں میں مرکزی حکومت کی جانب سے گاڑیوں سے دھوئیں کے اخراج کے نئے قوانین نافذ کیے جانے کے بعد تبدیل ہوئی ہے کہ جو ملک میں گاڑیوں کی 60 فیصد فروخت کا سبب ہیں۔ 

عالمی آٹو مارکیٹوں کا جلد بحال ہونا متوقع ہے کیونکہ الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے کافی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک دھوئیں کے اخراج کے حوالے سے نئے معیارات مرتب کرکے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے آگے کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے آٹو سیکٹر کو جلد ایسی کوئی تحریک ملنے کا امکان نہیں۔ عموماً سال کے آخر میں فروخت ویسے بھی کم ہوتی ہیں، اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہونا متوقع ہے۔ 

ہماری طرف سے اتنا ہی، اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ حکومتِ پاکستان کو آٹو انڈسٹری کی بحالی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس بارے میں اپنی رائے دیجیے۔ 

گاڑیوں کی دنیا سے مزید خبریں جاننے کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے کہ جہاں آپ کو مقامی اور بین الاقوامی آٹو انڈسٹری کی خبریں ملیں گی۔ 

اور ہاں! ڈرائیونگ کے دوران ہمیشہ سیٹ بیلٹ باندھ کر رکھیں۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top