پاک تھائی آزاد تجارتی معاہدے پر پاپام کا اظہار تشویش


پاکستان میں گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے سامان و پرزے بنانے والے اداروں کی انجمن پاپام (Paapam) نے پاک تھائی آزاد تجارتی معاہدے میں گاڑیوں کے شعبے کو شامل کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاپام کی جانب سے وفاقی حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے میں گاڑیوں کے شعبے کی شمولیت سے مقامی ادارے کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

پاپام کے نائب سربراہ سید منصور عباس نے اس حوالے سے بتایا کہ وہ پاک تھائی آزادانہ تجارتی معاہدے (FTA) کے ہرگز خلاف نہیں تاہم اس میں گاڑیوں کے شعبے کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ ادارے کو لکھے گئے خط سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے پرزے بنانے والے ادارے پاکستان اور تھائی لینڈ کی حکومتوں کے درمیان جاری آزادانہ تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات پر پریشانی کا شکار ہیں۔

انجمن کے سربراہ مشہود علی خان کی جانب سے ارسال کیے جانے والے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 21 مارچ 2016 کو حکومت کی جانب سے آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ پالیسی برائے سال 2016 تا 2021 کے ذریعے آئندہ پانچ سالوں تک گاڑیوں کے شعبے کو بنیاد فراہم کردی گئی ہے اور اب اس آٹو پالیسی کے تحت ہی پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے پر کام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ نافذالعمل آٹو پالیسی کے نتیجے میں مقامی سطح پر گاڑیوں کے ساز و سامان کی تیاری میں اضافہ ہورہا ہے۔

وزارت تجارت کے سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آٹو پالیسی کے بعد پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے ادارے سال 2017، 2018 اور 2019 میں نت نئی گاڑیاں اور ماڈل پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد عالمی شہرت یافتہ ادارے بھی گاڑیوں کے شعبے میں قدم رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں جن میں رینالٹ (رینو)، ہیونڈائی، کِیا موٹرز، FAW اور دیگر چینی کار ساز ادارے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی کار ساز ادارہ رینالٹ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار

پاپام نے درخواست کی ہے کہ پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے میں گاڑیوں کے شعبے کو شامل نہ کیا جائے۔ پاپام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس سے شعبے میں کام کرنے والے تیس لاکھ سے زائد ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں غیر ملکی سرمایہ کار اور نئے کاروباری ادارے بھی حکومت کی غیر مستحکم پالیسیوں کے باعث پاکستان سے منہ موڑ لیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے سے متعلق بات چیت کے کئی کامیاب دور مکمل ہوچکے ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ آئندہ سال 2017 میں طے پا جائے گا۔


Top