ویل الائنمنٹ کروائیں اور دیگر اخراجات سے خود کو بچائیں

Wheel-Alignment

پہیوں کا ایک قطار میں ہونا کسی بھی گاڑی کے لیے اتنا ہی اہم ہیں جتنا کہ کسی انسان کے لیے اس کے پیروں کا ہم آہنگ ہونا۔ اگریہ ٹھیک نہ ہوں تو چال ٹھیک رہے گی نہ رفتار۔ اس لیے ضروری ہے کہ 10 سے 15 ہزار کلومیٹر چلانے کے بعد آپ گاڑی کے پہیوں ہم آہنگ کروالیں جسے ویل الائنمنٹ کہا جاتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ویل الائنمنٹ صرف اسی مخصوص دورانیے کے بعد کروائی جائے بلکہ بعض اوقات گاڑی اور اس کی چال ڈھال دیکھ کر بھی پہیوں کا ایک ہی قطار ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اگر آپ کی گاڑی سیدھا چلتے چلتے دائیں یا بائیں جانب جھکنے لگتی ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس کے پہیے ایک سمت میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ٹائرز کی صورتحال بھی اس حوالے سے بہت کچھ بتاسکتی ہے۔ اگر آپ کی گاڑی کے ٹائر جلدی گھس جاتے ہیں یا موڑ کاٹتے ہوئے آپ کو زیادہ قوت صرف کرنا پڑتی ہے تو یہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔

مزید پڑھیں: محفوظ اور باسہولت سفر کے لیے متوازن پہیوں کی اہمیت

عموماً پہیے اپنی ہم آہنگی اس وقت کھو بیٹھتے ہیں جب گاڑی تیز رفتاری سے کسی کھڈے سے گزرتی ہے۔ یا اگر گاڑی مستقل ایسے راستوں سے گزرتی ہے جہاں بہت زیادہ گڑھے ہوں تو بھی ویل الائنمنٹ خراب ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ نے گاڑی فٹ پاتھ کے کنارے پر طویل دورانیے تک کھڑی رکھی تو بھی اس مسئلہ سے دوچار ہونے کا امکان رہتا ہے۔کسی غیر معمولی حادثے کی صورت میں بھی سب سے زیادہ اثر پہیوں پر آتا ہے اور وہ ایک صف میں نہیں رہ پاتے۔ ان میں سے اگر کوئی بھی صورتحال نہ ہو لیکن گاڑی کے ٹائرز جلد گھس جائیں تو یہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گاڑی کو ویل الائنمنٹ کی ضرورت ہے۔

ویل الائنمنٹ کا عمل بہت سادہ ہے۔ اس میں آگے اور پیچھے سسپنشن میں مطابقت کے لیے معمولی تبدیلی کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں اکثر صرف آگے کی جانب ہم آہنگی پیدا کرنا کافی رہتا ہے لیکن حسب ضرورت پچھلی جانب بھی یہ عمل کیا جاتا ہے۔

پہیوں کی صف خراب ہونے کا براہ راست اثر گاڑی کی دیگر چیزوں پر بھی پڑتا ہے۔ مثلاً اسٹیئرنگ اور سسپنشن قدرے سخت ہوجاتے ہیں اور آپ کو موڑ کاٹتے ہوئے مشکل پیش آسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف گاڑی چلانے والے کو بلکہ دیگر مسافروں کو بھی پریشانی لاحق ہوسکتی ہے۔ اس لیے گاڑی اور اس پر سوار ہونے والوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ ویل الائنمنٹ میں کسی قسم کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔

Top