نسان جیوک – چھوٹے خاندان کے لیے منفرد انداز کی جاپانی کراس اوور

2014_Nissan_JUKE

آج کل کراس اوور (crossover) طرز کی گاڑیوں کا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نسان کا شمار گاڑیاں بنانے والے ان اداروں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے سب سے پہلے کراس اوور طرز کی گاڑیاں متعارف کروائیں۔ گاڑیوں کے شعبے میں ایک نئی جہت شروع کرنے والی ان گاڑیوں کو ہیچ بیک انداز میں ہی بنایا گیا تاہم حجم اور سائز کے حساب سے یہ ہیچ بیک سے کافی بڑی نظر آتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی ان گاڑیوں کے ہیچ بیک ہونے یا پھر کراس اوور قرار پانے سے متعلق لوگ بحث مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال، نسان ان گاڑیوں کو چھوٹی کراس اوور SUV قرار دیتا ہے۔ اس زمرے میں نسان کی جانب سے دو گاڑیاں نسان جیوک (Juke) اور نسان قشقائی (Qashqai) پیش کی جاچکی ہیں۔ یہ دونوں ہی گاڑیاں کسی بھی جاپانی ادارے کی جانب سے پیش کی جانے والی پہلی کراس اوور تھیں۔ نسان جیوک اور نسان قشقائی دونوں ہی کو کافی پزیرائی حاصل ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں نسان نے انہی کی چھوٹی گاڑیاں بھی متعارف کروائیں۔

یہ بھی پڑھیں: نسان ڈاٹسن گو اور گو+ کی پاکستان میں خفیہ جانچ؛ تصاویر منظر عام پر آگئیں

اندرون شہر سفر کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جانے والی نسان جیوک کو پہلی مرتبہ جنیوا موٹر شو 2010 میں دکھایا گیا۔ پھر آئندہ سال یعنی سال 2011 میں اس کی فروخت شروع کی گئی۔ نسان جیوک کو سندرلینڈ، برطانیہ میں قائم نسان کے کارخانے میں تیار کیا جاتا ہے۔ ان گاڑیوں کو یورپی مارکیٹ میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔ ہم کوشش کر یں گے کہ آج کے مضمون میں نسان جیوک کے حوالے سے دستیاب اہم ترین معلومات اپنے قارئین کو پیش کرسکیں۔

نسان جیوک کا ظاہری انداز (Exterior)

گاڑی کے انداز کو پسند یا ناپسند کرنے کا فیصلہ ہر شخص کا مختلف ہوسکتا ہے۔ لہٰذا میں اس گاڑی کو نہ تو بہت خوبصورت قرار دوں گا اور نہ ہی عجیب و غریب۔ البتہ زیادہ تر لوگ نسان جیوک کے انداز کو مزحقہ خیز قرار دیتے ہیں۔ اس کا مجموعی انداز کافی طویل قامت اور پھولے جسامت والی گاڑی جیسا ہے۔ اگلے حصے میں کئی طرح کے curves ہیں۔ یہاں بونٹ کے اوپر موجود ہیڈلائٹس کافی ابھری ہوئی ہیں اور عام روایتی گاڑیوں سے بہت مختلف ہیں۔ ویل آرکس بھی باہر نکلے ہوئے ہیں جس سے گاڑی کا انداز بھاری بھرکم معلوم ہوتا ہے۔ پچھلی جانب موجودہ شیشہ کافی چھوٹا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گاڑی چلاتے ہوئے اس سے پچھلا منظر دیکھنا قدرے مشکل ثابت ہوگا۔ دائیں اور بائیں جانب سے بھی گاڑی کے کئی حصے غیر معمولی طور پر ابھرے ہوئے ہیں جن پر موجود سطور کی کوئی تک سمجھ نہیں آتی۔ اس کے علاوہ آگے سے پیچھے ایک سلوپ کی مانند نیچے ہونے والی چھت بھی خاصی موٹی تہ والی معلوم ہوتی ہے۔

نسان جیوک کا اندرونی حصہ (Interior)

سال 2014 سے پہلے پیش کی جانے والی نسان جیوک بہت کم گنجائش کی حامل تھیں۔ بعد ازاں نسان نے اس مسئلہ کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے سال 2014 میں جیوک کا نیا انداز پیش کیا جس میں پہلے سے زیادہ گنجائش رکھی گئی۔ گو کہ گاڑی باہر سے کافی دیو قامت لگتی ہے تاہم اس کا اندرونی حصہ زیادہ وسیع نہیں کہا جاسکتا۔ اگلی جانب تو پھر مناسب جگہ دستیاب ہے تاہم پچھلی جانب یہ کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔مسافروں کے لیے لیگ روم بھی بس مناسب ہی کہا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ گاڑی کی چھت آگےسے پیچھے کی طرف سلوپ نما ہے اس لیے پچھلی نشستوں پر ہیڈ روم بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پچھلی نشستیں بڑے افراد کے لیے موزوں نہیں بالخصوص اگر آپ کو کسی لمبے سفر پر جانا مقصود ہو۔

نسان جیوک کا سینٹر کنسول کسی موٹر سائیکل کی ٹنکی جیسا ہے۔ چونکہ گاڑی کی اونچائی کافی زیادہ ہے اس لیے آپ کو سڑک سے کافی بلندی پر سفر کرنے کا احساس ہمہ وقت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اندرونی حصے کی بناوٹ دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سفر کے دوران ہوا کا دباؤ اور شور بھی خاصہ پریشان کن ثابت ہوسکتا ہے۔

نسان جیوک کا انجن (Engine)

نسان جیوک کو پیٹرول اور ڈیزل انجن کے علاوہ ٹربو انجن کے ساتھ بھی پیش کیا گیا۔ پاکستان میں درآمد کی جانے والی زیادہ تر جیوک 1500cc پیٹرول انجن کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ نسان جیوک میں 1600cc اور 1200cc ٹربوچارجڈ انجن بھی دستیاب ہوتا ہے۔ گاڑی میں روایتی آٹو میٹک گیئر باکس کے علاوہ CVT اور 5 -یا 6-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن بھی انجن سے منسلک ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اسے 1500cc ٹربوچارجڈ ڈیزل انجن کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے تاہم یہ پیشکش صرف نئے ماڈلز تک ہی محدود ہے۔

nissan-juke-rx-15-2011-12250221

اگر پاک ویلز پر برائے فروخت استعمال شدہ گاڑیوں کے زمرے میں جائیں تو آپ کو زیادہ تر نسان جیوک 2010-2011 سے پہلے تیار ہونے والی ملیں گی۔ یہ وہ ماڈل ہیں کہ جسے نسان نے اس گاڑی کو متعارف کرواتے ہوئے پیش کیا تھا۔ ان میں محدود گنجائش کے علاوہ پرانے 1500cc انجن اور آٹومیٹک گیئر باکس کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ انجن 100 ہارس پاور فراہم کرنے کی سکت رکھتا ہے جو گاڑی کے مجموعی حجم کو دیکھتے ہوئے خاصی کم معلوم ہوتی ہے۔

پاک ویلز کے ذریعے اپنی پسندیدہ گاڑی پاکستان منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں

نسان کا کہنا ہے کہ جیوک نئے خاندان کے لیے بنائی جانے والی گاڑی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر آپ کے بچے پچھلی نشستوں پر مل جل کر بیٹھ سکتے ہیں تو پھر نسان جیوک آپ کے لیے مناسب گاڑی ہوسکتی ہے۔ بہرحال، اسے خریدنے یا نہ خریدنے کا انحصار تو لوگوں کی ضرورت اور خواہش پر ہی منحصر ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ گاڑی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہے تاہم صرف یہ خوبی کافی نہیں۔ پاکستان میں دستیاب 1500cc پیٹرول انجن کی حامل نسان جیوک زیادہ برق رفتار ہیں نہ ہی مختلف امور کے لیے قابل استعمال۔ استعمال شدہ نسان جیوک کے 2010-11 ماڈل کی پاکستان میں اوسطاً قیمت 20 لاکھ روپے ہے۔

Top