ڈیزل اور پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی تیاری پر پابندی کا فیصلہ

petrol-diesel-vehicles-banned-2030-germany

آبادی و معیشت کے اعتبار سے یورپ کے سب سے بڑے ملک جرمنی نے سال 2030 تک ڈیزل اور پیٹرول گاڑیوں کی تیاری پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ جرمنی کی قانون ساز کابینہ میں ہونے والی ایک طویل بحث کے بعد تمام 16 ریاستوں کے نمائندوں نے اس پابندی کے حق میں ووٹ دیا۔ اس فیصلے کا مقصد آلودگی میں اضافہ کرنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو پروان چڑھانا ہے۔ یورپ کے دیگر ممالک بشمول ہالینڈ اور ناروے میں بھی 2025 کے بعد روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر پابندی سے متعلق بحث جاری ہے۔

تمام ریاستوں کے متفقہ فیصلے کے بعد جرمنی میں گاڑیاں تیار کرنے والے کار ساز اداروں کو 2030 کے بعد ڈیزل اور پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی تیاری اور فروخت بند کرنا ہوگی۔ البتہ 2029 تک روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیاں فروخت کی جاسکتی ہیں تاہم ان پر بھاری بھرکم ٹیکس عائد کیے جانا متوقع ہے تاکہ گاڑیوں کے خریدار بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو ترجیح دیں۔

یورپی یونین کے تاسیسی رکن جرمنی کی حکومت نے نصف صدی تک ماحولیاتی آلودگی میں 95 فیصد کمی کا ہدف طے کر رکھا ہے اور یہ فیصلہ اسی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سے ایک ہے۔ جرمن حکام کی خواہش ہے کہ ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد کو فروغ دیتے ہوئے 2020 تک برقی گاڑیوں کی تعداد کو پانچ لاکھ تک پہنچایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول یا ڈیزل؛ گاڑی کے لیے کونسا انجن اور ایندھن زیادہ مفید ہے؟

جرمنی نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سال 2030 کے بعد ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرنے والی تمام گاڑیوں کی تیاری بند کرنے کا فیصلہ کرے تاکہ دیگر یورپی ممالک بھی آلودگی میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ گو کہ فی الوقت یورپی یونین یا کسی اور ملک کی جانب سے اس بابت کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم یورپ میں جرمنی کی حیثیت دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یورپی یونین اس بارے میں جلد فیصلہ کرے گی۔

گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کو مضر اثرات سے پاک کرنے کے لے بنائے گئے یورپی یونین کے قوانین سخت سے سخت تر ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی کار ساز اداروں کے لیے یورو معیارات کے مطابق گاڑیوں کی تیاری بھی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے اور بعض ادارے ان معیارات کو حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال گزشتہ برس سامنے آنے والے ڈیزل گیٹ اسکینڈل کی صورت میں موجود ہے۔ جرمن کار ساز ادارے ووکس ویگن کی جانب سے تیار کردہ گاڑیوں کو یورو معیارات کے مطابق ظاہر کرنے کے لیے سافٹویئر میں تکنیکی دھوکہ دہی کی گئی تھی۔ اس سے نہ صرف جرمن ادارے کو شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

مزید پڑھیں: ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے باعث ووکس ویگن پر 18 ارب ڈالر جرمانے کا امکان

اب دیکھنا یہ ہے کہ جرمنی کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے اور یورپی یونین کی توثیق کے بعد یہ کار ساز ادارے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔ اگر یورپ کے دیگر ممالک بھی جرمنی کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے برقی گاڑیوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوجائے گا۔ البتہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے رجحان کو پروان چڑھانے والے امریکی ادارے ٹیسلا موٹرز کو آئندہ دہائی سے مرسڈیز بینز، آوڈی ، بی ایم ڈبلیو جیسے متعدد سخت حریفوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Top