ٹریفک پولیس کو ‘اپنی حفاظت آپ’ کے لیے اسلحہ کی فراہمی

KTP

کراچی میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کو ہدف بناکر قتل کیے جانے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد حکومت نے سفید وردی اہلکاروں کو اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹ تو فراہم کردی گئی ہیں لیکن اس سے مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ٹریفک پولیس کی حفاظت کے ضمن میں اٹھائے گئے اس اقدام کےصرف چند ہی گھنٹوں بعد ٹارگٹ کلنگ کا ایک اور واقعہ ہوا جس میں دو ٹریفک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاتھوں میں اسلحہ پکڑوا دینے یا بلٹ پروف جیکٹ پہنا دینے سے کسی کی حفاظت ممکن نہیں اور یہ مسئلہ مزید توجہ طلب ہے۔

اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹ فراہم کرنے کے فیصلے سے خود ٹریفک پولیس کے اہلکار زیادہ خوش نظر نہیں آتے۔ گلستان جوہر میں قائم پولیس اسٹیشن کے ہیڈ کانسٹیبل نے روزنامہ ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ

ان کے سیکشن کو ایک زنگ آلود پستول دی گئی ہے جس کے ساتھ صرف دو گولیاں ہیں۔ مجھے یہ بھی یقین نہیں کہ پستول چلانے کی صورت میں گولی باہر آئے گی بھی یا نہیں۔ اب آپ خود ہی بتائیں ایک پستول اور دو گولیوں کے ساتھ میرےسپاہی خود کو محفوظ کیسے سمجھیں گے؟

دوسری طرف اگر کراچی کے جنوب میں نظر ڈالیں تو وہاں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ ڈیفنس چوکی کی سیکشن افسر فہمیدا عباسی نے روزنامہ ایکسپریس کو بتایا کہ انہیں 14 پستولیں، 3 سب-مشین گنیں اور 10 بلٹ پروف جیکٹیں فراہم کی گئی ہیں۔ ہر پوائنٹ پر چار ٹریفک پولیس اہلکار موجود ہوتے ہیں جن میں سے ایک سب-مشین گن لے کر دیگر کی حفاظت پر معمور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 22 اے ایس آئیز اور 14 پستولیں تقسیم کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اے ایس آئیز دن کے مختلف حصوں میں کام کرتے ہیں اس لیے انہیں پستولیں تقسیم کرنے میں مسئلہ پیش نہیں آیا۔

کراچی میں ایک طویل عرصے سے ہدف بنا کر قتل کیے جانے کی وارداتیں ہوتی رہی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب ٹریفک پولیس کو بالخصوص نشانہ بنایا جا رہا ہو۔ یہاں سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایسا اچانک کیوں ہو؟ ایک ٹریفک پولیس اہلکار کے مطابق یہ چنگ چی کے خلاف ٹریفک پولیس کی کاروائیوں کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

Top