کیا جاپانی ویگن آر واقعی پاکستانی ویگن آر سے زیادہ اچھی ہے؟

Suzuki Wagon R

پاکستان میں دستیاب چھوٹی ہیچ بیک گاڑیوں پرنظر ڈالیں تو سوزوکی ویگن آر کافی نمایاں نظر آئے گی۔ پاک سوزوکی نے اب سے دو سال قبل 2014 میں ویگن آر کی تیاری کا آغاز کیا۔ منفرد انداز، اضافی اونچائی، وسیع کیبن اور پاور اسٹیئرنگ جیسی خصوصیات کی وجہ سے سوزوکی ویگن آر نے بہت جلد لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سوزوکی ویگن آر کی شکل میں پاکستانیوں کواپنی پسندیدہ ہیچ بیک ہیونڈائی سانترو کا متبادل حاصل ہوا ہے۔ البتہ سوزوکی ویگن آر کا معاملہ قدرے مختلف اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں مقامی تیار شدہ نئی ویگن آر کے علاوہ جاپانی ویگن آر بھی باآسانی دستیاب ہے۔

پاکستان میں تیار ہونے والی سوزوکی ویگن آر کے مقابلے میں جاپان سے درآمد کی جانے والی استعمال شدہ ویگن آر کئی اعتبار سے بہتر ہے۔ جن وجوہات کی بنا پر میں پاکستانی ویگن آر (WagonR) پر جاپانی ویگن آر (Wagon R) کو ترجیح دینا مناسب خیال کرتا ہوں ان میں سے چند یہ ہیں:

آٹومیٹک ٹرانسمیشن:

پاکستانی ویگن آر کے برعکس جاپانی ویگن آر میں مینوئل اور آٹو میٹک دونوں ہی گیئر باکس کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ مینوئل کے مقابلے میں آٹومیٹک ٹرانسمیشن کی حامل ویگن آر کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ شاہراہوں پر موجود ٹریفک کی ابتر صورتحال کو دیکھنے کے بعد لوگ مینوئل سے زیادہ آٹومیٹک گیئر ہی پسند کرنے لگے ہیں۔ میرے خیال سے پاک سوزوکی کو بھی مقامی تیار شدہ ویگن آر میں آٹو میٹک گیئر فراہم کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی ویگن آر کی نئی اشتہاری مہم پر عوامی ردعمل

suzuki-wagon-r-interior

انجن:

جاپانی ویگن آر میں 660cc انجن پیش کیا جاتا ہے جبکہ پاکستانی ویگن آر 1000cc کی حامل ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی ویگن آر جدید ٹیکنالوجی (جسے ہمارے استاد ‘semi-hybrid’ بھی کہتے ہیں) کی مدد سے شہری سفر میں ایندھن کی زیادہ بچت کرتی ہے۔ جبکہ پاکستانی ویگن آر میں شامل K10B انجن کی ٹیکنالوجی خاصی پرانی ہوچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جاپانی ویگن آر 18 سے 20 کلومیٹر فی لیٹر جبکہ پاکستانی ویگن آر صرف 15 کلومیٹر فی لیٹر کی مائلیج فراہم کرسکتی ہے۔

2014 Japanese Wagon R Engine

2014 Japanese Wagon R Engine

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایندھن کی بچت کا دار و مدار انجن پر ہے تاہم اگر آپ دونوں ہی ویگن آر کو چلا کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ جاپانی گاڑی کا 660cc انجن بھی کسی طور مقامی ویگن آر سے کم نہیں۔ یہ نہ صرف اچھی رفتار فراہم کرتا ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔

Suzuki K10B in a 2010 Suzuki Alto

Suzuki K10B in a 2010 Suzuki Alto

حفاظتی سہولیات:

چونکہ جاپان میں گاڑیوں کی تیاری عالمی معیار کے مطابق کی جاتی ہے اس لیے جاپانی ویگن آر میں بھی تمام بنیادی حفاظتی سہولیات بشمول ایئر بیگز، چور لاک وغیرہ موجود ہیں جو پاکستانی ویگن آر میں دستیاب نہیں۔ چونکہ بہت سے خریدار حفاظتی سہولیات کو سنجیدہ لینے لگے ہیں اس لیے پاک سوزوکی کو بھی اس حوالے سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دیگر خصوصیات:

اگر مقامی تیار شدہ ویگن آر کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ پاک سوزکی نے پیسے بچانے کے لیے اس میں بہت زیادہ کانٹ چھانٹ کی ہے۔ بظاہر یہ چیزیں معمولی نظر آتی ہیں لیکن ان سے پاکستانی ویگن آر میں سفر کا تجربے پر منفی اثر بڑا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا چاہیں تو مقامی ویگن آر کے ماڈلز پر نظر ڈال لیں۔ یہ جان پر آپ کو حیرت ہوگی کہ صرف مہنگے ترین ماڈل ہی میں آٹومیٹک ونڈوز موجود ہیں جبکہ دیگر تمام ماڈل مینوئل ونڈوز کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملٹی میڈیا سسٹم بھی زیادہ اچھا نہیں ہے۔

اس کے برعکس جاپانی ویگن آر کے اکثر ماڈلز میں بہتر ملٹی میڈیا سسٹم، چار پاور ونڈوز، بٹن سے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی سہولت، آرامدہ نشستوں سمیت بے شمار قابل تعریف چیزیں نظر آئیں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی ویگن آر میں پیش کی جانے والی بہت سی سہولیات پاکستانی ٹویوٹا کرولا XLi میں بھی پیش نہیں کی جارہیں جو قیمت میں اس سے زیادہ مہنگی ہے۔

ان تمام خصوصیات کو ایک طرف رکھ کر اگر صرف قیمت ہی کی بات کرلیں تو بھی جاپانی ویگن آر کا پلڑا بھاری نظر آئے گا۔ پاکستان میں تیار کی جانے والی سب سے بہترین ویگن آر VXL شوروم پر تقریباً 10,19,000 روپے میں دستیاب ہے۔ پھر اس میں اپنا پسندیدہ رنگ، اضافی وارنٹی، ٹیکس اور رجسٹریشن وغیرہ کی مد میں ادا کی جانے والی رقم شامل کریں تو حتمی قیمت اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ جبکہ جاپان سے درآمد کی جانے والی استعمال شدہ ویگن آر باآسانی ساڑھے دس سے گیارہ لاکھ میں مل جاتی ہے۔ یاد رہے کہ جاپانی ویگن آر روز مرہ استعمال کے دوران ایندھن کا خرچہ بھی بچاتی ہے۔ یوں جاپانی ویگن آر نہ صرف خریداری کے وقت بلکہ بعد میں بھی بچت کرنے میں مدد کرتی ہے۔

اس موازنے کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جاپانی ویگن آر واقعی پاکستانی ویگن آر سے زیادہ بہتر ہے۔ چاہے بات ہو آرامدہ سفر کی یا بنیادی خصوصیات کی یا کچھ اور۔۔۔ جاپانی ویگن آر کو مقامی ماڈل پر کئی اعتبار سے سبقت حاصل ہے۔ تاہم پاکستانی ویگن آر کو ترجیح دینے والے زیادہ تر افراد گاڑی کے نئے ہونے اور مقامی وارنٹی کو زیادہ بہتر خیال کرتے ہیں۔

آپ کے خیال میں ویگن آر کا کونسا ماڈل زیادہ موزوں ہے؟ تبصرے کے ذریعے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Student at a Business school. Passionate about cars.

  • Ali Raza

    Japanese 660cc cars are far better than all local assembled cars. I used Santro, Cultus, Mehran but then I bought Daihatsu Move. Which is far better than any other local assembled small car. I still miss its features and style even in a local sedan like Honda City.

  • Shoaib Raheem

    Some elements were missed including model of Japanese Wagon R introduced in Pakistan. Further, japanese cars are refurbished and if document is closely inspected spray and replacements may come to the notice. Further, 660cc engine provides a speed meter equal to Mehran so Power is again short not equal or better than Pakistani variant. Nobody has ever taken pain to check the air bags whether they are in working condition, which is again a risk of reliance on a second hand imported car. In addition to this spare parts are mostly an issue with imported cars. Another big issue is installation of CNG kit which does not work in 660cc engine. The cost of japanese cars for an imported used car is way high due to import duties and taxes and that is because government also wants to discourage the import.
    I am not the owner of Pakistani Wagon R but these issues came to my notice.

  • Hassan Mansoor

    If you even just look at them both, the japanese WagonR is better then the pakistani model. You can straightaway point out a local and imported wagon R from distance. In nutshell the imported model is far better due to superior quality and enhanced features.

Top