عام پاکستانی صارفین کی FAW سے وابستہ توقعات

pic03

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں دستیاب گاڑیوں کی تعداد بہت محدود ہے۔ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری سے قبل ایک عام صارف کے پاس بے شمار گاڑیوں کے انتخاب کا موقع حاصل تھا لیکن آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پچھلی دو دہائیوں کے درمیان بہت سے کار ساز اداروں نے پاکستان میں قدم جمانے کی کوشش کی تاہم بہت سی وجوہات کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اس کا خمیازہ بہرحال پاکستان میں گاڑیوں کے شوقین اور عام صارفین کو بھگتنا پڑ رہا ہے جن کے پاس لے دے کر صرف تین ہی اداروں کی گاڑیاں خریدنی پڑتی ہیں۔

90 کی دہائی کے اوائل میں پیلی ٹیکسی منصوبے (Yellow Cab Scheme) کے لیے بہت سی گاڑیاں درآمد ہوئیں جسے بعد میں لوگوں نے رنگ تبدیل کر کے نجی استعمال میں لینا شروع کردیا۔ ان میں ڈیوو ریسر اور ہیونڈائی ایکسل کا شمار مشہور سیڈان میں کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں 90 کی دہائی کے اواخر میں کِیا پرائیڈ پاکستان میں آئی تاہم چند ہی سالوں میں ادارے نے بوریا بستر لپیٹ کر واپسی کی راہ لی۔ سال 2000 میں دیوان موٹرز نے کِیا اور ہیونڈائی کی گاڑیاں ملک میں پیش کیں جنہیں کافی مقبولیت بھی حاصل ہوئی مگر اس کا دور بھی صرف 8 سال رہا اور دیوان نے ان گاڑیوں کی تیاری بند کردی۔ اسی طرح ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے کار کمپنی پروٹون بھی چند نئے اور پرانے ماڈلز کا امتزاج لے کر پاک سر زمین پر آئے لیکن صرف چند سالوں بعد واپس ہو لی۔ مزید برآں پچھلی دہائی کے دوران نسان سنی اور مٹسوبشی لانسر کے علاوہ چند استعمال شدہ اور پھر چینی گاڑیاں یہاں آئیں جن سے گاڑیوں کے خواہش مند افراد کو زیادہ بہتر انتخاب کا موقع میسر آیا۔

Faw-group-logo-1024x768

گو کہ عام طور پر چین کی مصنوعات کو زیادہ فوقیت نہیں دی جاتی تاہم گاڑیوں کے معاملے میں چینی کار ساز ادارے صارفین کا اعتماد جیتنے میں کامیاب کہے جاسکتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ چینی گاڑیوں کا معیار ہمارے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں سے کچھ کم ہی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی پیش کردہ گاڑیوں کی فہرست بھی کافی عجیب کہی جاسکتی ہے۔ شانگان کی اگر بات کریں تو انہوں نے گوناؤ وکٹر، چیری QQ اور گیلے CK سیڈان یہاں پیش کی گئی جو کہ آج باقی دنیا کو حاصل چینی گاڑیوں کے بالکل برعکس ہے۔ البتہ حال ہی میں FAW کی جانب سے چند اچھی گاڑیاں پیش کی گئی ہں جن میں XPV، سائیریس اور V2 شامل ہیں۔ چینی گاڑیوں میں انتہائی دلچسپی اور اسے قریب سے دیکھنے کے بعد میں نے اخذ کیا کہ سائیریس کے علاوہ باقی گاڑیاں زیادہ پرکشش نہیں ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ FAW فضول کمپنی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بہترین گاڑیاں یہاں پیش ہی نہیں کیں۔ دیگر چینی کار ساز اداروں کی طرح FAW کے پاس بھی بہت اچھی اور قابل ذکر گاڑیاں موجود ہیں جو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ مگر ہم اب تک ان مشہور و مقبول گاڑیوں سے محروم ہیں۔

نجی چینی کار ساز اداروں چیری اور گیلی کے مقابلے میں FAW ((First Automobile Work کچھ حوالوں سے منفرد ہے۔ مذکورہ نجی ادارے زیادہ تر مشہور گاڑیوں کی چینی نقل تیار کرتے ہیں جبکہ FAW ایک سرکاری کار کمپنی ہے جس کا شمار چین کے 4 بڑے کار ساز اداروں میں کیا جاتا ہے۔یہ سالانہ 27 لاکھ گاڑیاں تیار کرتی ہے جوبہرحال بہت بڑی تعداد ہے۔ ہمارےلیے FAW کی ایک اور خاص بات مصنوعات کا سند یافتہ ہونا ہے۔یہ ادارہ گاڑیوں کی دنیا کے بڑے ناموں آڈی، جنریل موٹرز، ووکس ویگن، ٹویوٹا اور مزدا کے ساتھ بھی کام کرتا رہا ہے۔ ان کی بہت سی گاڑیوں میں ان سرفہرست اداروں کی ٹیکنالوجیز استعمالی کی گئی ہیں۔ ژیالی، ریڈ فلیگ (ہوگ کی)، ہائما اور بیسٹرن کا شمار انہی گاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ اگر ہم تمام گاڑیوں کی بات کرنے بیٹھ جائیں تو بہت وقت صرف ہوجائے گا اس لیے ہم نے یہاں چند منتخب گاڑیوں سے متعلق لکھنے کا فیصلہ کیا۔آپ ان گاڑیوں کا مقابلہ مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں سے بھی کرسکتے ہیں۔

FAW اولی ہیچ بیک:

Oley_front
اولی سیڈان 2012 میں پیش کی گئی تھی۔ یہ دراصل ووکس ویگن جیٹا PQ32 پلیٹ فارم سے تیار ہونے والی گاڑی کی بہتر شکل ہے۔ بعد ازاں FAW نے اولی کا نام بطور برانڈ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس میں کئی ایک کم قیمت گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ اولی کی مختصر گاڑی یعنی ہیچ بیک اپنی ہی سیڈان کے مقابلے میں زیادہ خوب صورت تھی۔ بالکل ویسا ہی جیسے ٹویوٹا پلاٹز کے مقابلے میں ٹویوٹا وِٹز کو زیادہ اچھا تصور کیا جاتا ہے۔ اولی میں FAW کا تیار شدہ 1500 سی سی انجن شامل ہے جو 100 براک ہارس پاور اور 135 نیوٹن میر ٹارک پیدا کرتا ہے۔ یہ 5 اسپیڈ مینوئل اور 4 اسپیڈ آٹو ٹرانسمیشن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔FAW اولی ہیچ بیک کی قیمت 10,500 امریکی ڈالر سے شروع ہوتی ہے جو پاکستانی روپے میں 11,10,000 رقم بنتی ہے۔

FAW ہائما فیملی:

Haima_Family_1
ہائما بھی FAW کی پیش کردہ ‘فیملی‘ گاڑیوں کی برانڈ کا حصہ ہے جو مزدا 3 پلیٹ فارم سے تیار ہوئی۔ اس کا 1600 سی سی انجن 120 ہارس پاور اور 158 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے۔ یہ گاڑی 5 اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ ہائما فیملی کی قیمت 11,800 امریکی ڈالر سے شروع ہوتی ہے جو12,45,000پاکستانی روپے کے برابر ہے۔اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ گاڑی ہماری مارکیٹ کے لیے کتنی سازگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ہائما S5 SUV:

S5_02
ہائما S5 SUV چینی کار ساز ادارے کی قابل ذکر پیش کش ہے۔ اسے مختصر SUV شمار کیا جائے تو شاید زیادہ بہتر رہے گا۔ یہ گاڑی 1600 سی سی نیچرل اسپریٹڈ چار سلینڈر والے پیٹرول انجن کے ساتھ 120 ہارس پاور اور 160 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتی ہے۔ 5 اسپیڈ مینوئل والی یہ گاڑی صرف اگلے پہیوں کی مدد سے ہی چلتی ہے۔ اس کی قیمت 14 ہزار ڈالر ہے جو پاکستانی روپے میں 14,76,000 رقم بنتی ہے۔ یہی گاڑی 1500 سی سی ٹربو چارجڈ چار سلینڈر پیٹرول انجن کے ساتھ بھی دستیاب ہے جو CVT گیئرباکس کے ساتھ 163 ہارس پاور اور 223 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے۔ اس کی قیمت 16,700 ڈالر ہے جو تقریباً 17,62,000 پاکستانی روپے کے مساوی ہے۔ یہ گاڑی ان صارفین کے لیے بہترین ہے جو مختصر SUVرکھنا چاہتے ہیں یوں یہ پاکستانی مارکیٹ میں کِیا اسپورٹیج کا خلا بھی پُر کرسکتی ہے۔

FAW بیسٹرن B30:

B30_01
بیسٹرن B30 ایک چھوٹی سیڈان ہے جسے حال ہی میں FAW نے چین کی مقامی مارکیٹ میں پیش کیا ہے۔ اس کا مجموعی حجم تقریباً ٹویوٹا ویوس یا ہونڈا سِٹی کے برابر ہے۔ یہ ووکس ویگن بورا پلیٹ فارم سے تیار شدہ ہے اور اس میں ووکس ویگن کا 1600 سی سی چار سلینڈر والا پیٹرول انجن شامل ہے جو 109 براک ہارس پاور اور 155 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے۔ یہ گاڑی 5 اسپیڈ مینوئل اور 6 اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ اس کی قیمت 10,900 ڈالر سے شروع ہوتی ہے جو تقریباً11,50,000 پاکستانی روپے بنتی ہے۔

FAW بیسٹرن B50:

B50_01
بیسٹرن B50 اب سے کچھ عرصہ قبل پیش کی گئی اور اس نے بیرون ملک مارکیٹ میں کافی اچھی پیش رفت دکھائی۔ B50 مشہور زمانہ مزدا 6 پلیٹ فارم میں تیار ہوئی جو FAW کے ساتھ مزدا کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ اس گاڑی کا انجن 1600 سی سی ہے جو ووکس ویگن بورا سے لیا گیا ہے۔ اس کی قوت 106 ہارس پاور اور 145 نیوٹن میٹر ٹارک ہے جسے 5 اسپیڈ مینوئل یا 4 اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کی قیمت 14,500 ڈالر سے شروع ہوتی ہے جو 15,30,000 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ اگر اسے پاکستان مارکیٹ میں پیش کیا جائے تو یہ بلاشبہ ایسپائر اور آلٹِس 1600 کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

FAW بیسٹرن B70:

B70_01
بیسٹرن B70 کو بھی B50 کی طرح مزدا 6 پلیٹ فارم پر تیار کیا گیا ہے البتہ اس کا حجم تھورا زیادہ ہے۔ B70 دو انجنز کے ساتھ دستیاب ہے: ایک مزدا کی تیار کردہ چار سلینڈر پیٹرول انجن جو 143 ہارس پاور اور 185 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے اور دوسرا ووکس ویگن کا 1800 سی سی ٹربو انجن جو 186 ہارس پاور اور 235 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے۔ ووکس ویگن انجن کی حامل B70 کو ‘RS Sport’ کہا جاتا ہے۔ دونوں انجن 6 اسپیڈ مینوئل اور آٹو کے ساتھ دستیاب ہیں۔ B70 کی قیمت 15,600 ڈالر سے شروع ہوتی ہے اور اس کی 1800 اسپورٹس گاڑی کی قیمت 23,500 ڈالر تک جاتی ہے۔ یہ رقم پاکستان روپے میں تقریباً 16,46,000 سے 24,79,000 تک بنتی ہے۔ یہ گاڑی باآسانی 1800 سی سی ہونڈا سِوک اور کرولا آلٹِس گرینڈے کی متبادل ہوسکتی ہے۔

FAW بیسٹرن B90:

B90_02
اس گاڑی کا شمار FAW کی سرفہرست گاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ مزدا 6 پلیٹ فارم سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں 180 براک ہارس پاور فراہم کرنے والے 1800 سی سی ٹربو انجن کے علاوہ 204 براک ہارس پاور پیداکرنے والے 2000 سی سی ٹربوانجن بھی لگایا گیا ہے جو FAW اور ووکس ویگن کے مشترکہ منصوبے کے نتیجے میں سامنےآئے ہیں۔1800 سی سی ٹربو انجن کی حامل گاڑی کی قیمت 22,900 سے جبکہ 200سی سی ٹربو انجن والی گاڑی کی قیمت 31,700 ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔ پاکستانی روپے میں یہ رقوم بالترتیب 24,16,000 اور 33,44,000 بنتی ہیں اور انہیں دیکھتے ہوئے پاکستانی مارکیٹ میں ان کی کامیابی قدرے مشکل ہوسکتی ہے۔

FAW بیسٹرن X80 SUV:

X80_01
یہ گاڑی مزدا پلیٹ فارم پر تیار ہونے والی FAW گاڑیوں میں شامل ہے۔ اس میں 6 – اسپیڈ آٹو ٹرانسمیشن کے ساتھ 1800 سی سی ٹربو چارجڈ چار سلینڈر انجن لگایا گیا ہے جو 180 ہارس پاور اور 235 نیوٹن میٹر فراہم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں X80 147 ہارس پاور فراہم کرنے والے 2000 سی سی چار سلینڈر نیچرلی اسپریٹڈ پیٹرول انجن کے ساتھ بھی پیش کی جاتی ہے۔ اس گاڑی کی قیمت 18,800 ڈالر یعنی 19,83,000 روپے سے شروع ہوتی ہے اور 28,500 ڈالر یعنی 30,06,000 روپے تک جاتی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان گاڑیوں میں حفاظتی معیارات جیسے نشستوں کے سامنے ایئربیگز، اے بی ایس + ای بی ڈی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اگر آپ اپنی اور گاڑی میں سفر کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں تو یہ سہولیات کسی بھی قیمت سے زیادہ ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں پیش کی گئی گاڑیوں کی فہرست صرف ان گاڑیوں کی ہے جو FAW کی قابلیت کا مظہر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ FAW ان گاڑیوں کو پاکستان میں متعارف کروانے اور زبردستی تشہیری مہم کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کرنے پر غور کرے۔ اچھی سروس اور بعد از فروخت سہولیات کی فراہمی سے صارفین کا اعتماد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی عوام ہمیشہ تبدیلی اور بہتری کے خواہاں رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ FAW کی گاڑیوں کو بھی خوش دلی سے قبول کیا جائے گا۔ یوں گاڑیوں کے شعبے کا رنگ رنگ ماضی ایک بار لوٹ سکتا ہے اور موجودہ ترنگی صورتحال میں مزید رنگوں کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

Usman Ansari

An automotive enthusiast associated with the animation industry since 15 years having worked with leading organizations and production facilities across Pakistan.

Top