گاڑیوں کی درآمد سے متعلق عمومی سوالات کے جوابات

import-cars

مجھے امید ہے کہ ہمارے قارئین پاکستان میں گاڑیاں منگوانے سے متعلق کافی کچھ جان چکے ہوں گے۔ ہم نے جاپان سے گاڑیاں درآمد کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ہی مضامین کا یہ سلسلہ شروع کی تھی۔ اس ضمن میں ہمیں بہت سے سوالات موصول ہوئے جن کے جوابات آج ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے کہ ہم قارئین کے سوالوں کی طرف جائیں، تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ان مضامین کو پڑھنا مفید رہے گا:
جاپان سے گاڑی درآمد کرنے کا مرحلہ وار طریقہ
گاڑیاں درآمد کرنے سے متعلق چند اہم باتوں کی وضاحت

آئیے، اب اپنے قارئین کے سوالوں کی طرف چلتے ہیں۔

سوال: گفٹ اسکیم کیا ہے؟ کیا کسی گاڑی کو گفٹ اسکیم کے تحت درآمد کیا جاسکتا ہے؟
جواب: بیرون ملک رہنے پاکستانیوں کے لیے گفٹ اسکیم متعارف کروائی گئی تھی جس کے تحت وہ پاکستان میں رہنے والے اپنے خاندان کو گاڑی بطور تحفہ بھیج سکتے ہیں۔ اس اسکیم کے ذریعے عام مسافر گاڑی بھیجی جاسکتی ہے جن میں 4×4 گاڑیاں، بسیں، ٹرک وغیرہ شامل نہیں۔ گاڑی کا ماڈل تین سال سے زیادہ پرانا نہیں ہونی چاہیے۔ گفٹ اسکیم کو استعمال کرنے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ پچھلے تین سالوں کے دوران کم از کم 700 دن سے زائد عرصہ پاکستان سے باہر رہا ہو۔ گاڑی صرف مستقل رہائشی پتہ رکھنے والے خاندان کے فرد ہی کو بھیجی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ:
– والدین اپنے بالغ بچوں کو
– بالغ بچے اپنے والدین کو
– خاوند اپنی بیوی / بیوی اپنےخاوند کو
– بہن اپنے بھائی یا بہن کو
– بھائی اپنی بہن یا بھائی کو

سوال: میں پاکستان واپس آرہا ہوں، کیا میں اپنی گاڑی بھی ساتھ لاسکتا ہوں؟
جواب: جی ہاں۔ تارکین وطن کے لیے ممکن ہے کہ ‘منتقلی رہائش اسکیم’ (Transfer of Resident Scheme) کے تحت وہ اپنی گاڑی پاکستان لے آئیں۔ اس اسکیم کے تحت صرف مسافر گاڑیاں ہی ساتھ لائی جاسکتی ہیں جن میں 4×4 گاڑیاں، بسیں، وین اور ٹرک وغیرہ شامل نہیں۔ گاڑی کا ماڈل تین سال سے زیادہ پرانا نہیں ہونی چاہیے۔ درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ درخواست کی تاریخ سے قبل تین سال کے عرصے میں کم از کم 700 دن بیرون ملک رہا ہو۔

سوال: کیا تین سال سے زیادہ پرانی گاڑی درآمد کی جاسکتی ہے؟
جواب: قانونی اعتبار سے ایسی کوئی بھی گاڑی درآمد نہیں کی جاسکتی جسے تین سال سے پہلے تیار کیا گیا ہو۔ البتہ بسوں، ٹرک اور چند دیگر بڑی گاڑیوں پر لاگو ہونے والی حد 5 سال ہے۔

سوال: میں ایک سال بیرون ملک تعلیم حاصل کرتا رہا اور اب واپس پاکستان آرہا ہوں۔ کیا میں اپنی گاڑی ساتھ لا سکتا ہوں؟
جواب: درآمدی تجارت و ضابطہ عمل میں شامل Appendix-G کی شق 2 کے مطابق کوئی بھی ایسا طالب علم گاڑی درآمد نہیں کرسکتا جس کے تعلیمی اخراجات پاکستان سے بھیجے گئے ہوں۔ اگر آپ دوران طالب علمی پاکستان سے رقم نہیں منگوا رہے تو آپ گاڑی درآمد کرسکتے ہیں۔

سوال: جاپانی گاڑی خریدنے سے پہلے مجھے کیا دیکھنا چاہیے؟
جواب: سب سے پہلے آپ کو جاپانی گاڑی کی آکشن شیٹ دیکھنی چاہیے۔ اس میں گاڑی کی تمام تفصیلات درج ہوں گی۔ اگر آپ آکشن شیٹ نہیں سمجھ سکتے تو میرے پچھلے مضامین ضرور پڑھیں:
جاپانی آکشن شیٹ کی تفصیل اور وضاحت
جاپانی گاڑیوں کی آکشن شیٹ کے گریڈز

سوال: کیا فروخت کرنے والا جعلی آکشن شیٹ بھی دے سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو ہم اس کی تصدیق کیسے کریں؟
جواب: جی ہاں، میرے مشاہدے میں 90 فیصد کیسز ایسے سامنے آئے کہ جن کی آکشن شیٹ میں رد و بدل کیا گیا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ گاڑی خریدنے سے قبل آکشن شیٹ کی تصدیق ضرورکریں۔ اس کا مکمل طریقہ کار جاننے کے لیے یہ مضمون پڑھیں:
درآمد شدہ جاپانی گاڑیوں کی آکشن شیٹ کی آن لائن تصدیق کا طریقہ

سوال: کیا گاڑی بغیر انجن کے درآمد کی جاسکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، گاڑی کو انجن کے بغیر درآمد کرنا ممکن ہے۔ تاہم اس پر قوانین اور درآمدی ڈیوٹی اتنی ہی لاگو ہوگی کہ جتنی انجن کی حامل گاڑی منگوانے پر عائد ہوتی ہے۔

سوال: اگر میں کراچی کی بندرگاہ پر درآمدی ٹیکس ادا نہ کروں تو کیا ہوگا؟
جواب: کراچی کی بندرگاہ پر درآمدی ٹیکس ادا کرنے کی مہلت 3 ماہ ہے۔ اگر اس عرصے میں ادائیگی نہ کی گئی تو گاڑی کو نیلام کردیا جائے گا۔

سوال: جاپان سے کراچی سفر کے دوران گاڑی کو نقصان پہنچنے کا ذمہ دار کون ہوگا؟
جواب: اگر آپ اپنی گاڑی خود ہی منگوا رہے ہیں تو کسی اچھے ادارے سے گاڑی کا بیمہ (insurance) کروا کر جاپان سے پاکستان منگواسکتے ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ پر گاڑی پہنچنے پر گاڑی کی جانچ کیجیے اور نقصان کی صورت میں بیمہ ادارے سے رابطی کرلیں۔ گاڑیوں کے نیلامی گھروں کے علاوہ گاڑیاں برآمد کرنے والے دیگر جاپانی ادارے بھی بیمہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

اگر آپ اس موضوع کے بارے میں مزید کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو اس مضمون کے نیچے موجود تبصرہ خانے میں سوال شامل کردیں۔ میں کوشش کروں گا کہ تمام قارئین کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دے سکوں۔ آخر میں بتاتا چلوں کہ آپ پاک ویلز کے ذریعے بھی اپنی من پسند گاڑی درآمد کرسکتے ہیں۔

Shaf Younus

I'm an Auto Enthusiast, a Student of Computer Science and above all, Citizen of Pakistan.

Top